عاطف مشعل: ’افغان امن عمل کابل کی ہم آہنگی کے بغیر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا‘

- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر انگلینڈ اور ویلز میں کھیلے جا رہے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 سے متاثر نظر آتے ہیں۔
اگرچہ افغان کرکٹ ٹیم نے ابھی تک اس ورلڈ کپ میں کوئی میچ نہیں جیتا لیکن اپنی جانفشانی کی وجہ سے افغان اس میدان میں بھی اب زیر بحث آ گئے ہیں۔
شاید اسی لیے عاطف مشعل خطے کے پیچیدہ مسائل کا حل بھی کرکٹ کی اصلاحات میں ہی تلاش کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں تعینات 32 سالہ سفیر شکر اللہ عاطف مشعل نے ایک خصوصی انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں ’پچ‘ کے ساتھ ساتھ اچھی ’کنڈیشنز‘ زیادہ ضروری ہیں۔ ایشیا میں وہ ’فرنٹ فٹ‘ پر کھیلتے ہیں اور انگلش کنڈیشنز میں ’بیک فٹ‘ کو فوقیت دیتے ہیں۔
اُن کے مطابق اُن کی کوشش ہو گی کہ پاکستان کی ’پچ‘ پر ’فرنٹ فٹ‘ پر کھیلیں، اس اُمید کے ساتھ کہ اعتماد کی فضا اور بھی مضبوط ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان امن عمل
افغان سفیر شکر اللہ عاطف مشعل کا کہنا ہے کہ ’افغان امن عمل میں افغان حکومت اور اُن کی ہم آہنگی کے بغیر نہ صرف کامیاب نہیں ہو سکتے، بلکہ امن عمل میں فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔‘
حال ہی میں روس کے شہر ماسکو میں ہونے والے بین الا افغان کانفرنس کی مثال دیتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جس کانفرنس میں بھی افغان حکومت کی نمائندگی نہیں ہو گی وہ ماسکو کانفرنس کی طرح کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو گی۔
گذشتہ سنیچر کو مری کے پرفضا مقام بُھوربن میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں 50 سے زیادہ افغان سیاستدانوں اور زعما نے شرکت کی تھی۔
عاطف مشعل کے مطابق اس کانفرنس میں افغان حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا۔ اگرچہ اس کانفرنس انھوں نے خود بھی شرکت کی تھی لیکن اُن کے مطابق اُن کی یہ شرکت غیر رسمی تھی۔ تاہم اُن کے مطابق افغان حکومت امن عمل میں خلوص کے ساتھ کوششیں کرنے والوں کی ممنون ہے۔
کابل کا دوحہ مذاکرات پر ردعمل
امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے افغان سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور دونوں افغان امن عمل کے لیے مشترکہ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
عاطف مشعل کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی خواہش ہے کہ افغان امن عمل ہر ممکن طور پر کامیاب ہو اور افغان عوام کو سنہ 1990 کی دہائی کی طرح ان تلخ تجربات سے دوبارہ نہ گذرنا پڑے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’افغان حکومت کھلے دل سے افغانستان کی مخدوش صورت حال کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ طالبان اور ان کے حامی بھی کھلے دل سے یہ سوچھیں کہ وہ افغانستان کی شورش کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
افغانستان میں گذشتہ 17 سال سے جاری شورش کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کے طالبان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد اور طالبان دونوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور جون کے آخر میں دوحہ میں شروع ہو گا۔
طالبان رہنماؤں کی اگرچہ کئی افغان سیاست دانوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں تاہم وہ افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملنے سے مسلسل انکاری ہیں۔
خود افغان حکومت پر بھی یہ تنقید ہو رہی ہے کہ انھوں نے امن مذاکرات میں اپوزیشن کے سیاست دانوں کو اپنے ساتھ نہیں ملایا اور اسی لیے افغان سیاست دان حکومتی نمائندوں کے بغیر افغان امن عمل سے متعلق کانفرنسز میں شریک ہو رہے ہیں۔
عاطف مشعل سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت نے ان مذاکرات میں ایک پیج پر ہونے کے لیے ’لویہ جرگہ‘ بلایا تھا جس میں افغان عوام کے تین ہزار سے زیادہ نمائندوں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ حکومت کو تجاویز اور مشورے بھی دیے۔ ’میرے خیال میں افغان حکومت نے اپنی ذمہ داری صحیح نبھائی ہے اور جتنے بھی افغانستان کے سیاست دان ہیں اُن سے اس بارے میں صلاح مشوروں کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاک افغان تعلقات میں پیش رفت
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے افغان سفیر کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
’گذشتہ چھ ماہ سے دو طرفہ تعلقات اچھے جا رہے ہیں، ہمیں مزید بہتری کی اُمید ہیں لیکن یہ سب کچھ عملی اقدامات پر منحصر ہے کہ دونوں جانب سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے کیسے اقدامات اُٹھائے جاتے ہیں۔‘
افغان صدر اشرف غنی 27 جون کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر دو روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے۔
افغان سفیر کے مطابق اس دورے میں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی کی صورت حال پر بات ہوگی بلکہ تجارت سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اُمور پر بھی بات چیت ہو گی۔









