مدرسہ تعلیم القرآن اور بالاکوٹ وادی کا گمشدہ استعارہ

مدرسہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’اس جنت نظیر وادی کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے، لیکن جو اس کا استعارہ ہونا چاہیے تھا وہ غائب ہے‘
    • مصنف, عثمان زاہد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، جابہ

بھارتی فضائیہ کی بالاکوٹ میں کارروائی کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد پہلی دفعہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے دورے سے بالاکوٹ مدرسے سے جڑی سنسنی اگرچہ کچھ کم تو ضرور ہوئی لیکن بہت سارے سوالات کا جواب ابھی تک ملنا باقی ہے۔

فوج کا پاکستان سے باہر، خصوصاً دہلی میں فرائض سرانجام دینے والے غیر ملکی صحافیوں اور اسلام آباد میں تعینات درجن بھر سے زائد دفاعی اتاشیوں کو اس مدرسے میں لے کر جانا اپنے آپ میں باعثِ حیرت تھا، کیونکہ اس سے پہلے بالاکوٹ کے علاقے جابہ کے اس مدرسے میں نہ کوئی جا پایا اور نہ ہی اس سے جڑی کہانیاں کبھی بھی کھُل کر سامنے آ سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

،ویڈیو کیپشنبالا کوٹ کے علاقے جابہ کا وہ مدرسہ جسے انڈین ایئر فورس نے نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا

پاکستان اور بھارت میں یہ سوال گونجتا رہا کہ ہزاروں چھوٹے بڑے مدارس کی موجودگی میں آخر اسی مدرسے پر کارروائی کی کوشش کیوں کی گئی اور بھارتی انتخابات سے محض ایک دن قبل دورے کا مطلب کیا ہے؟

بہت سارے سوال ذہن میں لیے بدھ کی صبح فوجی ہیلی کاپٹر میں بالاکوٹ کے لیے ہم نے اڑان بھری اور کچھ ہی دیر میں ہزارہ کی سرسبز و شاداب وادیوں میں پہنچ گئے۔

مجھ سمیت تمام صحافی اس علاقے کی خوبصورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور کھڑکیوں سے مسلسل تصاویر بناتے رہے۔ میرے سامنے بیٹھے فوجی افسر نے میرے انہماک کو دیکھتے ہوئے کہا ’آپ کو کسی بھی طرح لگتا ہے کہ یہ لینڈسکیپ سوئٹزرلینڈ سے کم خوبصورت ہے؟‘

ہم بٹراسی کالج کے میدان میں جا کر اترے۔ کچے پکے راستوں اور نالوں پر کچھ فاصلہ گاڑیوں پر طے کرنے کے بعد پہاڑیوں پر پیدل چلنا بہت دشوار لگا۔

بی بی سی
،تصویر کا کیپشندورے میں دس سے زیادہ ممالک کے دفاعی اتاشی بھی شامل تھے

مدرسہ اور متاثرہ مقام دیکھنے کے شوق میں تیز چلنے والے صحافی اور دفاعی اتاشی کچھ ہی دیر میں نڈھال دکھائی دینے لگے۔ نہایت دلکش سر سبز وادی کے درمیان چھوٹے چھوٹے کھیت اور چیڑ کے درختوں کی بہتات کسی سیاحتی مقام کے تمام لوازمات دکھائی دیے۔

اور پھر سب سے پہلا منظر بھارتی حملے سے ایک گرا ہوا چیڑ کا درخت جو وہیں پڑا سوکھ چکا تھا۔ میں نے ساتھ چلتے ہوئے مقامی اہلکار سے پوچھا کہ اس کو ابھی تک ہٹایا کیوں نہیں گیا۔

جابہ
،تصویر کا کیپشنبھارتی حملے سے گرا ہوا چیڑ کا درخت جو وہیں پڑا سوکھ گیا

’یہ ثبوت کے لیے رکھا ہے لیکن اس کو گرائے جانے کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے‘ اہلکار نے فوراً جواب دیا اور اس کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ زیادہ اہم کام بھارتی پائلٹوں کے خلاف مقدمہ درج کروانا تھا۔

ساتھ ہی ندی کے دوسرے کنارے درمیانے سائز کا گھڑا نظر آیا جو اس خوبصورت علاقے میں بدنما چیز لگی۔ کچھ ڈپلومیٹس گڑھے کے اندر تہہ تک اتر گئے اور مٹی کو ہاتھ لگا کر نہ جانے کیا سونگھتے رہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور سے ایک ڈپلومیٹ نے دریافت کیا کہ کیا اس حملے میں کسی کی ہلاکت ہوئی، تو انھوں نے جواب دیا ’یس، ون کرو ڈائیڈ‘ (جی، ایک کوا مرا)۔

جابہ
،تصویر کا کیپشنفوج نے ہمیں پہلے وہ مقام دکھایا جہاں درمیانی سائز کا ایک گڑھا تھا

آبادی سے دور اس طرح کے دو اور گڑھے دکھائے گئے جہاں فوج کے مطابق بھارتی جہازوں نے ’پے لوڈ‘ گرایا تھا۔ جوں جوں مدرسے کی جانب بڑھتے جا رہے تھے علاقے کی سرسبز خوبصورتی بھی جیسے دو چند ہوتی جا رہی تھی۔

آخر کار مدرسے کی عمارت تقریباً سروں کے بالکل اوپر دکھائی دی تو کچھ ہمت بندھی اور عمودی چڑھائی چڑھ کر اندر چلے گئے۔ کچھ لوگ برآمدے میں بچھائی کرسیوں پر بیٹھ کر سانس بحال کرنے لگے جبکہ کچھ نے بے تابی سے تصاویر بنانی شروع کر دیں۔

سب کچھ ویسا ہی نظر آیا جیسا کسی بھی پاکستانی دینی مدرسے میں ہوتا ہے۔ مسجد کا مرکزی ہال جہاں سو سے زیادہ بچے اونچی آواز میں اتنے انہماک سے قرآن پڑھ رہے تھے کہ انھوں نے کیمروں کے ساتھ آتے صحافیوں کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔

مدرسہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’صحافیوں نے دائیں بائیں کا جائزہ لیا اور کسی بھی طرح کے حملے کا بظاہر شائبہ تک محسوس نہ ہوا‘

صحافیوں نے دائیں بائیں کا جائزہ لیا اور کسی بھی طرح کے حملے کا بظاہر شائبہ تک محسوس نہ ہوا۔ کچھ غیر ملکی صحافیوں نے مدرسے میں مقامی اساتذہ سے فردا فردا بات کرنے کی کوشش بھی کی لیکن زبان سے نابلد ہونے کی وجہ سے لگ رہا تھا ان کو کچھ زیادہ معلومات نہیں ملی۔

تقریباً آدھے گھنٹے بعد دوبارہ گاڑیوں میں، جو اوپر آ چکی تھیں، بیٹھ کر ہیلی پیڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ صحافی مدرسے میں کم وقت ملنے پر نالاں نظر آئے، تاہم فوج کے ترجمان نے یقین دلایا کہ آئندہ کبھی بھی وہ یہاں آ سکتے ہیں اور کئی دن یہاں گزار سکتے ہیں۔

اس کے بعد سوات میں آرمی پبلک سکول اور نفسیاتی بحالی مرکز لے جایا گیا لیکن زیادہ تر صحافی مستعد نظر نہ آۓ اور ایک دوسرے سے وہاں لائے جانے کا مقصد پوچھتے رہے۔ اسلام آباد واپسی کے لیے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے اور ایک دفعہ پھر فضا سے خوبصورت نظاروں میں کھو سے گئے۔

جابہ
،تصویر کا کیپشن’بچے اونچی آواز میں اتنے انہماک سے قرآن پڑھ رہے تھے کہ انھوں نے کیمروں کے ساتھ آتے صحافیوں کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا‘

بالاکوٹ حملے کے بارے میں بی بی سی کے فیکٹ چیک

پورا دن مسلسل زیرِ بحث رہنے والے موضوع ذہن میں گردش کر رہے تھے جیسا کہ سرجیکل سٹرائک، پے لوڈ، جیشِ محمد کا مدرسہ یا جہادی کیمپ، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بالاکوٹ کی سب سے متاثر کُن خصوصیت کا شاید ہی کہیں ذکر کیا گیا۔

جی ہاں، اس جنت نظیر وادی کی خوبصورتی جو اپنی مثال آپ ہے۔ جو اس کا استعارہ ہونا چاہیے تھا، جس وجہ سے بالاکوٹ کی وادی کو دنیا میں پہچانا جانا چاہیے تھا، وہ غائب تھا۔ اس کی خوبصورتی کے علاوہ جو بھی خبریں بالاکوٹ کی پہچان بنیں، انھوں نے اس کی شبیہ کو خراب کر دیا۔

ہماری واپسی کی منزل قریب تھی لیکن میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا کہ بالاکوٹ سے اس کے استعارے کو چھیننے والوں کا کبھی احتساب ہو گا۔