وزیرستان کے مسیحی: ’ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کرسمس نہ منائی ہو‘

وانا
،تصویر کا کیپشنوزیرستان کے شمالی اور جنوبی علاقے میں دو چرچ موجود ہیں
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو، وزیرستان

'میری عمر 106 برس ہے۔ میں یہاں وانا میں تب آیا تھا جب میں 13 سال کا تھا۔ میرے والد یہاں فوج میں نوکری کرتے تھے۔ پہلے پہل قبائلیوں کی جانب سے ہماری آمد ناپسند کی گئی لیکن پھر آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو گیا۔ انگریز نے یہاں بہت کام کیا۔ ایک ہی ڈاک بنگلہ تھا میں وہاں نوکری کرتا تھا کبھی کبھی کوئی مہمان آجاتا تھا پھر یہاں انھوں نے میس بنائی یہاں ایک کمرے میں ہمیں چرچ بھی بنا کر دیا۔ اس زمانے میں بہت کام ہوا یہاں۔ ناں ناں ڈر کیسا یہاں کوئی ڈر نہیں ہے۔'

وانا چھاؤنی میں چارپائی پر لیٹے مینگا مسیح دیکھنے میں 90 برس کے لگ بھگ لگتے ہیں۔ کچھ دن قبل گرنے کی وجہ سے وہ فی الوقت چلنے پھرنے سے تو قاصر ہںیں لیکن یادداشت بہترین ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،ویڈیو کیپشنوزیرستان کے مسیحی خاندانوں کو کوئی ڈر نہیں ہے

وہ اور ان کے گرد موجود ان کے اہلخانہ وزیرستان میں بسنے والے لگ بھگ ان 150 خاندانوں میں شامل ہیں جو یہاں کی واحد اقلیت ہیں۔

شمالی و جنوبی وزیرستان کو گذشتہ دہائی میں پہلے طالبان کی کارروائیوں اور پھر ان کے خلاف فوجی آپرپشن کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی صورتحال میں یہ اقلیت کیسے یہاں رہی اور انھوں نے نقل مکانی کیوں نہیں کی؟

مینگا مسیح
،تصویر کا کیپشنمینگا مسیح کا خاندان وزیرستان میں قیام پذیر 150 مسیحی خاندانوں میں شامل ہے

چھاؤنی میں صبح سویرے صفائی میں مگن اسرار مسیح 20 برس سے یہاں ملازم ہیں۔ اب تو وہ اپنے بیوی بچوں کو بھی یہاں لے آئے ہیں۔ اسرار نے بتایا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم کرسمس نہ منا سکے ہوں ہم یہاں بہت خوش ہیں‘۔

1914 میں وانا چھاؤنی کے ایک کمرے میں بنایا جانے والا چرچ اب نسبتاً بڑی عمارت میں منتقل کر دیا گیا ہے جو عبادت کے موقع پر کھچاکھچ بھری ہوتی ہے۔

یہاں آنے والوں میں رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس بچے، مرد اور خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ خواتین تو یہیں پلی بڑھی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو شادی کے بعد پنجاب کے مختلف علاقوں سے یہاں منتقل ہوئیں۔

حمیرا کے شوہر اس گرجا گھر میں 18 برس سے پادری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یہاں 80 مسیحی خاندان ہیں۔ ہم دونوں (میاں بیوی) خدمت کرتے ہیں چرچ میں اور باہر بھی جاتے ہیں لوگوں کو کلام سنانے کے لیے‘۔

فرحت

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

،تصویر کا کیپشنفرحت کے ذہن میں طالبان اور آپریشن کی یادیں اب بھی تازہ ہیں

ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ انھیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں۔ ’ہم آزادی سے جاتے ہیں، کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اپنے مذہبی فرائض بھی ادا کرتے ہیں اور باہر کبھی کبھی شاپنگ کے لیے بھی جاتے ہیں‘۔

مذہب اور روزمرہ کے امور میں آزادی کے باوجود یہ اقلیت علاقے کے رسم و رواج کی پاسداری ضرور کرتی ہے اور باہر نکلتے ہوئے خواتین برقعے کا استعمال کرتی ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے آگے شمالی وزیرستان کے ٹوچی میس میں بھی ایسا ہی ایک گرجا گھر موجود ہے جو چھ سال پہلے تعمیر کیا گیا۔

شمالی وزیرستان کے ٹوچی چرچ میں آنے والی فرحت سکول میں پڑھاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہاں مذہب کی ویسے ہی آزادی ہے جیسے مسلمانوں کو ہے۔ جیسے آپ لوگ نعت پڑھتے ہیں ویسے ہی ہم لوگ بھی اپنے گیت گاتے ہیں‘۔

لیکن فرحت کے ذہن میں طالبان اور آپریشن کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔

وانا

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

،تصویر کا کیپشنچرچ سروس کے دوران ٹیبلو پیش کرتے ہوئے ننھے بچے

'ہم لوگ تو قلعے کے اندر ہوتے تھے، کافی دشوار تھی تب زندگی۔ باہر آنا جانا بند تھا، آر او ڈی میں آتے جاتے تھے۔ اندر سے کوئی چیز نہیں آنے دیتے تھے۔

’سارے طالبان تھے ادھر۔ بازار میں سارے ایسے ہی گھومتے پھرتے تھے۔ انھیں دیکھ کر ہی بہت خوف آتا تھا۔ انھوں نے کلاشنکوفیں پکڑی ہوتی تھیں، لمبے لمبے بال تھے‘۔

آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’2005-06 کی بات ہے۔ ایک ہی وقت میں چالیس، چالیس، پینتالیس، پینتالیس میزائل آ رہے ہوتے تھے‘۔

فرحت کہتی ہیں کہ فوج نے آپریشن کے دوران خواتین کو پیشکش کی کہ وہ اپنے آبائی علاقوں میں منتقل ہو سکتی ہیں تاہم انھوں نے شوہر کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی اور اس عرصے میں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا تھا۔