نواز شریف کےحوصلےبلند ہیں، مگر صحت ساتھ نہیں دے رہی: پرویز رشید

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننواز شریف ملنے والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں لیکن یہ واضح نظر آتا ہے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں: پرویز رشید
    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی طبیعت کی ناسازی پر ان کی جماعت کے اراکین اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے نمائندوں کے مابین لفظی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔

ایک جانب نون لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی صحت کے معاملے پر حکومت سے کسی قسم کی کوئی 'ڈیل' نہیں ہوئی ہے تو دوسری طرف حکومتی اراکین نے سختی سے اس تاثر کو جھٹلایا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو کوئی این آر او دیا جائے گا۔

لیگی رہنما سینیٹر پرویز رشید سے جب بی بی سی نے اس بابت سوال کیا تو انھوں کہا کہ حکومت کے قائم کیے گئے میڈیکل بورڈ نے خود یہ تجویز کیا ہے کہ نواز شریف کو خصوصی طبی علاج کی ضرورت ہے۔

نواز شریف کی قید اور بگڑی صحت کے بارے میں مزید پڑھیے

'ہمارا موقف بہت سادہ ہے۔ مریض نے جس ڈاکٹر سے ماضی میں علاج کرایا ہوتا ہے وہی اس کی حالت بہتر جانتا ہے اور یہ میاں صاحب کا قانونی حق ہے کہ انھیں اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کرانے کا موقع دیا جائے۔'

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے حالیہ بیان پر کہ نون لیگ پیسے دے کر ڈیل کرنے والی ہے، پرویز رشید نے مطالبہ کیا کہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ بتائے کہ این آر او کون دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کے آخر میں بھی شیخ رشید نے الزام لگایا تھا کہ نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کی خاطر این آر او لیں گے۔

پرویز رشید نے کہا: 'ہم نے تو کوئی ڈیل نہیں مانگی۔ حکومت نام لے کر بتائے کہ نون لیگ سے کون آیا تھا ڈیل مانگنے اور رعایت مانگنے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ نون لیگ نے نواز شریف کی علالت کے باعث صرف عدالت سے اپیل کی تھی کہ انھیں ضمانت دی جائے تاکہ وہ علاج کروا سکیں اور یہ ان کا قانونی حق ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ نواز شریف کی صحت کے نام پر حکومت کو بلیک میل کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ سابق وزیر اعظم کو لندن بھیج دیں حالانکہ میڈیکل رپورٹ میں ان کی طبعیت نارمل ہے۔

صحافیوں سے کی جانے والی گفتگوں میں فیاض چوہان نے اشارہ دیا کہ نون لیگ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سے اپیلیں کر رہی ہے کہ انھیں ڈیل مل جائے مگر ایسا نہیں ہوگا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGov of punjab

،تصویر کا کیپشنپنجاب حکومت کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو 'این آر او' دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

بی بی سی نے اس حوالے سے جب وزیر اعظم کے معاون برائے میڈیا امور افتخار درانی سے بات کی تو انھوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا موقف واضح ہے کہ نواز شریف کو کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا اور حکومت اس نکتے پر ثابت قدمی سے قائم ہے۔

'اگر نواز شریف کی صحت بہتر ہوگئی تو وہ واپس جیل چلے جائیں گے۔ ویسے بھی یہ ہمارا نہیں عدالتی معاملہ ہے۔'

سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں سوال پر پرویز رشید نے کہا کہ انھوں نے گذشتہ ہفتے نواز شریف سے ملاقات کی اور کہا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں لیکن ان کی صحت ساتھ نہیں دے رہی۔

'وہ ملنے والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں لیکن یہ واضح نظر آتا ہے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا عزم پختہ ہے۔'