شدت پسند تنظیموں پر پابندیاں کتنی موثر ہیں؟

حافظ سعید

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں جماعت الددعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر دوبارہ سے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئئ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں حکومت کی طرف سے ایک مرتبہ پھر کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کاروائیوں کے اشارے دیے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حکومت نے بعض عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف موثر اور فیصلہ کن کارروائی پر اتفاق کرلیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سکیورٹی اداروں کو ان کی پالیسی بتا دی گئی ہے جس کے تحت کارروائی کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی وزیر نے اس بات کو سختی سے مسترد کردیا کہ عسکری تنظیموں پر حالیہ پابندیاں انڈیا کے دباؤ کی وجہ سے لگائی جا رہی ہیں۔

گذشتہ ماہ اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر دوبارہ سے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پاکستان میں ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائیاں اور ان پر پابندیوں کے اقدامات ہوتے رہے ہیں۔ تاہم بیشتر اوقات یہ پابندیاں زیادہ موثر نہیں رہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر تنظیمیں نام بدل کر دوسرے ناموں سے اپنی کارروائیاں اور سرگرمیاں کرتی رہی ہیں۔

شدت پسند تنظیموں پر پابندیاں، کب کیا ہوا

پاکستان میں عسکری تنظیموں پر پہلی مرتبہ پابندی سنہ 2001 میں اس وقت لگی جب دو فرقہ وارانہ تنظیموں، لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد کو کالعدم قرار دیا گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب ملک میں سابق صدر پرویز مشرف نے 'فوجی بغاوت' کے ذریعے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو ہٹا کر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

ممبئی حملہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2008 میں انڈیا کے شہر ممبئی میں ایک اور بڑی کاروائی کی گئی جس کا الزام پھر سے پاکستان میں سرگرم تنظیموں پر لگایا گیا

اس کے اگلے سال یعنی سنہ 2002 میں پانچ مزید تنظیموں پر پابندیاں لگائی گئیں جن میں لشکر طیبہ، جیش محمد اور سپاہ صحابہ شامل تھیں۔

تاہم سنہ 2003 میں ان پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا اور آٹھ مزید تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ ان میں القاعدہ اور بعض بلوچ تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

اس طرح ہر دو تین سال کے بعد اس فہرست میں اضافہ ہوتا گیا اور مزید تنظیمیں اس میں شامل ہوتی رہیں۔

اس وقت نیشنل کاؤنٹر ٹیرریزم اتھارٹی (نیکٹا) کی ویب سائٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے 68 تنظیموں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور جماعت الددعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی اس فہرست میں شمولیت کے بعد کل تنظیموں کی تعداد 70 ہو جائے گی۔

پابندیاں اور کاروائیاں کتنی موثر

پاکستان میں کالعدم تنظیموں پر پابندیاں یا ان کے خلاف آپریشنز ہمیشہ سے کسی نہ کسی اہم واقعے سے منسلک رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف کاروائیاں بیشتر اوقات بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ہوتی رہی ہیں۔

اگر سنہ 2000 سے ان پابندیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کے ہر مرتبہ ان واقعات کے محرکات تقریباً ایک جیسے ہی رہے ہیں۔

سنہ 2000 اور 2003 میں سابق صدر پرویز مشرف پر دو مرتبہ قاتلانہ حملے کئے گئے اور دونوں دفعہ ان حملوں میں بعض شدت پسند تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے۔

مسعود اظہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں عسکری تنظیموں پر پہلی مرتبہ پابندی سنہ 2001 میں اس وقت لگی جب دو فرقہ وارانہ تنظیموں، لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد کو کالعدم قرار دیا گیا

اسی طرح سنہ 2001 میں انڈین پارلمینٹ پر حملہ کیا گیا جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے میں بھی کچھ پاکستانی شدت پسند تنظیموں کا نام لیا گیا۔

سنہ 2008 میں انڈیا کے شہر ممبئی میں ایک اور بڑی کاروائی کی گئی جس کا الزام پھر سے پاکستان میں سرگرم تنظیموں پر لگایا گیا۔

ان واقعات کے بعد پاکستان میں مختلف اوقات کے دوران شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دیئے جانے کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔

تاہم سوال یہ ہے کہ یہ آپریشنز اس مرتبہ کس حد تک موثر ثابت ہوسکتے ہیں، کیا حکومت اور سکیورٹی اداروں کا ایک ہی صفحے پر ہونے سے اس معاملے میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان ہے؟

عسکری تنظیموں پر تحقیق کرنے والے سنئیر تـجزیہ نگار عامر رانا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مختلف اوقات میں کالعدم تنظیموں پر پابندیاں تو لگتی رہی ہیں لیکن یہ کچھ زیادہ موثر نہیں رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اکثر اوقات اعلی سطح کے اجلاس میں کاروائیوں یا پابندیوں کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف ان فیصلوں پر اس طرح عمل درآمد نہیں ہوتا جس طرح ہونا چاہیے۔

عامر رانا کے مطابق صرف کاروائی ہی تمام مسائل کا واحد حل نہیں ہے بلکہ ان تنظیموں کو شدت پسندی سے دور کرنا سب سے اہم معاملہ ہے لیکن اس ضمن میں حکومت کے پاس کوئی باقاعدہ منصوبہ نظر نہیں آتا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حالیہ حکومت میں تمام ادارے ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں اور اسی کا فائدہ اٹھاکر اس اہم نوعیت کے قومی معاملے کو منتقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔