ویڈیو سکینڈل: وزارت قانون کا جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روکنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہRehan Dashti
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزارت قانون کے حکم کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو کام سے روکے جانے کے حکم پر پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ 'معاملہ کسی جج کو فارغ کرنے کا نہیں، اس کے فیصلے کو فارغ کرنے کا ہے۔'
دوسری جانب سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اس درخواست کی سماعت 16 جولائی کو کرے گا۔ اس مبینہ ویڈیو کے خلاف درخواست ایک مقامی وکیل کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جج ارشد ملک کو ہٹائے جانے کی سفارش کرنے کے خط کے سامنے آنے اور حکومتی نمائندوں کی پریس کانفرنس پر رد عمل دیتے ہوئے بعد مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے متعدد پیغامات میں کہا کہ جج ارشد ملک کے 'فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور نواز شریف کو انصاف فراہم کرتے ہوئے کسی تاخیر کو بغیر رہا کیا جائے۔'
اُدھر پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر، نواز شریف کے بھائی اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر اپنے بیان میں کہا کہ احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلہ کالعدم ہو چکا ہے اور جج کے منصب سے ہٹنے کے بعد نوازشریف کو فی الفور رہا کیا جائے۔
بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو جیل میں ایک منٹ بھی رکھنا اب غیر قانونی ہے، ویڈیو اور اس سے جڑے تمام حقائق سچ ثابت ہوگئے ہیں۔ جج ہٹانے کے بعد نواز شریف کو جیل میں رکھنے کا جواز بھی ختم ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہTwitter
جج ارشد ملک کو وزارت قانون رپورٹ کرنے کا حکم
وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک فوری طور پر مزید کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور انھیں محکمہ قانون کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد میں وزیر قانون فروغ نسیم نے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے موصول خط میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی اور پریس ریلیز کے تناظر میں جج ارشد ملک کواحتساب عدالت نمبر 2 کے جج کے عہدے سے سبکدوش کردیا جائے اور اپنے لاہور ہائی کورٹ کو رپورٹ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان حلفی کے بارے میں وزیر قانون نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق جج ارشد ملک پر ہر قسم کا دباؤ تھا لیکن پاکستان اور نیب کے قانون کے تحت کوئی بھی شخص کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کی سزا الگ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 31 اے کہتا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص انصاف کی راہ، تحقیقات، یا عدالتی فیصلے میں رکاوٹ بنتا ہے تو اس پر 10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔
اسی بارے میں مزید پڑھیے
'ارشد ملک نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے'
وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ یہ کیس نہ موجودہ حکومت نے بنایا اور نہ ہی اس کی تحقیقات اس حکومت نے کی۔
'اگر نواز شریف کے کیس میں اتنا دباؤ تھا تو پھر تو انھیں دونوں کیسز میں سزا ہوجاتی لیکن جج نے انھیں ایک کیس میں بری کردیا جبکہ ایک میں سزا سنائی۔'
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پریس ریلیز اور بیان حلفی دیکھنے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ ارشد ملک نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف اپیل کو اسلام آباد ہائی کورٹ دیکھ رہا ہے اور جب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا، اس وقت تک وزارت قانون، نیب یا کوئی بھی کیس کے بارے میں مزید کارروائی نہیں کرسکتا۔
انھوں نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو کرنا ہے اور اس دوران کوئی سزا بڑھائی یا کم نہیں کی جاسکتی۔
'جہاں تک وزارت قانون، حکومت کا تعلق ہے ہم انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نہ کسی کے خلاف ہیں نہ کسی کے حق میں ہیں لیکن یہ نہیں ہونے دیں گے کہ عدالت پر دباؤ ڈالا جائے۔'
فروغ نسیم کے ساتھ موجود معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جج ارشد ملک کے بیان حلفی میں وہی لفظ لکھا ہوا ہے جو پاناما کے فیصلے میں تھا اور وہ لفظ 'مافیا ' کا تھا۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ جج کا تقرر بھی اپنے مقاصد کے لیے کروایا جاتا ہے، لہٰذا یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ تقرر کیسے ہوا اور اس میں کون ملوث تھے کیونکہ اس عدالت کے لیے تقرر میں وزیر قانون، سیکریٹری قانون، وزیر اعظم کا دفتر بھی شامل ہوتا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا خط، جج ارشد ملک کو ہٹانے کی سفارش
اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اُنھیں ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے وزارتِ قانون کو خط لکھا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق جمعے کے روز وزارتِ قانون کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس لی جائیں۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے گذشتہ برس سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔
ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج متنازعہ ہو گئے تھے تاہم موجودہ وفاقی حکومت مذکورہ جج کے دفاع میں پہلے سامنے آئی اور پھر اُنھوں نے سپریم کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی۔
وزارت قانون کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے جو سفارش موصول ہو گی اس پر عمل کیا جائے گا۔
احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک نے جمعے کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کی اور اُنھیں منظرعام پر آنے والی ویڈیو کے بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق ارشد ملک نے اس ضمن میں اُنھیں اپنے موقف پر ایک بیان حلفی دیا جس میں انھوں نے ان ویڈیو کی تردید کی اور کہا کہ اس طرح کی ویڈیو نہ صرف ایڈیٹ کی گئی ہیں بلکہ ان کی شہرت کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی کے ساتھ سات جولائی کو اس ویڈیو سے متعلق جاری کی گئی اپنی پریس ریلیز کو بھی لف کیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق عدالتِ عالیہ کے رجسٹرار اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے احتساب عدالت کے جج کے بیان کا جائزہ لینے کے بعد وزارتِ قانون کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں بطور جج احتساب کورٹ ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس لینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔
پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے علاوہ منی لانڈرنگ کے اہم مقدمات کی سماعت بھی ارشد ملک کی عدالت میں ہو رہی ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’اگر ایک جج مس کانڈٹ (ضابطہ کار کی خلاف ورزی) کا مرتکب پایا گیا ہے اور اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تو اس مس کانڈکٹ کا نشانہ بننے والے کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے؟‘









