وزیرستان اور تربت میں فوجیوں پر حملے، افسر سمیت دس ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پاکستانی فوج پر ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق سنیچر کو پاکستانی فوجیوں کو شمالی وزیرستان اور تربت کے نزدیک نشانہ بنایا گیا اور مرنے والوں میں ایک کپتان اور نو سپاہی شامل ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی دعائیں اور ہمدردیاں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایس پی آر کے مطابق سنیچر کو شمالی وزیرستان کے علاقے گرباز میں پیش آنے والے پہلے واقعے میں پاک افغان سرحد کے نزدیک سرحد پار سے پاکستانی فوج کی ایک گشت کرنے والی پارٹی پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چھ فوجی ہلاک ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ہلاک ہونے والوں میں حوالدار خالد، سپاہی نوید، سپاہی بچل، سپاہی علی رضا، سپاہی ایم بابر اور سپاہی احسن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سنیچر کو ہی بلوچستان کے ضلع کیچ میں تربت اور وشاپ کے درمیان ایف سی بلوچستان کے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جو کہ ’کومبنگ آپریشن‘ میں مصروف تھے۔
اس حملے میں کیپٹن عاقب کے علاوہ نادر، عاطف، الطاف اور حفیظ اللہ نامی سپاہی ہلاک ہوئے۔
ان واقعات کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کے دفاع اور سکیورٹی کو یقینی بنائے گی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اب استحکام حاصل کرنے کے بعد پائیدار امن کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس دوران یہ (حملے) مایوس دشمن کی دم توڑتی کوششیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ دنیا علاقائی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
وزیرستان میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی میں ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب بلوچستان میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے قبول کی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی شمالی وزیرستان میں سرحد پار سے پاک فوج کی بارڈر پیٹرولنگ پارٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی مذمت کی ہے۔انھوں نے اس واقعے پر ’رنج و غم اور افسوس کا اظہار‘ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج نے مادر وطن کے کے تحفظ اور دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ افغانستان اپنے علاقے میں شدت پسندوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں سے روکے۔









