قبائلی علاقوں مں انتخابات: تحریک انصاف کو سبقت

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں ضم ہونے کے بعد ہونے والے پہلے صوبائی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے مطابق آزاد امیدواروں نے چھ نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حصے میں پانچ نشستیں آئیں ہیں۔
مجموعی طور پر 16 نسشتوں پر ہونے والے انتخابات میں جمعیت علما اسلام (ف) نے تین جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے ایک،ایک حلقے میں کامیابی حاصل کی۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر 16 میں سے 15 نشستوں کے غیر حتمی نتائج جاری کیے گئے ہیں جن کے مطابق ان انتخابات میں مجموعی ٹرن آؤٹ 25 فیصد رہا۔
قبائلی اضلاع میں تقریباً 28 لاکھ ووٹرز کا اندراج ہے جن میں ساڑھے 16 لاکھ مرد اور 11 لاکھ سے زائد خواتین ہیں۔
تمام اضلاع میں ڈالے گئے ووٹوں کے اعتبار سے تقریباً 30 فیصد مردوں نے ووٹ ڈالے لیکن خواتین میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف 17 فیصد رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سب سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی شرح پی کی 109 کرم ایجنسی میں دیکھنے میں آئی جہاں 40 فیصد ٹرن آؤٹ تھا جبکہ سب سے کم پی کے 107، خیبر ایجنسی میں دیکھنے میں آئی جہاں صرف 17 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ سے بات کرتے ہوئے پشتونوں کی حقوق کی آواز بلند کرنے والی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما سید عالم زیب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی جانب سے نہ کوئی امیدوار کھڑا کیا گیا تھا اور نہ ہی کسی کی باضابطہ طور پر حمایت کی گئی تھی۔
لیکن اس کے باوجود غیر اعلانیہ طور پر بھی لوگ ان امیدواروں کو پی ٹی ایم کا ہم خیال سمجھتے ہوئے ووٹ ڈالتے رہے جن میں پی کے 112 میں جیت حاصل کرنے والے میر کالام وزیر اور پی کے 113 میں عبدل وحیداللہ شامل ہیں۔
انتخابی عمل کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ضلع باجوڑ سے سینئر صحافی بہاؤالدین کا کہنا تھا کہ انھیں کسی علاقے سے ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی کہ کہیں کوئی دھاندلی یا کوئی ایسی کوشش ہوئی ہو جس سے پولنگ ایجنٹس یا امیدواروں کو کوئی شکایت ہوئی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پولنگ کا عمل پر امن رہا اور لوگوں نے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے ہیں۔

البتہ چند حلقوں سے شکایات بھی موصول ہوئیں۔
ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے ایک سرکاری سکول میں قائم خواتین کے پولنگ سٹیشن کے باہر عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیدار یہ شکایت کرتے نظر آئے کہ پولنگ سٹیشن کے اندر خاصہ دار اہلکار من پسند امیدواروں کے ووٹرز کو اندر آنے کی اجازت دے رہے ہیں جبکہ ان کے ووٹرز کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر اجمل خان وزیر کا اس بارے میں کہنا تھا کہ یہ اہم نہیں ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک جمہوری عمل ہے جو قبائلی علاقوں میں شروع ہوا ہے اور وہ ان تمام امیدواروں کو اسمبلی میں خوش آمدید کہیں گے جو کامیاب ہوں گے۔









