پشاور کا گورا قبرستان: ایسا قبرستان جس کی ہر قبر تاریخ کا ایک باب ہے

،ویڈیو کیپشنپشاور کا تاریخی گورا قبرستان
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور میں واقع برطانوی دور کا ایک تاریخی قبرستان اس وقت تجاوزات کی زد میں ہے جہاں تاریخ آہستہ آہستہ مٹی کی تہ در تہ گہرایوں میں دفن ہوتی جا رہی ہے۔

گورا قبرستان پشاور میں پرانی تاریخی قبریں مسمار ہوتی جا رہی ہیں یا ان پر نئی قبریں بننے سے پرانی قبریں منوں مٹی تلے دفن ہو جاتی ہیں اور اس وجہ سے یہاں بعض اوقات انسانی ہڈیاں بھی برآمد ہوتی ہیں۔

البتہ اب بھی چند قدیم قبریں زمانے موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ قبرستان زبوں حالی کا شکار ہے۔ تجاوزات اور نئی قبروں کی وجہ سے پرانی قبریں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ قبرستان کا کچھ حصہ سڑک کی توسیع کی زد میں بھی آ چکا ہے۔ مقامی مسیحیوں کی اس قبرستان میں تدفین کا سلسلہ دو عشرے پہلے شروع ہوا تھا اور اب بھی جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی قبروں کی کھدائی میں خالی جگہیں تلاش نہیں کی جاتیں بلکہ پرانی منہدم قبروں پر ہی نئی قبریں بنا دی جاتیں ہیں۔

پشاور کے گورا قبرستان کو اس حوالے سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس قبرستان میں برطانوی دور کی ایسی شخصیات کی بھی قبریں ہیں جو افغانستان کے ساتھ جنگ یا مختلف قبائل کے ساتھ جھڑپوں یا تشدد کے دیگر واقعات میں ہلاک ہوئے تھے۔

ہر قبر تاریخ کا ایک باب

یوں تو ہر قبرستان اور قبرستان میں ہر قبر کی اپنی ہی ایک کہانی ہوتی ہے لیکن گورا قبرستان ایک ایسی تاریخی کتاب کی طرح ہے جس کی ہر قبر تاریخ کا ایک باب ہے۔

قبرستان

ہر قبر پر تفصیل درج ہے، اس قبر میں کون دفن ہے، کب فوت ہوا، کیسے فوت ہوا، کس نے قبر بنوائی اور اس نے کیا کارنامے سر انجام دیے تھے۔

پشاور میں غیر مسلم افراد کے لیے تین مزید قبرستان ہیں جن میں سے ایک قبرستان تہکال کے علاقے میں ایئر پورٹ کے رن وے کے ساتھ ہے۔

یہ گورا قبرستان سنہ 1853 میں قائم ہوا تھا۔ گورا قبرستان میں داخل ہوں تو ماضی کے دریچے کھلتے جاتے ہیں۔

اس گورا قبرستان کا ذکر تاریخی کتب اور ٹریول گائیڈز میں بھی ملتا ہے۔ پشاور میں سیاحوں کے لیے جہاں دیگر اہم مقامات کی تصویریں اور نقشے ہیں ان میں گورا قبرستان کے بارے میں معلومات بھی درج ہیں۔

برطانیہ میں اس قبرستان کے بارے میں کتابچے چھپ چکے ہیں جن میں قبرستان کا مکمل نقشہ اور اس قبرستان میں دفن برطانوی فوجیوں اور دیگر افراد کا ذکر ہے۔

قبرستان
،تصویر کا کیپشنایک قبر کے کتبے سے پتا چلتا ہے کہ اس میں دفن شخص لیفٹیننٹ جارج رچمنڈ ہیں جو سنہ 1863 میں سوات میں یوسفزئی قبیلے کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے

اس قبرستان کے بارے میں مکمل تحقیق کرنے والے ٹورگائیڈ علی جان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی قبرستان کو محفوظ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے چند ایک اہم قبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان قبروں میں مدفون افراد کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔

ایک قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ جارج رچمنڈ کی قبر ہے جو لیفٹیننٹ تھے اور سنہ 1863 میں سوات میں یوسفزئی قبیلے کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔ یہ بہت اہم ایک مہم ہے انبیلا پاس کی جو کہ ایگل نیسٹ پکٹ اور فیک پکٹ کے نام سے بھی مشہور ہے۔‘

علی جان نے بتایا کہ میجر جنرل چیمبر لینڈ نے اس مہم کی قیادت کی تھی۔

’اس مہم کے لیے انھوں نے کسی سے مشاورت نہیں کی تھی اور تنہا فیصلہ کرتے ہوئے فوجیوں کے ہمراہ سوات پہنچ گئے تھے۔ اس مقام پر مقامی قبائل کے ساتھ جھڑپ میں برطانوی فوج کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور اطلاعات کے مطابق اس میں ایک ہزار برطانوی فوجی مارے گئے تھے۔‘

ایک قبر پر پشتو اور فارسی زبان میں دفن شخص کے بارے میں پیغام کندہ کیا ہے۔ یہ قبر ازیڈور لیونتھال کی ہے جنھوں نے اپنا یہودی مذہب ترک کرکے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا اور پشاور میں انھوں نے عیسائیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی۔

انھوں نے انجیل کی ایک جلد کا پشتو میں ترجمہ کیا تھا اور پشتو کی ڈکشنری بھی ترتیب دی تھی۔ انھیں ان کے چوکیدار نے 27 اپریل 1864 کو قتل کردیا تھا۔

قبرستان
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں اس قبرستان کے بارے میں کتابچے چھپ چکے ہیں جن میں قبرستان کا مکمل نقشہ اور اس قبرستان میں دفن برطانوی فوجیوں اور دیگر افراد کا ذکر ہے

اس قبرستان میں لیفٹیننٹ سر رچرڈ واربرٹن کی قبر بھی ہے جنھوں نے پہلی اینگلو افغان جنگ میں حصہ لیا تھا۔

رچرڈ واربرٹن نے افغانستان کے بادشاہ امیر دوست محمد کی بھانجی سے شادی کی تھی۔ ان کے صاحبزادے رابرٹ باردرٹن نے اس علاقے میں مقامی فورس خیبر رائفل کی بنیاد رکھی تھی۔ رچرڈ واربرٹن سنہ 1863 میں انتقال کر گئے تھے۔

سینٹ جارج میڈوو شبقدر میں قبائل کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ رابرٹ رائے ایڈم جو ڈپٹی کمشنر پنجاب تعینات ہوئے تھے پشاور میں زخمی ہوئے اور پھر اسی زخم سے ہلاک ہو ئے تھے۔

ان کی قبریں بھی اسی قبرستان میں ہیں۔

اس قبرستان میں مختلف مقامات پر ہلاک ہونے والے افراد یا اہم واقعات کی یادگاریں بھی قائم کی گئی ہیں۔ یہاں دفن وہ گورے بھی شامل ہیں جنھیں اعزازات یا اعلی عہدے دیے گئے تھے۔

قبرستان
،تصویر کا کیپشنیہاں مدفون برطانوی فوجیوں میں وہ افسران بھی ہیں جنھیں اعزازات یا اعلی عہدے دیے گئے تھے

اس قبرستان کے ایک حصے میں دو درجن کے قریب ایسی قبریں ہیں جو دو سے تین دنوں میں بنائی گئیں اور ان کے ہلاک ہونے کی وجہ انفلوئنزا نامی ایک بیماری کندہ کی گئی ہے۔

اسی قبرستان میں گوڈین فیملی کی قبریں بھی ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان، اور ٹانک میں قائم مشنری ہسپتال میں ایک عرصے تک گوڈین فیملی کے افراد مقامی لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرتے رہے اور ان علاقوں میں بزرگوں کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ علاج کے لیے ان کے پاس جاتے تھے۔

پشاور کے پانچ بڑے سیاحتی مقامات میں خیبر پاس کے علاوہ گورا قبرستان کا بھی شمار کیا جاتا تھا جسے دیکھنے بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے۔

لیکن ماضی میں گھنے درختوں اور سبز پودوں اور پھولوں سے لدا یہ قبرستان اب مختلف مقامات سے ویران ہو چکا ہے۔