منی لانڈرنگ کیس: ’مزید 33 اکاؤنٹس سے رقم بیرون ممالک منتقل کی گئی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے علاوہ دیگر افراد کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کیے گئے۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اب تک کی تحقیقات میں 334 ملوث افراد سامنے آئے ہیں اور تمام افراد ان اکاؤنٹس میں ترسیلات کرتے رہے۔
اس کے علاوہ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ افراد نے ان جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رکھے۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ 47 ایسی کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے جن کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے۔
اس کیس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ سے استفسار کیا کہ کیا ابھی ان لانچوں کا معلوم نہیں ہوا جن کے ذریعے رقم بیرون ممالک منتقل کی گئی؟
اس پر احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ ٹیم ابھی لانچوں تک نہیں پہنچی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کا مقصد یہی ہے کہ چوری اور حرام کے پیسے کو جائز بنایا جائے۔
عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ سے استفسار کیا کہ اس معاملے میں ایک اہم کردار عارف خان بھی ہے جس پر احسان صادق نے بتایا کہ وہ بیرون ملک ہے۔ تاہم اُنھوں نے عدالت کو یہ نہیں بتایا کہ مذکورہ شخص کس ملک میں ہے۔
جے آئی ٹی کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ منی لانڈرنگ سے وابستہ جتنے بھی کردار اس وقت بیرون ممالک میں ہیں، ان کو وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے ریڈ وارنٹ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ تحقیقات کے لیے نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور سٹیٹ بنک سے ریکارڈ حاصل کیے جا رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جعلی اکاؤنٹس میں کنٹریکٹرز نے رقم جمع کرائی ہے، جس پر اس تین رکنی بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ 'کیا رقم کراس چیک کے ذریعےاکاؤنٹس میں جمع ہوئی؟
اس پر احسان صادق نے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کا جائزہ لینا پڑے گا۔
چیف جسٹس کے استفسار پر جے آئی ٹی کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ اومنی گروپ کی 16 شوگر ملز ہیں۔ بینچ کے سربراہ نے پوچھا کہ ’اومنی گروپ کسی کا بےنامی دار تو نہیں؟‘
اس کے جواب میں جے آئی ٹی کے سربراہ نے کہا کہ جعلی بینک اکاؤٹس میں رقم جمع کروانے والے ٹھیکیدار بھی تھے، سرکاری ٹھیکیداروں کے نام بھی رپورٹ کا حصہ بنا دیے گئے ہیں تاہم تمام ترسیلات کا جائزہ لینا مشکل کام ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’کیوں نہ جے آئی ٹی کا خرچہ اومنی گروپ پر ڈالیں دیں؟‘
عدالت کا کہنا تھا کہ ’پیسہ کوئی اور کھائے اور خرچہ سرکار کیوں کرے۔‘ جس پر وکیل اومنی گروپ کے وکیل نے جواب دیا کہ ہمارے تمام اکاؤنٹس منجمد ہیں، پیسے نہیں دے سکتے۔
سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کو حکم دیا کہ اومنی گروپ کے اکاؤنٹس کھولنے کی درخواست پر فیصلہ نہ دے۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن 3 کے تحت سپیشل کورٹ کو حکم جاری کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ خصوصی عدالت جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق سپریم کورٹ کو آگاہ کیے بغیر کوئی حکم جاری نہ کرے۔
عدالت نے اومنی گروپ کے سربراہ عبدالمجید اور ایک اور ملزم کو جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں ملزمان علاج کی غرص سے کراچی کے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ اس مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری کے اثاثوں سے متعلق جمع کروائے گئے بیان حلفی کو مسترد کرتے ہوئے نیا بیانِ حلفی جمع کروانے کا حکم دے چکی ہے۔
سابق صدر نے اس عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔













