’لوگ سمجھتے ہیں کہ صحافی بہت با اثر ہوتے ہیں لیکن ہم تو اپنے آپ کو بے یار و مدد گار سمجھتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس
پاکستان کے معروف میڈیا گروپ ڈان کی جانب سے تنخواہوں میں 40 فیصد کٹوتی کے بعد اب میڈیا انڈسٹری کی مالی ساکھ اور اس کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران نجی چینل جیو سمیت کئی بڑے میڈیا گروپس میں کئی کئی مہینوں کی تاخیر سے تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔
دیگر ٹی وی چینیلوں کے حالات اس سے بھی بدتر ہیں۔ ایک اہم چینل ’وقت ٹی وی‘ حال ہی میں اپنی نشریات بند کر چکا ہے۔ کئی اداروں سے صحافیوں کو ملازمت سے بیدخل کردیا گیا ہے یا وہاں ملازمین تنخواہ کی امید پر کام کر رہے ہیں۔ اس دوران چند نامور صحافیوں نے بڑے چینلوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ علیحدہ ہونے والے صحافیوں کے بارے میں چند مبصرین نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ انھیں دباؤ کی وجہ سے ملازمت چھوڑنا پڑی۔
علیحدہ ہونے والے سینکڑوں صحافیوں میں سے کچھ نے اپنے ٹاک شوز کا سوشل میڈیا پر آغاز کیا ہے جس سے تاحال زیادہ آمدنی کا امکان نہیں ہے لیکن اب ایسے صحافیوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے جنھیں کچھ عرصہ پہلے کے اچھے حالات میں تنخواہیں تو مل رہی تھیں لیکن اب انھیں یا تو تنخواہیں مل نہیں رہیں یا تاخیر سے مل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں صحافیوں کا ایک ایسا بہت بڑا طبقہ ہے جو یا تو بہت معمولی سے مشاہرے پر کام کرتے رہے ہیں یا بغیر کسی معاوضے کے۔ اب سے 20 برس پہلے لاہور کے ایک صحافی محمد ماجد نے پاکستانی صحافیوں کی پہلی ڈائریکٹری مرتب کی تھی جس میں ملک بھر کے نامہ نگاروں کو ملا کر صحافیوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میڈیا انڈسٹری کا اتار چڑھاؤ
سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے زمانے میں میڈیا 'ایکسپلوژن' ہوا اور صحافیوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، لیکن اس ہزاروں کی تعداد میں اکثریت ایسے صحافیوں کی ہے جنھیں باقاعدہ مشاہرہ نہیں ملتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز سے وابستہ پاکستان کے صحافی اقبال خٹک کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں اس وقت ایک منظم طریقے سے ’ڈان‘ اور ’جنگ‘ جیسے آزاد میڈیا گروپس یا جو بھی ریاستی طاقت کے خلاف بات کرتا ہے کو کچلا جا رہا ہے۔
'اور اس سلسلے میں آزادی کو کچلنے کا نیا طریقہ ان اداروں کا مالیاتی طور پر گلا گھونٹنا ہے۔'
اقبال خٹک کے مطابق اب اس 'اقتصادی ناکہ بندی' کی وجہ سے اسٹیبلشمینٹ کو میڈیا سے مطلوبہ نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق میڈیا انڈسٹری کے لیے جسمانی دھمکیوں، جسمانی نقصان کے خطرے، ہراساں کرنے، اغوا اور قتل سے بھی زیادہ خطرناک 'اقتصادی دباؤ' ثابت ہو رہا ہے۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے اقبال خٹک کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کی ترقی کے امکانات موجود ہیں۔ میڈیا کی آمدن بھی بڑھی ہے، اشتہارات کی تعداد اور اس سے ہونے والی آمدن میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن میڈیا انڈسٹری کے موجودہ زوال کا تعلق مارکیٹ کے حالات سے براہ راست نہیں ہے۔
صحافیوں کی مالی زبوں حالی
جو صحافی گذشتہ دہائی سے قبل کے میڈیا 'ایکسپلوژن' کے زمانے میں اچھے حالات دیکھتے ہوئے صحافت کے پیشے میں آئے تھے اب وہ کافی زیادہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسے ہی چند صحافیوں نے اپنے مخدوش مالیاتی مستقبل کو دیکھتے ہوئے نئے آنے والوں کو صحافت کا پیشہ اختیار کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے کا مشورہ دیا ہے۔
لاہور کی خاتون صحافی شاہدہ بٹ
'میں نے سنہ 2007 میں روزنامہ ’وقت‘ جوائن کیا اور پچھلے ماہ انتظامیہ نے اسے بند کردیا۔ جب جوائن کیا تب مالک علیم خان تھے جو اس وقت صوبہ پنجاب میں سینیئر وزیر ہیں، انھوں نے جنگ گروپ کو بیچ دیا، جنگ گروپ نے اسے قومی اخبار نہ بننے دیا اور ایک طرح سے ڈمی رکھا پھر اچانک تالہ لگا دیا اور (نوکری سے برخاستگی کے) لیٹر گھروں میں ڈاک کے ذریعے بھیج دیے۔
انھو نے بتایا ’میں اب کچھ نہیں کہہ سکتی کہ میرا پرسان حال کیا ہو گا، ابھی تک کوئی یوٹیلٹی بل ادا نہیں کیا، کب کون سی لائن کٹ جائے، بجلی، گیس کی یا پانی کی، مجھے کہیں سے کوئی بھی آس دکھائی نہیں دیتی ہے۔‘
شاہدہ بٹ کا کہنا تھا’ہمارا خیال تھا کہ ملک میں جس تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے وہ تبدیلی ہمارے روزگار کا بھی تحفظ دے گی مگر مجھے نہ کسی تنظیم سے امید ہے نہ حکومت کچھ کر رہی ہے، بس لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کی طرح گمنام، بیروزگار رہیں گے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔‘
ان کے مطابق ’میرے پاس کوئی گاڑی نہیں، پیدل تھی پھر سے پیدل ہوں بلکہ خالی جیب اخراجات کی لمبی فہرست کے ساتھ۔ یہ شعبہ خواتین کے لیے بہت اچھا ہے اگر وہ اسے اپنانا چاہیں اور معاشرے میں خواتین سمیت کسی کی بھی نمائندگی اور حقوق کا تحفظ کرسکتی ہیں لیکن میں یہ ضرور کہوں گی کہ خود ان کا اپنا محافظ کوئی نہیں وہ اپنی محافظ خود ہیں۔ اس شعبے میں بس وہی ٹھیک ہے جو مالک کا رشتہ دار یا منظورِ نظر ہے۔'
اسلام آباد کی صحافی سحرش واصف
'میں نے سنہ 2010 میں اسلام آباد کے انگلش اخبار ’ایکسپریس ٹریبیون‘ میں بطور صحافی کام کرنا شروع کیا تھا۔ اس وقت میڈیا میں خواتین اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھیں۔ ہم نے نئے ٹرینڈز سیٹ کیے۔ اپنے اخبار کو نئے سے نئے انداز میں چلانے کی کامیاب کوششیں کیں لیکن آج جو ہو رہا ہے ہم مایوس ہو گئے ہیں۔‘
’اب تو ایسا وقت آ گیا ہے کہ پوری کی پوری ٹیم کو کھڑے کھڑے نکال دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس تنخواہیں ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘
’اب تو لگتا ہے کہ صحافت ایک ایسا کام ہے کہ آپ جتنی بھی محنت کریں پھر بھی آخر میں کوئی بھی آپ کا شکریہ ادا نہیں کرتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صحافی بہت با اثر ہوتے ہیں لیکن ہم تو اپنے آپ کو بے یار و مدد گار اور لاچار سمجھتے ہیں۔‘
’ہماری کوئی بات بھی نہیں کرتا ہے کہ ہم تنخواہ اور نوکری کے بغیر کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وقت اسلام آباد میں رہنے والے صحافی اپنے بچوں کی فیسیں ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔ بل دینا مشکل ہوگیا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور کے صحافی اور کالم نگار محمد نواز طاہر
'پاکستان میں میڈیا ایک مافیا ہے۔ نواز شریف حکومت کے ختم ہوتے ہی پاکستان میں ہزاروں کارکن بیروزگار کر دیے گئے ہیں، وجہ سرکاری اشتہارات میں کمی بیان کی جاتی ہے، دوسری جانب عامل صحافیوں اور میڈیا مالکان کے پیاروں کی تنخواہوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘
’عامل صحافیوں کی تنخواہوں پر 10 سے 20 فیصد تک کٹ لگایا گیا ہے یہاں تک کہ ڈان گروپ کے نیوز چینل ڈان نیوز نے بھی یہ کٹوتی شروع کردی ہے جبکہ یہ ادارہ کارکنوں کے حوالے سے دیگر اداروں سے ہمیشہ بہتر رہا ہے۔‘
’نثار عثمانی، آئی ایچ راشد جیسے لیڈر اس ادارے میں بیٹھ کر کارکنوں کو لیڈ کرتے رہے اور آخری لیڈر شفیع الدین اشرف (چیئرمین اپینک )پچھلے ماہ ہی اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جن کے بعد انتظامیہ نے کارکنوں کی تنخواہوں پر کٹ لگانے کی جرات کی۔'
کراچی کی خاتون صحافی
ان خاتون صحافی نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر تنخواہیں نہ ملنے کے حالات کے بارے میں کچھ یوں بتایا 'گذشتہ دو ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے اب مجھے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ مجھے کرایہ دینا ہوتا ہے، بل ادا کرنا ہوتے ہیں، اور سفری اخراجات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے اب مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تنخواہیں تو مل ہی نہیں رہی ہیں لیکن اب یہ بھی خطرہ بڑھ گیا ہے کہ میڈیا کی انتظامیہ بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے ہی نہ نکال دے۔‘
’اب تمام میڈیا ورکرز تنخواہوں میں کٹوتی، تنخواہوں کی تاخیر سے ادائیگی، بندش اور برطرفی جیسے خطرات کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک جگہ سے نوکری چلی جائے تو پھر دوسری جگہ ملے گی نہیں کیونکہ باقی اداروں میں نوکریاں ہیں ہی نہیں۔'
لاہور کے صحافی حسین کاشف
’میں اپنے خاندان کا واحد کفیل ہوں۔ اب تو کئی مہینوں سے جبری بے روزگار ہوں۔ اب تو فاقوں تک نوبت پہنچ چکی ہے۔ ایک سفید پوش صحافی کے طور پر میرا خدا ہی جانتا ہے کہ میں قرض لے کر کیسے زندہ ہوں۔ اب میں اپنے بچوں اور بیوی کی ضروریات پوری بھی نہیں کر پا رہا ہوں۔ لوگ مجھے دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں کہ کہیں میں ان سے قرض نہ مانگ لوں۔‘
’میری عدالت عظمیٰ سے درخواست ہے کہ وہ میڈیا مالکان کو حکم دیں کہ کارکن صحافیوں کے واجبات ادا کریں تاکہ مجھ جیسے کمزور صحافی اپنے خاندان کی دو وقت کی روٹی کا انتظام تو کر سکیں۔‘










