نواز، زرداری کے مستقبل پر کالے بادل: دونوں جماعتوں کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی قیادت تو ملک میں تحریکِ انصاف کی حکومت بننے کے بعد سے ہی مشکلات کا شکار رہی ہے لیکن اب اس فہرست میں ایوان میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی قیادت کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔
ملک کے تین دفعہ کے وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے ریفرینسز کے فیصلے 24 دسمبر کو آنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایون فیلڈ فلیٹ ریفرنس میں نواز شریف کو پہلے ہی سزا ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف زرداری کے خلاف نیویارک میں مبینہ طور پر ایک اپارٹمنٹ کی ملکیت انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرینس جمع کروا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے ساتھ ساتھ جعلی اکاؤنٹس کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے اور اس میں بھی آصف زرداری کا نام ہونے کی خبریں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں گرم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسلم لیگ نواز ہو یا پیپلز پارٹی دونوں ہی جماعتیں ان اقدامات کو حکومت کی ’انتقامی کارروائی‘ قرار دیتی رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اس ’مشکل‘ وقت میں یہ دونوں کوئی متحدہ فرنٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں یا نہیں۔
جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت اسلام آباد میں ملی جس کے بعد اجلاس میں شرکت کرنے والے سینیئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے خلاف کیے گئے اقدامات کوئی نئی بات نہیں اور اس صورتحال سے وہ گذشتہ دو سال سے گزر رہے ہیں۔
'ہماری جماعت کی قیادت کے خلاف لیے گئے اقدامات سے نپٹنے کے لیے ہم اندرورنی طور پر فیصلے کر رہے ہیں اور یہ کوئی نئی صورتحال نہیں آئی ہے ہمارے لیے۔ ہم ہر ممکنہ پلیٹ فارم پر اپنا نکتہ نظر سامنے لا رہے ہیں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جب ان سے جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے بارے میں پوچھا گیا تو سینیٹر پرویز رشید نے بتایا کہ اس اجلاس میں جماعت کے تنظیمی ڈھانچے کو از سر نو مرتب کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی۔
'ہماری قیادت نے پچھلے ہفتے بھی اسی بارے میں ملاقات کی تھی اور یہ اجلاس اسی کی کڑی ہے۔ انتخابات کے بعد سے ہماری جماعت کے کئی عہدے خالی ہیں جیسے شہباز شریف پہلے پنجاب کے صدر تھے اور اب وہ پوری جماعت کے صدر ہیں تو وہ والا عہدہ خالی ہے۔ اسی طرح ہمارا کوئی جنرل سیکریٹری نہیں ہے تو اس کے لیے ہماری قیادت کی آپس میں مشاورت کے لیے یہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔'
جب پرویز رشید سے حزب اختلاف کی دونوں جماعتوں کی قیادت کے سروں پر منڈلاتے خطرات کے حوالے سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز مسلسل پی پی پی سے رابطے میں ہے اور دونوں جماعتیں مشترکہ اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
'تحریک انصاف نے حکومت کی باگ ڈور ابھی سنبھالی ہے اور ہمارے خدشات کے باوجود ہم ان کی حکومت تسلیم کرتے ہیں۔ اب ان کے پاس چند ماہ ہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے جس کے بعد ہم فیصلہ لیں گے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ اس وقت تک عوام کے سامنے ، میڈیا اور عدلیہ میں اپنی جنگ لڑتے رہیں گے۔'

،تصویر کا ذریعہPMLN
دوسری جانب پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کو حکومت کی جانب سے 'سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔'
'ہماری جماعت کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے ہیں وہی پی ٹی آئی کے اپنے رہنماؤں پر لاگو ہوتے ہیں لیکن ان کے خلاف نہ جے آئی ٹی بنتی ہے اور نہ ہی نیب کوئی ایکشن لیتی ہے۔ یہ صرف ہمیں سیاسی طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔'
نفیسہ شاہ نے مزید کہا کہ پی پی پی مصالحتی سیاست کرتی ہے اور ان کا کسی بھی قومی ادارے سے لڑنے کا یہ انھیں نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن پی ٹی آئی ان اداروں کے کندھوں پر رکھ کر بندوق چلا رہی ہے۔ 'حکومت نے اداروں کو خود متنازع بنایا ہے اور انھیں مفلوج کر دیا ہے۔'
مسلم لیگ نواز سے رابطہ رکھنے پر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پارلیمان کی حد تک دونوں جماعتیں مکمل طور متحد ہیں اور آپس کے اختلافات کے باوجود وہ مشترکہ اپوزیشن کا کردار نبھا رہی ہیں۔
'اپوزیشن میں آنے کے بعد ہم نے مشترکہ طور پر فیصلے لیے ہیں اور اسی سلسلے کو جاری رکھیں گے۔'
آصف زرداری کے خلاف ریفرنس اور جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس رپورٹ کا جائزہ لے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
'ابھی تو ہمیں اس کے مندرجات دیکھنے ہوں گے اور پھر ٹرائل کورٹ کا عمل بھی ہونا ہے تو ابھی کچھ وقت ہے اور یہ سب سپریم کورٹ پر منحصر ہے۔'
سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی سہیل وڑائچ سے جب بی بی سی نے اس بدلتی ہوئی صورتحال پر سوال کیا تو انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں چاہیں گی کہ وہ فوراً سڑک پر آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں لیکن ان کے لیے ابھی یہ ممکن نہیں ہوگا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت نے متعدد بار ان دونوں رہنماؤں کو ملک کے خراب حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور یہ واضح ہے کہ وہ ان دونوں کو جیل بھیجنا چاہتی ہے اور 'یہ کوئی معجزہ ہی ہوگا کہ یہ دونوں بچ جائیں۔'
انھوں نے مزید کہا: 'بالفرض کے نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کو جیل ہو جاتی ہے اور پھر بھی ملک کے حالات بہتر نہیں ہوتے، تو شاید کچھ عرصے تک اتنا ردعمل سامنے نہ آئے لیکن اس کے بعد عوامی ہمدردیاں کھل کر سامنے آئیں گی اور حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔'










