پاکستان: پیشگی اطلاع کے بغیرشمالی وزیرستان جانے کی اجازت

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کو عام پاکستانیوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب علاقے میں سکیورٹی اداروں کی طرف سے آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں شدت پسندوں کے خاتمے کے بعد مکمل امن کی بحالی کا دعویٰ کیا جاچکا ہے۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق پاک فوج کے تعاون سے شمالی وزیرستان میں عوامی نقل و حرکت کو آسان بنایا جارہا ہے جس کے تحت اب غیر مقامی افراد کو پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں بلکہ پہلے سے موجود چیک پوسٹوں پر نادرا کا جاری کردہ قومی شناختی کارڈ دکھا کر وہ ضلعے کی حدود میں بغیر کسی رکاوٹ کے آ جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
شمالی وزیرستان کے داخلی اور خارجی راستوں پر پانچ کے قریب سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ اس اعلان سے پہلے باہر سے آنے والے افراد کو علاقے میں داخل ہونے کےلیے باقاعدہ اجازت نامہ لینا پڑتا تھا۔ یہ اجازت نامہ جسے 'راہداری' بھی کہا جاتا تھا، باقاعدہ طورپر سکیورٹی اداروں اور مقامی انتظامیہ کی اجازت سے جاری کیا جاتا تھا۔
عام شہریوں کے لیے شمالی وزیرستان کے راستے کھول دیے جانے کے بعد پہلے روز زیادہ بڑی تعداد میں لوگ نہیں گئے لیکن شمالی وزیرستان جانے والی گاڑیوں اور مسافروں میں اضافہ ضرور دیکھا گیا ہے۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق انھیں کوئی ایسی شکایت موصول نہیں ہوئی کہ کسی چوکی پر کسی شہری کو روک دیا گیا ہو یا کسی کو واپس موڑا گیا ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنوں میں میرانشاہ جانے والی گاڑیوں کے اڈے کے منتظمین نے بتایا کہ میرانشاہ جانے والے مسافروں میں قدرے اضافہ ضرور دیکھا گیا ہے اور اب حالات پہلے کی نسبت معمول پر آتے نظر آ رہے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق (تازہ اقدام سے) 'بیرونی سرمایہ کاروں کو تجارتی معاملات میں کوئی دشواری ہو گی اور نہ ہی عزیزو اقارب کو آپس میں میل میلاپ میں کوئی مسئلہ ہو گا۔'

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہA MAJEED
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی احسان داوڑ کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد توقع ہے کہ اب علاقے میں غیر مقامی افراد کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ علاقے میں امن کی بحالی کے بعد کیا گیا ہے اور اب چیک پوسٹوں پر نہ تو لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں گی اور نہ ہی لوگوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوگا۔
احسان دواڑ کا مزید کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ کی طرف سے اس اعلان کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کچھ نوجوان تنظیمیں وقتاً فوقتاً چیک پوسٹوں پر درپیش سختیوں کی شکایات بھی کرتی رہی ہیں۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پہلے جب وہ کسی غیر مقامی مہمان کو اپنے ساتھ گھر لے کر جاتے تو اس سے پہلے مقامی انتظامیہ کو اس مہمان کی پوری تفصیلات فراہم کی جاتیں تھیں جس میں اس کی سکونت کا مقام اور ان کے ٹھہرنے کے دن بھی بتائے جاتے جبکہ ان کی واپسی پر انتظامیہ کو باقاعدہ طورپر مطلع کیا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شدت پسندی اور دہشت گردی سے متاثرہ شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں مسلح تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا اور چند ہی مہینوں میں سارا علاقہ عسکری تنظیموں سے صاف کردیا گیا۔
اس آپریشن کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ کے قریب افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے جو بعد ازاں پناہ گزین کیمپوں یا کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہوئے۔ تاہم جب بے گھر افراد واپس اپنے علاقوں کو لوٹے تو لگے انہیں معلوم ہوا کہ علاقے کا سارا نقشہ ہی تبدیل ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عائد پابندیوں اور سکیورٹی پوسٹوں پر غیر معمولی اقدامات کی وجہ سے مقامی افراد وقتاً فوقتاً احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔
چیک پوسٹوں پر نرمی اس وقت کی گئی جب شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی نوجوانوں کی تنظیم پشتون تحفظ تحریک نے ان سختیوں، رات کے وقت کرفیو کے نفاذ، خواتین اور ادھیڑ عمر کے افراد کی مبینہ ' بے عزتی' کی کھل کر مخالفت کی اور اس کے خلاف احتجاجی دھرنوں اور جلسوں کا آغاز کیا۔
سکیورٹی فورسز نے بعد میں ان نوجوانوں کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے چیک پوسٹوں کی تعداد میں کافی حد تک کمی کردی جبکہ سختیوں میں بھی کچھ حد تک نرمی کی گئی۔












