لورالائی میں ہلاک ہونے والے پی ٹی ایم کے رہنما ارمان لونی کون تھے؟

،تصویر کا ذریعہCourtesy Khursheed Khan
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
بلوچستان کے ضلع لورالائی میں مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما ارمان لونی کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی سے تھا۔
ارمان لونی کے قریبی جاننے والوں کے مطابق ان کا اصل نام ابراہیم لونی تھا جبکہ وہ شاعری میں ارمان تخلص استعمال کیا کرتے تھے۔
پشتون قبیلے پنرڑی افغان کی ذیلی شاخ لونی سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ ارمان اپنے جاننے پہچانے والوں میں ارمان لونی کے نام سے ہی مشہور تھے اور خود کو ارمان لونی لکھنا اور کہلوانا زیادہ پسند کیاکرتے تھے۔
اسی بارے میں مزید پڑھیے
اسلام آباد میں مقیم خورشید خان بچپن سے ارمان لونی کے ساتھی تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ارمان لونی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کے گورنمٹ سکول سے حاصل کی تھی اور شروع سے ہی شاعری کے علاوہ ترقی پسند سیاست میں فعال تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہFB
ان کا کہنا تھا کہ ارمان لونی ان کو سکول کے زمانے سے سیاسی جماعت پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دیا کرتے تھے۔
ارمان لونی نے سوگواروں میں ایک بیوہ، دو کم عمر بیٹے اور بیٹی چھوڑی ہیں جبکہ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
بلوچستان اسمبلی کے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی نصر اﷲ خان زیرے بھی ارمان لونی کو کئی سالوں سے جانتے تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ارمان لونی کے ساتھ تعلقات سکول کے زمانے سے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارمان لونی زمانہ سکول ہی سے پختونخواہ سٹوڈٹنس آرگنائزیشن میں فعال کردار ادا کرنے کے علاوہ تحصیل سنجاوی اور ضلع زیارت کے عہدیدار رہے ہیں۔
نصر اﷲ خان نے بتایا کہ ارمان نے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ پشتو میں داخلہ لیا تھا۔
پشتو میں ماسٹر کرنے کے بعد انھوں نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے پروفیسر کی ملازمت حاصل کرلی۔
سرکاری ملازمت کی وجہ سے وہ سیاسی جلسوں میں خود تو شرکت نہیں سکتے تھے لیکن جب ان کی بہن وڑانگہ لونی نے سیاست میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے اپنی بہن کی بھرپور حمایت کی۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Khursheed Khan
ارمان لونی خود جلسوں میں ایک کارکن اور سامع کی حیثیت سے شریک ہوتے تھے جبکہ ان کی بہن سٹیج پر تقاریر کیا کرتی تھی۔
نصر اﷲ زیرے کے مطابق پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد ان کی پہلی تعنیاتی ڈگری کالج کوئٹہ میں ہوئی اور بعدازاں ان کا ڈگری کالج قلعہ سیف اﷲ میں تبادلہ ہوگیا تھا جہاں پر وہ اپنے خاندان اور بہن وڑانگلہ لونی سمیت رہائش پذیر تھے۔
ممبر قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے سینئیر رہنما علی وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ارمان لونی پشتون تحفظ موومنٹ کے اہم رہنما اور مرکزی کور کمیٹی کے ممبر تھے۔
علی وزیر کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے آغاز کے وقت سے ہی ارمان لونی تحریک کے ساتھ تھے اور بلوچستان میں پی ٹی ایم کے بانی رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
گذشتہ ایک سال کے دوران ارمان لونی نے کراچی جا کر بھی پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں شرکت کی تھی۔
حال ہی میں کراچی دھرنے کے دوران گرفتار ہونے والوں میں بھی وہ شامل تھے جبکہ رہائی کے فوراً بعد وہ دوبارہ تحریکی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔










