خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں پولیس کی مخالفت کیوں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سات قبائلی اضلاع میں پہلی مرتبہ ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی کے ساتھ ہی پولیس نظام پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔
دوسری جانب بعض قبائلی اضلاع میں پولیس کی تعینات کے خلاف بدستور ایک ردعمل پایا جاتا ہے جس سے بےیقینی کی کیفیت بڑھتی جا رہی ہے۔
قبائل نے کچھ علاقوں میں پولیس کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے اس ضمن میں جرگوں اور احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔
ضلع اورکزئی میں گذشتہ چند دنوں کے دوران دو ایسے بڑے قبائلی جرگے منعقد ہوئے جس میں مقامی قبائل کی جانب سے پولیس نظام کی بھرپور مخالفت کی گئی اور اس کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے۔ اس کے علاوہ دیگر قبائلی اضلاع میں بھی وقتاً فوقتاً پولیس نظام کی مخالفت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہے۔
مزید جاننے کے لیے پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ دنوں میں بعض قبائلی مقامات پر پولیس پر پتھراؤ کے واقعات بھی سامنے آئے جس سے حکومتی ایوانوں میں تشویش پیدا ہوئی تاہم یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین صورتِ حال اختیار کر گیا جب خاصہ دار اور لیویز فورسز نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جو بدستور جاری ہے۔
خاصہ دار اور لیویز فورسز کو مقامی قبائل کی حمایت حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قبائل میں پولیس کے خلاف رد عمل کیوں ہے؟
وفاق کے زیرانتظام سابق قبائلی ایجنیسوں کی برسوں سے ایک آزاد حیثیت رہی ہے جہاں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہمیشہ سے خاصہ دار اور لیویز فورس کے ذمے رہی ہے۔ چونکہ خاصہ دار اور لیویز فورس کی بھرتی مقامی قبائل سے ہوتی تھی اسی وجہ سے وہ علاقائی روایات اور طورطریقوں سے واقف ہوتے تھے اور انھیں قبائل کو کنٹرول کرنے کا ہنر بھی آتا ہے۔
تاہم قبائل میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پولیس اہلکاروں کے آنے سے شاید ان کی آزادی سلب ہو جائے گی اور وہ اس طرح آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکیں گے جس طرح وہ پہلے کرتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چونکہ پولیس اہلکار مقامی روایات سے ناواقف ہیں لہذا یہ امکان بھی موجود ہے کہ اس سے قبائلی اضلاع میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو جائے جس سے مستقبل میں امن و امان کے مسائل جنم لیں۔
بعض لوگ اس رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ پولیس خاصہ دار فورس کے برعکس گھروں پر چھاپے مارتی ہے اور بعض حالات میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کا خیال بھی نہیں کرتی جبکہ قبائل گھروں پر چھاپے یا مکان کے اندر جانے کو کسی صورت برداشت نہیں کرتے بلکہ ان معاملات پر وہ اکثر اوقات فوج کے ساتھ بھی الجھتے رہے ہیں۔
تاہم قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق ایڈیشنل آئی جی عطااللہ وزیر کا کہنا ہے کہ وہ افراد قبائلی اضلاع میں پولیس نظام کی مخالفت کر رہے ہیں جو فاٹا انضمام کے شروع ہی سے مخالف رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس نظریے میں اب کوئی حقیقت نہیں رہی کہ سابق فاٹا کی مخصوص حیثیت کے باعث وہاں پولیس کا نظام چل نہیں سکتا ہے۔
عطااللہ وزیر کے مطابق 'جب قبائلی علاقوں میں آپریشنز ہو رہے تھے تو یہ قبائل نقل مکانی کرکے خیبر پختونخوا یا ملک کے دیگر حصوں میں رہائش پزیر تھے جہاں سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کی تھی تو اس وقت اگر قبائل وہاں رہ سکتے تھے تو اب یہ سوال کیوں کیا جا رہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے مخصوص حالات ہیں؟‘

اس کا حل کیا ہے
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماضی میں سابق فاٹا میں با اثر قبائلی سرداروں کو حکومت کی طرف سے کئی نوکریاں مراعات کے طور پر دی گئیں جس کے تحت ان کے عزیز رشتہ دار خاصہ دار یا لیویز فورس میں بھرتی کیے گئے لیکن پولیس کا نظام آنے سے قبائلی ملکان کی تمام مراعات بند ہو سکتی ہیں اور اسی وجہ سے وہ نئے نظام کی مخالفت میں سب آگے ہیں۔
سابق فاٹا میں کئی سالوں تک اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہنے والے سابق سیکریٹری سکیورٹی برائے فاٹا غلام قادر خان کا کہنا ہے کہ افسوس کا مقام ہے کہ بعض افراد اب بھی قبائلی اضلاع کو پرانے تاریکی نظام کی جانب دھکیلنا چاہتے ہے۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے سلسلے میں پارلیمان سے آئینی ترمیم منظور ہوئی جس کی تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت کی اس کے بعد وہاں پرانا نظام دوبارہ کیسے رائج ہو سکتا ہے؟
غلام قادر خان کے بقول پولیس کا نظام رائج کرنے کے سلسلے میں حکومت سے کچھ کوتاہیاں ضرور ہوئی ہیں لیکن اب بھی وقت ہے کہ اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے تو یہ معاملہ چند دنوں میں حل ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ خاصہ دار اور لیویز فورس کو فوری طورپر پولیس میں ضم کیا جائے کیونکہ یہی اس پورے مسئلے کا مناسب حل ہے اور اس سے پولیس کے متعلق مقامی قبائل کے خدشات بھی دور ہو جائیں گے۔










