جعلی بینک اکاؤنٹس کیس: پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو کن الزامات کا سامنا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو نے انھیں گرفتار کرلیا ہے۔
نیب نے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں اس حوالے سے عبوری ریفرینس بھی دائر کر رکھا ہے۔ آصف زرداری کا نام صرف ایک ریفرنس میں بینیفشری کے طور پر سامنے آیا ہے تاہم ٹرائل کورٹ نے ابتدائی سماعتوں کے باوجود ابھی تک ان پر فرد جرم عائد نہیں کی ہے۔
زرداری پر الزامات ہیں کیا؟
منی لانڈرنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اُس وقت سامنے آیا جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔ ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا، مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں آصف زرداری کا نام شامل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش بھی کر دی۔
جے آئی ٹی کے بعد ایک بار پھر سپریم کورٹ کے حکم پر نیب نے اس مقدمے کی دو ماہ تک تفتیش کی جس میں آصف زرداری اپنے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو سمیت تفیشی افسران کے سامنے پیش ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آصف زرداری نے تفتیشی ٹیم کے سامنے موقف اختیار کیا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں شامل نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔
اس کے برعکس اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق انکوائریز سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی گئیں اور پانچ انکوائریز اور تین انویسٹی گیشنز میں مبینہ طور پر آصف زرداری کا کردار سامنے آیا ہے۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ ’یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکاؤنٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی۔‘
نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کے اب تک صرف ایک کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیب کے مطابق ایف آئی اے نے حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا کو گذشتہ برس گرفتار کیا۔ ان پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے، جن کے ذریعے مبینہ طور پر آصف زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی۔
زرداری کے اکاؤنٹس میں مبینہ طور پر مشکوک منتقلی کی تفصیلات
ایف آئی اے کے مطابق دس ماہ کی قلیل مدت میں مبینہ طور پر ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی۔ ان میں بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کے داماد زین ملک کا نام بھی سامنے آیا جنھوں نے مبینہ طور پر 75 کروڑ کی رقم مشکوک اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ نیب کی رپورٹ میں مزید رقم جمع کرانے والوں کے نام بھی شامل ہیں جو کراچی کی بینکنگ کورٹ سے اب اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔
انور مجید کے مبینہ جعلی اکاونٹس
ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں 4 ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندہی کی ہے، جس سے مبینہ طور پر مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق زرداری گروپ کو جس کے مالک آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں، ایک کروڑ کی منتقلی ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قرضے اور کک بیکس کے الزامات
سندھ میں 2017 میں گنے کے کاشتکاروں اور شوگر مل مالکان میں کشیدگی کے وقت بھی انور مجید کا نام سامنے آیا تھا۔ سندھ میں شوگر ملز کی اکثریت کے مالک انور مجید ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا گروپ بھی بعض ملز کا مالک ہے۔ کاشتکاروں کا الزام تھا کہ حکومت مل مالکان کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے جب صنعتوں کو مالی مراعات فراہم کیں تو 50 فیصد صنعتیں جعلی بینک اکاؤنٹس مقدمے کے اہم ملزم انور مجید کی تھیں۔
پارک لین کیس کیا ہے؟
نیب کا دعویٰ ہے کہ ادارے نے آصف زرداری اور بلاول کے خلاف انکوائری الزامات کی بنیاد پر شروع کی جن میں کہا گیا کہ پنجاب فورسٹ لینڈ کی زمین کو سی ڈی اے نے غیر قانونی طور پر پارک لین اسٹیٹ کو ٹرانسفر کیا۔ پارک لین اسٹیٹ پرائیوٹ لمیٹڈ کراچی کی ایک ریئل سٹیٹ کمپنی ہے جو آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے نام پر ہے۔
اس کیس میں سابق صدر اور بلاول بھٹو نیب کے سامنے تفتیش کے لیے پیش ہوچکے ہیں۔ اس کمپنی کے بارے میں آصف زرداری کے وکیل کہتے ہیں کہ یہ کمپنی انھوں نے 31جولائی 1989 میں خریدی تھی۔ آصف زرداری کی طرف سے موجود وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ بلاول کا اس کیس سے براہِ راست کوئی تعلق اس لیے نہیں بنتا کیونکہ جب یہ کمپنی وجود میں آئی تو اس وقت بلاول کی عمر ایک سال تھی۔
آصف زرداری کے وکیل نے بتایا کہ وہ کمپنی کے عہدے سے 2008 میں دستبردار ہوگئے تھے اور بلاول کا اس کمپنی کے روزمرہ معاملات سے نہ کوئی تعلق تھا اور نہ ہی اب ہے۔











