بالاکوٹ میں ’292 شدت پسندوں کی ہلاکتوں‘ کی حقیقت کیا ہے؟

- مصنف, فیکٹ چیک ٹیم
- عہدہ, بی بی سی ہندی
سوشل میڈیا پر ایک مبینہ واٹس ایپپ چیٹ کے حوالے سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے شہر بالاکوٹ میں انڈین ایئر فورس کی طرف سے حملے میں 292 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
جن لوگوں نے واٹس ایپ اور فیس بک گروپس میں اس مبینہ بات چیت کو پوسٹ کیا ہے انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بات چیت ان کے ایک ہندوستانی دوست اور بالاكوٹ میں رہنے والے 'ڈاکٹر اعجاز' نام کے کسی شخص کے درمیان ہوئی ہے۔
زیادہ تر لوگوں نے اس دعوے کے ساتھ تین سکرین شاٹس شیئر کیے ہیں۔
کچھ لوگوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ ’جس شخص کا نام سکرین شاٹ میں نظر آرہا ہے وہ بذاتِ خود بالاکوٹ میں ایک ڈاکٹر ہے اور جس دن ایئر سٹرائک ہوئے، وہ جائے وقوعہ کے قریب ہی موجود تھے۔ لہٰذا وہ مرنے والوں کی صحیح تعداد بتا سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post
سکرین شاٹ میں کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس چیٹ پر نظر ڈالیں تو اس کی ابتدا کچھ اس طرح ہوتی ہے۔
کردار 1: ارے بھائی یہ کیا ہے۔۔۔ کل، بھارتی فوج نے جو ایئر سٹرائک کی ہے۔۔۔۔ کیا یہ سچی خـبر یا میڈیا یوں ہی دکھا رہی ہے؟
کردار 2: جناب، ایئرفورس کے کچھ جہاز بالاکوٹ اور نزدیکی علاقے میں گھس گئے تھے۔۔۔ لیکن یہ غلط ہے نا، ایل او سی پار کرنا۔۔۔ خیر اللہ رحم کرے۔
کردار 1: جی ہاں، کچھ 12 طیارے گئے تھے۔۔۔ لیکن یار پاکستان کا جیش محمد حملہ کروتا ہے تو انڈیا جواب تو دے گا ہی نا۔۔۔ اور بھائی یہ بتاؤ کتنے لوگ مارے گئے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کردار 2: بھائی۔۔۔ کوئی لوکل نہیں مارا گيا۔۔۔ جو مارے گئے وہ سب دہشت گرد تھے۔۔۔ ہم خود ان سے پریشان تھے۔
اس کے بعد اس نام نہاد چیٹ کا یہ حصہ ہے جسے اکثر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے:

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post
اس سکرین شاٹ میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً اتنی بتائی گئی ہے جتنی بعض انڈین میڈیا چینل غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر بتاتے رہے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر امیت شاہ نے بھی اتوار کو کہا کہ اس حملے میں 250 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھنوا نے پیر کو بتایا کہ حملے میں ہلاک ہونے والی تعداد شمار کرنا فضائیہ کا کام نہیں ہے۔ ایئر فورس کو جو ہدف دیئے گئے تھے انھوں نے اسے نشانہ بنایا۔
انڈیا کی حکومت نے سرکاری طور پر اس حملے میں مارے جانے والے لوگوں کی تعداد پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

میسیج - سچ یا چھوٹ ہے؟
جس واٹس ایپ میسج کی بنیاد پر لوگ 292 شدت پسندوں کے مارے جانے کی بات کو صحیح سمجھ رہے ہیں وہ دراصل ایک خود ساختہ فیک میسج لگتا ہے، کیونکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے بالاكوٹ قصبے میں کوئی میڈیکل یونیورسٹی ہے ہی نہیں۔
بالاکوٹ خیبر پختونخواہ صوبے کے مانسہرہ ضلع میں واقع ہے اور یہ شہر دریا کنہر کے کنارے آباد ہے۔
بالاکوٹ دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 160 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس شہر میں 2005 کے زلزلے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔
پاکستان کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق بالاکوٹ کے لوگوں کے لیے قریبی سرکاری میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں واقع ہے۔
انڈیا کی فضائیہ نے منگل 26 فروری کو جب بالاكوٹ کے پاس بم گرائے تھے اس وقت وہاں پہنچ کر مقامی لوگوں اور عینی شاہدین سے سب سے پہلے بات کرنے والے بی بی سی کے ساتھی ایم اے جرال نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کے نمائندے پرشانت چہل کو بتایا: 'بالاكوٹ میں کوئی میڈیکل یونیورسٹی نہیں ہے۔ بالاكوٹ میں صرف ایک 'بنیادی ہیلتھ یونٹ' ہے جس میں ایک ڈاکٹر ہوتا ہے اور کچھ سٹاف کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہاں مریضوں کو بھرتی کرنے کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔'
جرال بتاتے ہیں: 'حملے کے بعد ہم نے بالاكوٹ، مانسہرا اور گڑھی بلا کے 'بنیادی ہیلتھ یونٹ' جاکر دیکھے تھے، لیکن وہاں کوئی زخمی شخص ہمیں نہیں ملا تھا۔ یہ تمام ہیلتھ سینٹر حملے کی جگہ سے قریب نصف گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
صحافی شیراز حسن نے ٹوئٹر پر اس وائرل پیغام کا یہ کہتے ہوئے مذاق اڑیا کہ 'آتنک واد' اور 'گھائل' جیسے الفاظ پاکستان میں استعمال نہیں ہوتے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا: 'مودی بھکت کے اس 'ثبوت' کے مطابق بالاكوٹ میں ایک 'بالاكوٹ میڈیکل یونیورسٹی' بھی ہے اور خود وزیر اعظم مودی اس بھکت کو فالو کرتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہReuters/Planet Labs
روئٹرز کی جاری کردہ تصاویر
خبررساں ایجنسی روئٹرز نے بدھ کو جابہ پہاڑی کے علاقے کی سیٹلائٹ تصویر بھی جاری کی ہے جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس علاقے میں جیش کے ایک مدرسے پر انڈیا کے فضائی حملے کے دعوے کے بعد ایک مدرسہ ابھی بھی قائم ہے۔
ان تصاویر کو سین فرانسیسکو میں قائم پرائیوٹ سیٹلائٹ آپریٹر پلینٹ لیبز نے پیش کیا ہے جس میں اس مقام پر حملے کے چھ دن بعد کم از کم چھ عمارتیں کھڑی نظر آتی ہیں۔ یہ چار مارچ کی تصاویر ہیں۔
یہ تصاویر بہت حد تک اسی لیب کے ذریعے اسی مقام کی سنہ 2018 میں لی گئي تصاویر سے بالکل مشابہ ہے۔
ان عمارتوں کی چھتوں میں کوئي واضح شگاف نہیں ہیں نہ کوئی جھلسانے والے نشانات ہیں، نہ بکھری ہوئي دیواریں ہیں، نہ مدرسے کے گرد بکھرے ہوئے درخت ہیں یا پھر فضائی حملے کی ہی کوئي علامت ہے۔











