ڈیرہ اسماعیل خان خود کش حملہ: چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک، 24 زخمی

خود کش حملہ

،تصویر کا ذریعہAdil Waqar

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آئے شدت پسندی کے دو مختلف واقعات میں چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان سلیم ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح پہلے ڈیرہ ٹاؤن پولیس سٹیشن کی حدود میں واقع کوٹلہ سیداں چیک پوسٹ پر موجود دو پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کر کے ہلاک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈی پی او کے مطابق بعد ازاں جب ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی لاشیں لے کر ایمبولینس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے ٹراما سینٹر پہنچی تو وہاں پہلے سے موجود مبینہ برقع پوش خاتون حملہ آور بیٹھی ہوئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق جب پولیس اہلکار اور مقامی افراد ایمبولینس کے قریب اکھٹے ہوئے تو مبینہ حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

سلیم ریاض کے مطابق ’خود کش حملے میں پانچ افراد بشمول ایلیٹ فورس کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوئے جبکہ سات پولیس اہلکاروں سمیت 24 افراد زخمی ہیں۔‘

خود کش حملہ

،تصویر کا ذریعہAdil Waqar

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکے میں لگ بھگ سات کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ دھماکے کی جگہ سے ایک خاتون کے بال اور پیر ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور خاتون تھیں یا نہیں یہ جاننے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا۔

ڈی پی او کے مطابق خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں کانسٹیبل ہدایت اللہ اور کانسٹیبل خالد خان شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق شدت پسندی کے پہلے واقعے میں کوٹلہ سیداں چیک پوسٹ پر ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں جہانگیر اور انعام شامل ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان نے ڈی آئی خان میں ہوئے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے ان حملوں میں سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اپنے ایک بیان میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے دعوی کیا ہے کہ حملوں کا مقصد ڈی آئی خان میں 23 جون کو ہلاک ہونے والے ایک طالبان شدت پسند کی ہلاکت کا بدلہ لینا تھا۔