صادق سنجرانی سینیٹ کے چیئرمین، سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں متحدہ اپوزیشن کی جیت ہوئی ہے۔
نئے چیئرمین کے لیے ہونے والے انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار صادق سنجرانی نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو شکست دی۔
چیئرمین کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی نے 57 ووٹ حاصل کیے جبکہ راجہ ظفر الحق 46 ووٹ حاصل کر سکے۔
صادق سنجرانی نے جیت کے بعد چیئرمین سینیٹ کے عہدے کا حلف اٹھایا جس کے بعد ایوان میں ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہوا۔
ڈپٹی چیئرمین کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا تھے جنھوں نے حکمراں اتحاد کے امیدوار عثمان خان کاکڑ کو شکست دی۔ عثمان کاکڑ کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلیم مانڈوی والا کو 54 ووٹ ملے جبکہ عثمان کاکڑ 44 ووٹ حاصل کر سکے۔
ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں متحدہ قومی موومنٹ کے پانچ سینیٹرز نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
منتخب ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ڈپٹی چیئرمین سے حلف لیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ردعمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے صادق سنجرانی کو جیت پر مبارک باد کی ٹویٹ کی اور اسے وفاق کی جیت قرار دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اسی بات کو دہرایا اور کہا کہ ہم بلوچستان کی عوام کے لیے خوش ہیں۔
خیال رہے کہ نو منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا نام ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے مشترکہ امیدوار کے طور سامنے آیا تھا۔
اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی انھیں چیئرمین کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تاہم مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ سینیٹ کے انتخاب میں ملنے والی فتح دراصل ان جماعتوں کی شکست کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
سینیٹ کا اجلاس پیر کی صبح شروع ہوا جس کی صدارت سینیٹر یعقوب خان ناصر نے کی جنھیں صدرِ مملکت کی جانب سے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس اجلاس میں حالیہ انتخابات میں منتخب ہونے والے 52 میں سے 51 سینیٹرز نے حلف اٹھایا۔
سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے حلف برادری کےلیے نہیں آئے۔
ان کے علاوہ نااہل سینیٹر نہال ہاشمی کی جگہ منتخب ہونے والے سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف نے بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تین مارچ کو سینیٹ کی 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 15 نشستیں حاصل کی تھیں اور یوں اب ایوانِ بالا میں وہ 33 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔
سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے 20 جبکہ تحریکِ انصاف کے 12 سینیٹرز ہیں جبکہ آزاد سینیٹرز کی تعداد 17 ہے۔
اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پانچ، پانچ، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) کے چار، جماعت اسلامی کے دو جبکہ اے این پی، مسلم لیگ فنکشنل اور بی این پی مینگل کا ایک، ایک سینیٹر ایوان میں موجود ہے۔












