’اربوں کی پراپرٹی تباہ اور انٹیلی جنس ایجنسی کو معلوم ہی نہیں کہ خادم رضوی کیا کرتا ہے‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں دو رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی جس میں عدالت نے آئی ایس آئی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'غیر تسلی بخش' قرار دیا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مبنی بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود سے پوچھا کہ اس رپورٹ میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کے بارے میں مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں اور وہ کیسے اس رپورٹ پر مطمئن ہو سکتے ہیں۔

'عدالت نے پوچھا تھا کہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے، خادم رضوی کا ذریعہ معاش کیا ہے، کیا وہ سکول ٹیچر ہے، کاروبار کر رہا ہے یا چندے پر چلتا ہے؟ '

اس بارے میں مزید پڑھیے

نامہ نگار عابد حسین کے مطابق جسٹس فائز عیسی نے آئی ایس آئی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ 'اربوں کی پراپرٹی تباہ کردی گئی ہے اور پریمیئرانٹیلی جنس ایجنسی کو معلوم ہی نہیں کہ خادم رضوی کیا کرتا ہے۔'

'پریمیئرانٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ کے بعد ملکی تحفظ کیلئے خوف آنے لگا ہے۔'

محکمہ دفاع کے نمائندے کرنل فلک ناز نے عدالت کو بتایا کہ خادم حسین رضوی خطیب ہیں اور ان کی سیاسی جماعت ہے جو چندے سے چلتی ہے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ 'آپ یہ لکھ کر دے دیتے کہ خادم رضوی دوسروں کے پیسے پر پل رہا ہے۔'

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ وزارت دفاع بھی عدالت کی طرح عوام کو جوابدہ ہے۔

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق پیمرا سے دس روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے اور ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت کی روک تھام کرنے سے متعلق اٹارنی جنرل سے بھی رپورٹ طلب کی ہے۔

کیس کی سماعت اب دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال نومبر میں تحریک لبیک پاکستان نے تین ہفتے تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا

واضح رہے کہ گذشتہ سال انتہائی دائیں بازو کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017 میں توہین رسالت سے متعلق قوانین میں تبدیلی پر احتجاج کرنے کے لیے نومبر میں دارالحکومت اسلام آباد کو دھرنا دے کر مفلوج کر دیا تھا۔

تین ہفتے تک جاری رہنے کے بعد حکومت نے دھرنے کے خلاف آپریشن کیا جس کے بعد مظاہروں میں اربوں روپوں کی پراپرٹی کو نقصان پہنچا تھا اور کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد فوج کی ثالثی میں فریقین کے درمیان چھ نکاتی معاہدہ طے پایا تھا۔