کابینہ کا بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری فیصلہ موصول ہونے کے بعد کیا گیا گیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے مشیرشہزاد اکبر اور افتخار درانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے جانب سے تحریری حکم نامہ موصول ہونے کے بعد وفاقی کابینہ نے بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی اہلکاروں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم میں لکھا ہے کہ اگر نیب کے پاس شواہد ہوں تو وہ بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی اکاؤنٹس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ اگر بلاول بھٹو زرداری کا تعلق اس مقدمے سے نہیں بنتا تو ان کا نام ای سی ایل میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟
چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کریں۔
خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک بھیجنے کے معاملے پرسپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس مقدمے میں ملوث تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔
ان میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر افراد کے نام شامل تھے۔
اس مقدمے میں جے آئی ٹی کو محض حقائق تک پہنچے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا لیکن اس ٹیم کے سربراہ کی طرف سے حکومت کو خط لکھا گیا کہ اس مقدمے میں ملوث تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔








