پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا وہ راستہ جو اب بھی کھلا ہے

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تیتری نوٹ، کشمیر
27 فروری کی صبح لائن آف کنٹرول پر موجود تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر ٹرکوں میں سامان لوڈ کیا جا رہا تھا۔ فضا میں ایک جانب پاکستان جبکہ دوسری طرف انڈین طیاروں کا شدید شور تھا۔
پھر خبر ملی کہ پاکستان نے انڈیا کا جہاز گرایا ہے، دونوں ملکوں میں پہلے سے جاری گشیدگی اور بڑھ گئی لیکن یہاں ایل او سی پر کوئی مسئلہ نہیں تھا نہ تجارت رکی اور نہ ہی دونوں جانب کشمیری مسافروں کی آمدورفت تھمی۔
دو ماہ یونہی گزر گئے مگر پھر یکایک انڈین وزارت داخلہ نے ایک نوٹس کے ذریعے دو طرفہ تجارت کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا جس سے لاکھوں مالیت کا سامان دس فٹ کے فاصلے پر لگے دو آہنی دروازوں کے دونوں جانب ہی رہ گیا۔
راولاکوٹ سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کے اُس پار انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کا تاریخی شہر فقط دس کلومیٹر دور ہے۔
تیتری نوٹ پہنچنے سے پہلے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے ذریعے پتہ چلا کہ کوٹ کوٹیرا سیکٹر میں انڈیا کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری سے ایک خاتون اور ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔
تاہم اس علاقے میں یہاں دونوں جانب توپیں خاموش اور باہر معمول کی زندگی رواں دواں تھی۔ بچے سکول جا رہے تھے اور سرحدی پوائنٹ کے قریب سفر کے دوران ایسا بالکل محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ یہاں زندگی ہر دم ایسی ہی نارمل نہیں ہوتی۔

ہاں نواحی پہاڑوں سے اٹھتا دھواں اب بھی دکھائی دے رہا تھا جس کے بارے میں مکینوں نے بتایا کہ جب فائرنگ اور گولہ باری ہوتی ہے تو کہیں کہیں جنگل میں آگ بھی بھڑک جاتی ہے۔
مسکراہٹ اور مصافحہ
پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے درمیان معاہدے کے بعد سنہ 2005 میں ان کراسنگ پوائنٹس سے کشمیریوں نے آنا جانا شروع کیا جبکہ 2008 میں تجارتی راستہ کھولا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایل او سی پر کل تین کراسنگ پوائنٹس، تیتری نوٹ، چکوٹھی اور چلہانہ ٹرمینلز ہیں۔ ان میں سے تیتری نوٹ واحد ہے جہاں بقول حکام کے نبض اب بھی چل رہی ہے۔ باقی دونوں پوائنٹس کو انڈیا کی جانب سے بند کیا گیا ہے۔
چکوٹھی سے پل کی مرمت کے بہانےاور چلہانہ جو مئی میں کھولا جاتا ہے، اس بار اسے کھولا ہی نہیں گیا۔ اس کے علاوہ دو اور کراسنگ پوائنٹس حاجی پور اور تتہ پانی ہیں لیکن وہ فعال نہیں۔
مزید پڑھیے
ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کے حکام کے مطابق تیتری کراسنگ پوائنٹ جو ہفتے میں چار بار تجارت کے لیے کھلتا تھا اور ایک بار مسافروں کے لیے اب فقط پیر کو مسافروں کے لیے ہی کھل سکتا ہے۔
یہاں ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کا دفتر زیرو لائن سے چند ہی قدم کے فاصلے پر ہے۔
دفتری امور میں صبح کا آغاز فلیگ میٹنگ کی تیاری سے ہوا۔ دونوں جانب موجود قد آور گیٹ صبح سوا گیارہ بجے کھولے گئے اور دونوں طرف کے حکام نے پرتپاک انداز میں ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔

لیکن اس سے بھی چند لمحے قبل وہاں تعینات سکیورٹی اہلکار اپنی بلند آواز میں پروٹوکول کے مطابق اپنے اپنے حکام کو گونجدار آواز میں سلیوٹ و سلامی پیش کرتے ہیں۔ اور ضابطے کے مطابق گیٹ کھولنے کی اجازت طلب کرتے ہیں اور پھر ایک ہی لمحے میں دونوں جانب لگے الگ الگ گیٹ کھولے جاتے ہیں۔ ان کنڈیوں کے کھلنے آواز دور تک باآسانی سنائی دیتی ہے۔
دائیں بائیں جانب موجود چبوترے پر کرسیوں کی قطاریں ہیں لیکن یہاں واہگہ جیسی گہماگہمی دکھائی نہیں دی۔ صرف حکام یا پھر کچھ مہمان ہی دکھائی دیے۔ جب مسافر آتے ہیں تو اقوام متحدہ کے مبصرین بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔
حکام کی اس مختصر ملاقات میں مسافروں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور ان کی آمد کا وقت طے کیا جاتا ہے۔ فلیگ میٹنگ کے معمول کے عمل کے بعد دس فٹ کے فاصلے پر زیرو لائن کے آر پار موجود دونوں گیٹ پھر سے تالا لگا کر بند کر دیے گئے۔
انڈیا کی جانب سے اس دن تین مسافروں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر لوٹنا تھا جبکہ پاکستان سے اس جانب جانے کے لیے کسی مسافر کا نام نہیں تھا۔
ویران ٹریڈ سینٹر

اب ہمیں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے مسافروں سے ملنے کے لیے ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنا تھا۔ اس دوران ہم نے ٹریڈ اینڈ ٹریول اتھارٹی کے حکام اور وہاں موجود تاجروں سے بات چیت کی۔ جو اس امید میں وہاں موجود تھے کہ شاید کوئی اچھی خبر انھیں بھی ملے اور وہ رمضان سے پہلے پھر سے کاروبار شروع کر سکیں لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔
زیرو لائن سے چند سو گز کے فاصلے پر موجود ٹریڈ سینٹر بالکل ویران پڑا ہے جبکہ اس موسم میں یہاں تجارت عروج پر ہوتی تھی۔ ٹریڈ سینٹر میں اب بھی مجھے اخروٹ، چھوارے اور آلو کی بوریاں پڑی نظر آئیں۔ تاجر کہتے ہیں کہ بغیر پیشگی اطلاع کے راستہ بند ہوا اور لاکھوں کا سامان تباہ ہوا جس میں بڑی تعداد تازہ فروٹ اور خشک میوہ جات کی تھی۔
- ٹاٹا حکام کے مطابق یہاں سے سالانہ 3 ارب روپے سے زائد کی تجارت ہوتی ہے۔
- دونوں جانب 35، 35 ٹرک آنے اور جانے کی اجازت تھی۔ یہ ہفتے میں چاردن صبح نو بجے سے شام چار بجے کے درمیان سرحد پار جاتے تھے۔
- یہاں 300 رجسٹرڈ تاجر ہیں اور ان کے لیے تجارت کے قواعد سخت تو ہیں ہی لیکن دونوں ملکوں کے تجارتی قوانین سے مختلف بھی ہیں، یہاں بارٹر ٹریڈ ہوتی ہے یعنی پیسوں سے چیز نہیں خریدی جاتی بلکہ لین دین میں 'مال کے بدلے مال' دیا جاتا ہے۔
- یہی نہیں بلکہ تاجر مال کو دیکھ پرکھ نہیں سکتے نہ ہی خود دوسری جانب لے کر جا سکتے ہیں۔ ہاں اب اب واٹس ایپ نے ان کی زندگی اس حد تک سہل کی ہے کہ یہ فون پر بات کر سکتے ہیں اور مال کی تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔
- دونوں ملکوں نے تاجروں کو صرف 21، 21 آئٹم یعنی اشیا سرحد پار تجارت کی غرض سے لے جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔
- دونوں جانب سے صرف ڈرائیورز دستاویزات کے ہمراہ سامان لے کر ایک دوسرے کے ٹریڈ سینٹرز میں جاتے ہیں اور پھر انھیں چند گھنٹے سرحد کی دوسری جانب ایک محدود جگہ پر رہنا پڑتا ہے۔ انڈیا سے آنے والے ڈرائیورز کو کچن کی سہولت بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی مرضی سے کھانا بنا سکیں۔

ہجیرہ سے تاجر برادری کے ترجمان سردار قسیم کے مطابق 'گورنمنٹ کی سطح پر کوئی میکنزم نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے مال ایک ہفتے بعد واپس ملے لیکن جب یہ بند کر دیا جاتا ہے تو سب کچھ بلاک ہو جاتا ہے تو ہم کنگلے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔'
تاجر کہتے ہیں کہ ہم اس پار کشمیر سے آنے والی چیز مہنگی بھی ملے تو محبت میں خریدتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ فروٹ مثلاً کیلا اور انار اور دیگر اشیا ان تاجروں کو سرحد پار سے سستی ملتی ہیں اور پھر وہ اسے پاکستان کی منڈیوں میں بھی لے کر جاتے ہیں جبکہ یہاں سے جانے والا مال بھی دہلی تک جاتا ہے۔
اب رمضان میں ان کا کاروبار بند ہے ایسے ہی حالات سنہ 2015 میں بھی تھے جب چار ماہ کے لیے تجارت بند ہوئی تھی۔
اُدھر بھی سمگلر اِدھر بھی سمگلر

جہاں راستے اور محدود اشیا کی تجارت کے مسائل ہیں وہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تاجر پاکستانی حکومت اور اداروں کے رویوں سے بھی نالاں اور مایوس ہیں۔
انڈیا کے نوٹس کے مطابق پاکستانی عناصر غیر قانونی طور پر اسلحہ، نارکوٹکس اور کرنسی لے کر سرحد پار آتے ہیں اس لیے راستہ بند کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں بھی ان تاجروں کو پھل اور سبزی اسلام آباد اور پنڈی لے جانے پر سمگلر کہہ کر روکا جاتا ہے۔
اگرچہ اب دونوں جانب تاجروں کی فیڈریشن ہے لیکن مقامی تاجر انصار احمد بتایا کہ ہمیں پاکستان کے کسٹم حکام بہت تنگ کرتے ہیں چونکہ کسٹم ڈیوٹی کشمیر میں تو نہیں لگتی لیکن جیسے ہی مال راولپنڈی اسلام آباد جاتا ہے تو وہ ہم پر سمگلنگ کا الزام لگاتے ہیں مال بھی ہاتھ سے جاتا ہے اور ایف آئی آر بھی کٹتی ہے۔
ان کی نظر میں اس کا حل یہ ہے کہ مظفر آباد میں بھی منڈی کی سہولت فراہم کی جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کا مال منڈیوں میں جائے گا تو اس سے دام کم ہوں گے۔
تاجر سمجھتے ہیں کہ حالیہ انتخابات ہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر تجارت کو بند کر دیا گیا اور شاید نئی حکومت بنتے ہی سب ٹھیک ہو جائے گا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے جن 21 اشیا کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے کی اجازت ہے۔ ان میں خشک جڑی بوٹیوں، پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ قالین، لکڑی کے فرنیچر، کڑھائی والے ملبوسات اور شالیں وغیر شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی جانب سے چاول، اخروٹ، شالیں، دالیں، تسبح و جائے نماز وغیرہ لے جائے جاتے ہیں۔
تاجر کہتے ہیں کہ گوشت، ادویات اور کاسمیٹیکس کی اجازت مل جائے تو بہت بڑی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دونوں جانب سے اب تک 35000 کشمیریوں نے اس سہولت کو استعمال کیا ہے۔


ڈی جی ٹاٹا بریگیڈیئرریٹائرڈ طاہر حمید کہتے ہیں کہ ہماری اتھارٹی ٹریڈ سے ملنے والے پیسوں سے ہی چلتی ہے لیکن اگر یہ لمبا عرصہ بند رہے گی تو 80 سے زائد ملازمین اور ادارے کو چلانا مشکل ہوجائے گا۔
ریورس گیئر اور مسافروں کی آمد
اب گھڑی میں ساڑھے بارہ بج رہے تھے ہمیں ایک بار پھر زیرو لائن کی جانب جانا تھا اور کراسنگ پوائنٹ سے مسافروں کی آمد کا منظر دیکھنا تھا۔ ایک بار پھر سرحدی گیٹ کھولے گئے۔

دونوں جانب حکام اور عملے کی موجودگی میں تین مسافروں نے پیدل چل کر سرحدی راستہ عبور کیا جبکہ انھیں چھوڑنے اور اس جانب لانے کے لیے لگ بھگ پندرہ سے 20 افراد موجود تھے۔ جن میں سول انتظامیہ، فوج، پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکار موجود تھے۔
لیکن یہ مسافر خالی ہاتھ تھے انھیں سامان اٹھانے کی اجازت نہیں۔ اس کے لیے ایک الگ گاڑی کا انتظام ہوتا ہے۔ مگر اس کے لیے بھی الگ اصول ہے۔ گاڑی کو زیرو لائن پر ریورس گیئر پر چلا کر اس جانب لے جایا جاتا ہے تاکہ مسافروں کا سامان اس میں لوڈ کیا جا سکے۔
اندر لے جا کر اس سامان کو مکمل طور پر چیک کیا جاتا ہے۔ سکیننگ کے بعد سامان کو کھوجی کتے بھی چیک کرتے ہیں۔
اپنے سامان کے حصول کے لیے منتظر نکیال سیکٹر کے 78 سالہ چوہدری اکبر سرحد پار مینڈھ نامی علاقے میں اپنی بھتیجی کی شادی پر گئے تھے جبکہ عقیل اختر جرال اور غلام مصطفی اپنی رشتہ دار خاتون کی وفات کی وجہ سے راجوری گئے تھے۔
چوہدری اکبر کہتے ہیں کہ وہ جنوری کے بعد اب 22 اپریل کو دوبارہ اس جانب گئے۔

،تصویر کا ذریعہGov of India
اس سوال پر کہ اس پار حالات کیسے ہیں کیا ادھر سے بھی ادھر آبادی پر گولے داغے جاتے ہیں، جواب ملا کہ 'بس یہ گولہ باری اور فائرنگ نہ ہو تو حالات ٹھیک ہیں لیکن جب یہ ہو تو پھر تو مسئلہ ہے۔ ادھر بھی گولے گرتے ہیں ہاں یہ ہے کہ آج کل حالات ٹھیک ہیں۔'
عقیل نے بتایا کہ جب ہم وہاں جاتے ہیں تو جا کر اور واپسی پر بھی ہمیں پولیس کو اطلاع کرنی ہوتی ہے۔ اب یہاں بھی آمد کے فوری بعد ان کے کوائف کا اندراج کیا گیا۔
کوٹلی میں اپنے گھر کی جانب سفر پر نکلنے سے پہلے عقیل نے کہا کہ سنا ہے کہ ’راجوری میں سب ٹھیک تھا صحیح وقت گزرا اور ہماری تو دعا ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں کیونکہ ہمارے تو وہاں رشتہ دار ہیں اور حالات بہتر نہ ہوئے تو کام تو ایسے ہی چلتا رہے گا۔ ‘

دونوں جانب موجود پہاڑوں سے اٹھتے دھویں اور رہائشی علاقے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو قریب سے گزرتے افراد مقامی لڑکوں نے خبردار کیا کہ ’ادھر سے وہ کیمرہ نہیں لگانے دیتے، فائر یا گولہ مار دیں گے آپ کو ہٹ جائیں۔‘
کشمیر کے ان پہاڑوں میں انڈین اور پاکستانی چیک پوسٹس جتنی بھی چھپانے کی کوشش کی جائیں چھپ نہیں سکتیں اور جب آبادیوں پر فائرنگ کی جاتی ہے تو مکینوں کے بقول وہ بس یہی کر سکتے ہیں کہ گھروں میں بنے زیر زمین کمروں میں چلے جائیں اور اپنے گھروں پر گولے لگنے کے بعد ان کی مرمت کریں۔
ایسے میں جہاں ہر چند روز بعد یہ اطلاع ملے کہ اس جانب یا اس پار بمباری اور پھر اتنا جانی نقصان ہوا ی تو پھر ڈی جی ٹاٹا کی میز پر دھری اس درخواست کی کتنی اہمیت رہ جاتی ہے جس میں ایل او سی پار کرنے والے مویشیوں کی واپسی کی التجا کی جاتی ہے۔
۔










