فیض آباد دھرنا: ’آپریشن اس مسئلے کا آخری حل ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر داخلہ نے ایک بار پھر مذہبی جماعتوں سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آپریشن اس مسئلے کا آخری حل ہو گا جس کے لیے فورسز تیار ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کے عادل شاہ زیب کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ پر امن طریقے سے اس مسئلے کا حل ہو جائے اور اگر انتظامی ایکشن بھی لینا پڑے تو کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو۔ ’ہمیں معلوم ہے کہ ان کی صفوں میں شر پسند لوگ موجود ہیں جن کے پاس اسلحہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس تنازعے کو کسی طرح ماڈل ٹاؤن والا حادثہ بنائیں۔‘
اس سے قبل اتوار کی سہ پہر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ دھرنا دینے والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک و قوم کی خاطر دھرنا ختم کر دیں۔
انھوں نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملے پر مظاہرین کی آواز بھرپور طریقے سے سنی جا چکی ہے اور پارلیمان نے اس معاملے پر موثر اور سخت قانون سازی کر دی ہے۔
احسن اقبال نے کہا ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو ہر ممکن طور پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر ضد اور انا کی بنیاد پر اسے طول دیا گیا تو پاکستان کے سکیورٹی ادارے اس کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ‘
وزیر داخلہ نے واضح کیا ’آپریشن اس مسئلے کا آخری حل ہو گا۔‘
راولپنڈی اور اسلام آباد پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا عدالتی حکم نامے کے باوجود برقرار ہے اور بظاہر حکومت اور مظاہرین اپنے اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفرالحق نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی رات ڈھائی بجے تک فیص آباد دھرنے کے پرامن حل کے لیے ان کی رہائش گاہ پر لبیک یا رسول اللہ، حکومتی اراکین اور تقریبآً 20 علما و مشائخ کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان ملاقاتوں کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ انھیں امید ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کر لیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ مذہبی جماعتوں کا دھرنا 24 گھنٹے میں ختم کیا جائے اور اب وہ مہلت بھی ختم ہو چکی ہے، احسن اقبال نے کہا کہ وہ عدالت سے درخواست کریں گے کہ ہمیں مزید وقت دیا جائے تاکہ اس مسئلے کو پرامن طریقے سے ختم کیا جا سکے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ پر امن طریقے سے دھرنا ختم نہیں کرتے اور ضد پر اڑے رہتے ہیں تو ہمیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کے لیے انتظامی اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ہم کل (پیر کو) ملک بھر سے علما کا ایک اجلاس بھی بلا رہے ہیں تاکہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے پہلے حکومت اور مذہبی جماعتوں کے درمیان اسلام آباد میں جاری دھرنا ختم کروانے کے لیے مذاکرات کے تین دور مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔
بی بی سی سے اتوار کی صبح بات کرتے ہوئے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما شفیق امینی نے ان خبروں کی تردید کی کہ ان کی جماعت وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے حوالے سے کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ کریں گے۔
انھوں نے بتایا ’ابھی ہماری مجلسِ شوریٰ کی ملاقات ہو رہی ہے۔ بنیادی مطالبہ جوں کا توں برقرار ہے اور پیر آف گولڑہ جو ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔‘
حکومتی جماعت کے رہنما راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دھرنے کے منتظمین سے راستہ کھولنے کو کہا گیا تاہم انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ آپ ہماری بات اسی وجہ سے تو سن رہے ہیں کیونکہ ہم نے راستہ بند کر رکھا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے الیکشن سے متعلق حلف نامے میں تبدیلی کرنے والے ذمہ داران کی انکوائری رپورٹ کسی سے شیئر کی ہے تو انھوں نے بتایا کہ یہ رپورٹ مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کو پیش کی جائے گی۔
اس سے پہلے حکومت نے سنیچر کو دھرنے کے خلاف کارروائی مؤخر کرتے ہوئے مظاہرین کو مزید 24 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔
ادھر راولپنڈی اور اسلام آباد میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فیض آباد کے گرد کی شاہراؤں پر 1122 کے اہلکار اور ایمبولینسز کو گذشتہ رات ہی ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہHuw Evans picture agency









