’عوامی عدالت جج کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور ان کی طرف سے کیے جانے والے فیصلوں سے متعلق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ اگر کوئی جج متنازع ہو جائے تو اس کے فیصلے فوری طور پر کالعدم قرار دے دیے جائیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو چیزیں ابھی تک سامنے آئی ہیں ان میں سے چند چیزوں کا جج ارشد ملک نے اقرار کیا ہے اور چند باتوں سے انکار کیا ہے اس پر جامع تحقیقات ہونی چاہیں کیونکہ اس کی بڑی سزا بھی ہو سکتی ہے جس میں ان کی برطرفی بھی شامل ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان پر الزامات ثابت ہو جائیں تو ان کے فیصلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ یہ مقدمہ کتنا سنگین ہے اس کا فیصلہ تو اعلیٰ عدالت ہی کرے گی۔
رشید اے رضوی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینا کا انحصار ایپلٹ کورٹ پر ہے کہ وہ کس انداز سے اور کس حد تک لے جاتی ہے کیا وہ اس کو مس ٹرائل قرار دیتی ہے یا ری ٹرائل کا حکم دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا ’اس کا دارومدار اپیل کنندہ یعنی مسلم لیگ ن پر بھی ہے کہ کیا وہ اس معاملے کو اعلیٰ عدالت لے کر جاتے ہیں کیونکہ انھوں نے ابھی تک اس معاملے کو اعلیٰ عدالت کے دائرہ کار میں پیش نہیں کیا ہے۔ اپیل کنندہ کا تو موقف ہے کہ انھوں نے اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں دے دیا ہے۔ لہذا اب عوامی عدالت تو جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔`
انھوں نے مزید کہا ’مسلم لیگ کا کام تھا عدلیہ کو بدنام کرنا وہ، وہ کر رہے ہیں جبکہ ان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہRehan Dashti
نیب کے سابق ایڈشنل پراسیکوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کے مطابق ایسے کسی بھی جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جہاں ایک طرف ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا سنائی ہے وہی فلیگ شب ریفرنس میں انھیں بری بھی کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اگر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کے جج سزا سناتے ہوئے دباؤ میں تھے تو پھر جس مقدمے میں سابق وزیر اعظم کو رہائی ملی تو اس وقت جج کی ذہنی کیفیت کیا تھی کیونکہ دونوں فیصلے ایک ہی دن سنائے گئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے بیان حلفی کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنا دیا ہے اور مجرم نواز شریف کی طرف سے اس مقدمے میں بریت کی درخواست میں زیر غور لایا جائے گا۔
نیب کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کی سزا کو بڑھانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں ہیں۔
شعیب شاہین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے جج کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے یہی ثبوت کافی ہے کہ انھیں جب ملزم پارٹی کی طرف سے مبینہ طور پر رشوت کی پیش کش کی گئی تو انھوں نے اس سے متعلق سپروائزری جج کو اس بارے میں کیوں نہیں بتایا۔
واضح رہے کہ عمومی طور پر احتساب عدالتوں کی نگرانی متعقلہ ہائی کورٹ کرتی ہیں۔ لیکن میاں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں دائر ریفرنس کی نگرانی سپریم کورٹ کے جج اعجاز الاحسن کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ارشد ملک کے خلاف تحقیقات کرنے یا انھیں ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کریں گے کیونکہ ارشد ملک لاہور سے ڈیپیوٹیشن پر اسلام آباد آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
شعیب شاہین کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ بریت سے متعلق مجرم نواز شریف کی درخواست کے بارے میں بھی اپنا فیصلہ دیتے ہوئے ملک ارشد کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ عدالت عالیہ نواز شریف کے خلاف دیے گئے احتساب عدالت کے فیصلے سے متعلق کسی اور جج کو بھی حکم دے سکتی ہے کہ موجودہ شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے کا دوبارہ فیصلہ تحریر کرے۔
انھوں نے کہا کہ عدالتی تاریخ میں ایسی مثالیں بھی موجود ہے جب کسی جج کے کنڈکٹ کی وجہ سے کسی مقدمے کا ری ٹرائل کیا گیا اور سنہ 2001 میں سابق صدر آصف علی زرداری کا مقدمہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔
نیب کے سابق ایڈشنل پراسیکوٹر جنرل عامر عباس کا کہنا ہے کہ جب کسی عدالت کے جج کی طرف سے کوئی فیصلہ آجائے تو اس کے بعد اسے متنازعہ بنا دیا جائے یا وہ اپنے رویے کی وجہ سے متنازعہ ہو جائے تو اعلیٰ عدالتوں میں اس فیصلے کے خلاف اپیلوں میں جج کا رویہ زیر بحث نہیں آتا۔ بلکہ اس کے دیے گیے فیصلے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ارشد ملک نے بطور احتساب عدالت کے جج کے جتنے بھی فیصلے کیے ہیں وہ برقرار رہیں گے۔ عامر عباس کا کہنا تھا کہ اگر العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں دی جانے والی سزا کے بارے میں یہ مقدمہ ری ریمانڈ کر دیا جاتا ہے تو پھر فلیگ شپ ریفرنس کو بھی ری ریمانڈ کر دینا چاہیے جس میں میاں نواز شریف کو بری کیا گیا تھا۔
عامر عباس کا کہنا تھا کہ ملک ارشد کو چاہیے تھا کہ جب انھیں دھمکیاں یا رشوت کی پیشکش ہوئی تھی تو فوری طور پر اس مقدمے سے الگ ہو جاتے۔
انھوں نے کہا کہ ارشد ملک کے جج کے عہدے سے ہٹنے کے باوجود مجرم نواز شریف کو اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک اعلیٰ عدالت اس فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس فیصلے کے خلاف نیا عدالتی فیصلہ نہیں آجاتا اس وقت تک نواز شریف جیل میں ہی رہیں گے۔











