جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا صدرِ پاکستان کو دوسرا خط: ’میرے خلاف مخصوص مواد پھیلایا جا رہا ہے‘

جسٹس عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس دائر ہونے کی تفصیلات جاننے کے لیے صدرِ پاکستان کے نام ایک اور خط لکھا ہے، جس میں انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا وزیرِ اعظم عمران خان کے نزدیک اپنے خاندان والوں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانا لازم ہے۔

پانچ صفحات پر مشتمل اس تفصیلی خط میں جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے پہلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے صدر عارف علوی سے کہا ہے کہ ان کی اور وزیراعظم کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف ریفرنس کی کاپی فراہم کی گئی ہے۔

اپنے خط میں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھییں خبروں کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس وزیرِاعظم کے مشورے پر بھیجا گیا ہے اور انھوں نے کہا ہے ’تو کیا میں یہ سمجھوں کے محترم وزیرِاعظم نے بھی اپنی بیویوں اور بچوں کے تمام اثاثے اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ یقیناً اس بِنا پر میرے خلاف ریفرنس آپ کو نہ بھیجتے۔‘

مزید پڑھیے

خط کا متن

جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین کے آرٹیکل 209 کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ جسمانی یا پھر ذہنی طور پر کام کرنے سے معذور نہیں ہیں اور شاید ریفرنس کی وجہ ’مِس کنڈکٹ‘ یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے اپنے تازہ خط میں صدر سے پوچھا ہے کہ کیا اسی آرٹیکل کے تحت ان کے خلاف شواہد صدر کو دکھائے گئے جن کی بنیاد پر انھوں نے اسے مِس کنڈکٹ قرار دیا؟

جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق اس سے پہلے کہ انھیں اس ریفرنس کی کاپی موصول ہوتی اور وہ اس کا جواب دیتے، ان کے خلاف ایک مہم چلا دی گئی۔

انھوں نے الزام لگایا کہ وزیر قانون، وزارت اطلاعات کے سینئر ارکان اور دیگر حکومتی ارکان ریفرنس کے مخصوص حصے کی دستاویزات پھیلا رہے ہیں۔

’جناب صدر، کیا یہ مناسب رویہ ہے اور کیا یہ آئین سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا ریفرنس سے متعلق مخصوص مواد پھیلا کر اور گفتگو کر کے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہو رہے؟‘

ان کا کہنا تھا: ’وہ حکومتی ارکان جو یہ سمجھتے ہیں کہ مجھ پر دباو ڈال کر وہ مجھے میرے حلف کے برخلاف کام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں غلطی پر ہیں‘

انھوں نے صدر سے یہ سوال بھی کیا کہ آیا انھوں نے وزیراعظم کی تجویز پر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ ’میں صرف یہ تصور ہی کرسکتا ہوں کہ الزام لندن کی تین جائیدادوں کے بارے ہیں۔‘

جسٹس عیسیٰ کا موقف ہے کہ یہ جائیدادیں ان کی بیوی اور بچوں کے نام پر ہیں۔ ان کے بچے کم سن نہیں اور ان کی کفالت کی ذمہ داری ان پر نہیں۔

انھوں نے کہا کہ جائیدادوں کو کسی بھی طرح چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، نہ ہی یہ جائیدادیں کسی ٹرسٹ یا کسی آف شور کمپنی کی ملکیت ہے۔

سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشناتوار کو وزارتِ قانون اور وزیرِاعظم آفس میں اثاثہ جات کی واپسی کے لیے قائم کیے گئے یونٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انھیں تین فاضل ججوں کی غیر ملکی جائیدادوں کے حوالے سے شواہد موصول ہوئے

وزیرِاعظم سے موازنہ

اپنے خط میں سپریم کورٹ کے جسٹس نے صدر سے یہ بھی پوچھا کہ ’کیا اس بات کی جانچ کی گئی کہ وزیر اعظم نے اپنی بیویوں اور بچوں کے اثاثہ جات گوشواروں میں ظاہر کیے؟‘

انھوں نے صدر سے کہا ہے کہ ’کیا آپ وزیر اعظم سے کہیں گے کہ وہ اپنے گوشوارے مجھے فراہم کریں جن میں انھوں نے اپنے اہل خانہ کی بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیلات دی ہوں؟‘

جسٹس فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ ’میں پاکستان کے ٹیکس قوانین پر مکمل طور پر عمل کرتا ہوں، ان جائیدادوں بارے مجھے کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ نہ ہی میری بیوی اور بچوں کی جائیدادوں بارے کوئی نوٹس موصول ہوا۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھ پر کوئی حکومتی ٹیکس واجب الادا نہیں ہے۔‘

خط کے آخر میں انھوں نے کہا کہ ’جب آئینی ڈھانچے کی بار بار خلاف ورزی ہوتی ہے تو جمہوریت آٹوکریسی (یعنی استبدادی نظامِ حکومت) کی طرف کھسکنا شروع ہو جاتی ہے اور عوامی حکومت بھی عامریت پسند بن جاتی ہے۔‘

غیر ملکی جائیدادیں

اس سے قبل وزارتِ قانون اور وزیرِاعظم آفس میں اثاثہ جات کی واپسی کے لیے قائم کیے گئے یونٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انھیں تین فاضل ججوں کی غیر ملکی جائیدادوں کے حوالے سے شواہد موصول ہوئے تھے، جنھیں وزارتِ قانون کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

مراسلے کے مطابق دیگر سرکاری اداروں (بشمول ایف بی آر، ایف آئی اے اور نیب) کے ذریعے ان اطلاعات کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد وزارت نے برطانوی ہائی کمیشن کے ذریعے ان اثاثوں کی ملکیت کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیے

بیان کے مطابق یہ معلومات صدر، وزیرِاعظم، اٹارنی جنرل اور وزارتِ قانون کی رضامندی پر دو ریفرنسز کی صورت میں پاکستان کی سپریم جوڈیشل کاؤنسل کے سامنے رکھی گئیں۔

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ججوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 29 مئی کی صبح پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے کچھ ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے۔

زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے اپنے استعفے میں سپریم کورٹ کے جج کا نام شامل نہیں کیا بلک نظر ثانی کی درخواست کا ذکر ہے اور اس کا نمبر دیا گیا ہے جو گزشتہ ماہ دائر کی گئی۔ نظرثانی کی یہ درخواست فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔