خیسور: ’شہری کے قتل کی ذمہ داری اراکینِ اسمبلی پر‘

شمالی وزیرستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنملک ماتوڑکے خسیور واقعہ میں مرکزی کردار 13 سالہ حیات خان کے ماموں تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مقتول قبائلی گل شمد خان ماتوڑکے کے بھائی کی جانب سے دی گئی درخواست میں اس قتل کا ذمہ دار پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کو ٹھہرایا گیا ہے۔

گل شمد خان کو دس فروری کی شام سات بجے کے قریب نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں قتل کر دیا تھا۔

ان کا نام خیسور واقعے کی وجہ سے اس وقت پہلی مرتبہ خبروں میں آیا تھا جب انھوں نے اپنے بھانجے حیات خان کی جانب سے ویڈیو میں بیان کردہ ان واقعات کی تردید کی تھی جن کے مطابق فوجی اہلکاروں نے حیات خان کے گھر میں داخل ہو کر ان کی والدہ اور دیگر اہلخانہ سے مبینہ طور پر بدتمیزی کی تھی۔

خیسور واقعے کے بارے میں یہ بھی پڑھیے!

میر علی سب ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے پیر کو ڈپٹی کمشنر کو ارسال کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے جن افراد کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ان میں پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ کے علاوہ وزیرستان سے قومی اسمبلی کے دو اراکین بھی شامل ہیں۔

مقتول کے بھائی پرخے خان نے اس قتل کی ذمہ داری منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر کے علاوہ ملک نصراللہ، ڈاکٹر گل عالم اور عید رحمان پر ڈالی ہے۔

اس رپورٹ میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دو سے تین ہفتے قبل سوشل میڈیا پر خیسور کے 13 سالہ لڑکے حیات خان کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جسے پی ٹی ایم کے ایک کارکن نے بنایا تھا اور بچے کو کہا گیا تھا کہ اس سے ان کے والد اور بھائی رہا ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ ویڈیو میں حیات خان نے الزام عائد کیا تھا کہ سکیورٹی اہلکار اُس کے گھر بغیر اجازت داخل ہوئے تاہم بچے کے ماموں ملک ماتوڑکے نے اس بات کی تردید کر دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ ان کی جانب سے معاملے کو درست انداز میں بیان کیا گیا اور معاملہ حل ہو گیا تھا تاہم بعد میں ’پی ٹی ایم نے مداخلت کی اور ڈی آئی خان سے آنے والے وزیر جرگے نے میرا اور میرے بھائی کا گھر مسمار کرنے کی کوشش کی اور ناکامی پر سنگین نتائج کی دھمکی دی‘۔

ان کے مطابق وہ اس صورتحال میں گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

علی وزیر، محسن داوڑ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحسن داوڑ شمالی جبکہ علی وزیرستان جنوبی وزیرستان نے قومی اسمبلی کے منتخب اراکین ہیں

درخواست گزار کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی کے قتل سے ایک دن قبل نو فروری کو لکی مروت میں دو نقاب پوش موٹرسائیکل سواروں نے ان پر بھی حملہ کیا تھا لیکن وہ محفوظ رہے لیکن 10 فروری کو ان کے بھائی کو ہلاک کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

درخواست میں منظور پشتین، محسن داوڑ، علی وزیر سمیت چھ افراد کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انھوں نے خیسور میں جھوٹے پروپیگینڈا کی مدد سے عوام کو ان کے خلاف اشتعال دلایا ہے۔

شمالی وزیرستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنمحسن داوڑ نے ٹویٹ میں ملک ماتوڑکے کے قتل کی مذمت کی

تاہم دوسری جانب ایم این اے علی وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ فروری کو خیسور جانے والے جرگے نے غلط بیانی کرنے والے افراد کے گھر مسمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ان سے لیے گئے پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور جانور واپس کر دیے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ 11 افراد نے تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے سکیورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی وجہ سے جھوٹ بولا تھا لیکن آئندہ وہ کوئی بیان نہیں دیں گے۔

علی وزیر کے مطابق حکومت کو مطالبات پر عملدرآمد کے لیے 20 فروری کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

ادھر گل شمد خان ماتوڑکے کی ہلاکت کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے جہاں اس قتل کی مذمت کی وہیں بہت سے سوالات، الزامات اور سازشی تھیوریوں کا بھی ذکر کیا۔

شمالی وزیرستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے ٹویٹ میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس قتل کے وقت سے جنم لینے والے سوالات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

جبکہ جنید خان نامی ایک ٹوئٹر صارف نے اس واقع پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی ایم پر اس قتل کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے ملک ماتوڑکے کو محب وطن قرار دیا۔

ایک اور ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ وہ کبھی ملک ماتوڑکے سے نہیں ملے مگروہ ان کے بارے میں اتنا جانتے ہیں کہ ’وہ سچ اور حق کے لیے کھڑے ہونے والے شخص تھے چاہے وہ سچ کڑوا اور تلخ ہی کیوں نہ ہو۔ وہ ایک محب وطن تھے۔‘