تربیلا جھیل حادثہ: حکام نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کر دی، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

جھیل

،تصویر کا ذریعہASIF JAH

،تصویر کا کیپشنمقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت حادثے کے شکار افراد کی مدد کر رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع تربیلا جھیل میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے سے متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ہری پور کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تربیلا جھیل میں کشتی الٹنے کا واقع بدھ کے روز دوپہر ایک بجے کے قریب پیش آیا۔

’ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں تقریباً 35 سے 40 افراد سوار تھے۔ کشتی کالا ڈھاکہ سے ہری پور جا رہی تھی جب یہ ویلج کونسل برگ میں داخلی کیہ کے مقام پر طغیانی کے باعث الٹ گئی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈپٹی کمشنر ہری پور کے مطابق اب تک ہونے والی امدادی کارروائیوں کے نتیجے میں تین بچوں کی لاشیں پانی سے نکالی گئیں ہیں جبکہ دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

’لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے جبکہ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔‘

اس سے قبل مقامی تھانے کے ایس ایچ او تنویر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی پر سوار افراد میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ڈوبنے والے افراد مقامی دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔

جھیل

،تصویر کا ذریعہASIF JAH

،تصویر کا کیپشنبعد ازاں امدادی کارکن بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئے

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہری پور بیداللہ شاہ کا کہنا تھا کہ مقامی افراد تربیلا جھیل کے اس راستے کو نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے جبکہ پانی کا بہاؤ بھی زیادہ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی امدادی ٹیموں کے علاوہ تربیلا جھیل کے آرمی سٹیشن پر موجود غوطہ خور بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ نوشہرہ، ہری پور، پشاور اور دیگر اضلاع سے بھی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ رہی ہیں۔

کشتی ڈوبنے کے مقام پر موجود شہری ولی رحمان نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ کشتی پر سوار مویشیوں کے بدکنے کی وجہ سے کشتی نے توازن کھویا اور وہ الٹ گئی۔

ان کے مطابق اس حادثے کے بعد مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والے افراد نے موقع پر پہنچ کر 15 افراد کو پانی سے باہر نکلنے میں مدد کی جبکہ کچھ لوگ خود تیر کر باہر نکل آئے۔

ان کے مطابق اس واقعے میں ڈوبنے والے افراد کے لواحقین بھی جائے حادثہ پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

جھیل

،تصویر کا ذریعہASIF JAH

،تصویر کا کیپشنضلع توغر کے ناظم نوروز خان کے مطابق اگرچہ حادثہ صبح کے وقت پیش آیا تاہم دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارکن موقع پرنہیں پہنچ سکے

صحافی محمد زبیر کے مطابق توغر اور اس کے قریبی علاقوں کے لوگ موسمِ گرما میں تربیلا جھیل میں پانی آنے کے بعد ہری پور تک رسائی کے لیے کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پانی پر سفر کا دورانیہ سڑک کے مقابلے میں کم ہے۔

ضلع توغر کے ناظم نوروز خان نے محمد زبیر کو بتایا کہ انھیں مقامی افراد نے مطلع کیا ہے کہ اگرچہ حادثہ صبح کے وقت پیش آیا تاہم دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارکن موقع پرنہیں پہنچ سکے ہیں۔

نوروز خان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ معلومات بھی نہیں ہیں کہ کون لوگ کشتی میں سوار تھے اور ان کا تعلق کن علاقوں سے تھا۔

نوروز خان کے مطابق کشتی پر ایک ہی خاندان کے چودہ افراد بھی سوار تھے جس میں سے صرف ایک آدمی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ محفوظ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کشتیوں پر لوگ اپنے مویشیوں کو بھی خریدوفروخت کی غرض سے ساتھ لے جاتے ہیں۔

جھیل

،تصویر کا ذریعہASIF JAH

،تصویر کا کیپشنآرمی کے غوطہ خور بھی ڈوبنے والے افراد کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں

مقامی تھانے کے ایس ایچ او تنویر خان کا کہنا ہے کہ جس جگہ کشتی ڈوبی اس کے اردگرد پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں تک کا زمینی راستہ بہت دشوار گزار ہے جبکہ کشتی میں بھی وہاں پہنچنے میں چار سے پانچ گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔

ہری پور کے ریسکیو 1122 کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کے تین گھنٹے بعد بھی کوئی امدادی ٹیم جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی تھی۔

ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے فوج سے مدد بھی طلب کی گئی ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق فوج کی امدادی ٹیم بذریعہ ہیلی کاپٹر روانہ کر دیا گیا ہے۔