برٹش ایئرویز کا 10 سال بعد اسلام آباد کے لیے اپنی پروازیں بحال کرنے کا اعلان

برٹش ایئر ویز

،تصویر کا ذریعہ@PID

،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر ایلن برنز، برٹش ایئرویز کے ایشیا بحرالکاہل اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے سیلز کے سربراہ رابرٹ ولیم، وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے سمندر پاکستانی امور سید ذوالفقار بخاری پریس کانفرنس میں
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

برطانیہ کی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز نے پاکستانی دارالحکومت اور لندن کے درمیان براہِ راست پروازوں کو 10 سال کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برٹش ایئرویز کے ایشیا بحرالکاہل اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے سیلز کے سربراہ رابرٹ ولیم نے بتایا کہ 'اسلام آباد اور ہیتھرو کے درمیان اگلے سال سے شروع ہونے والی پروازوں کے لیے ایئرلائن کا طویل سفر کے لیے استعمال ہونے والا جدید ترین بوئنگ 787 طیارہ استعمال ہو گا۔'

برٹش ایئرویز نے ڈائریکٹ فلائٹ بند کیوں کی تھی؟

برٹش ایئرویز نے 20 ستمبر 2008 میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کے چند دن بعد ہی اسلام آباد کے لیے اپنی براہِ راست پروازیں بند کردیں تھی۔ برٹش ایئرویز اُن دنوں اسلام آباد کے لیے ہفتے میں چھ پروازیں چلاتی تھی اور پی آئی اے کے علاوہ واحد دوسری ائیرلائن تھی جو ڈائریکٹ فلائٹ چلایا کرتی تھی۔

پاکستان میں سکیورٹی کی عمومی صورتحال میں بہتری کے بعد گذشتہ کئی برسوں سے ایسی افواہیں منظرِعام پر آتی رہیں کہ برٹش ایئرویز، لفتھانسہ اور چند دوسری یورپی اور امریکی ایئرلائنز پاکستان کے لیے پروازیں چلانے میں دلچسپی لے رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس وقت صورتحال کیا ہے؟

اس وقت پاکستان سے برطانیہ خصوصاً لندن سفر کرنے کے لیے آپ کے پاس یا تو پی آئی اے کی پرواز ہے جو نان سٹاپ یعنی ڈائریکٹ ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ پاکستان سے لندن کا سفر کریں تو خلیجی ایئرلائنز ایمرٹس، اتحاد، قطر ایئرویز، اومان ایئر، گلف ایئر، سعودی عریبین ایئرلائنز، ٹرکش ایئرلائنز اور کویت ایئرویز اپنے مرکزی ایئرپورٹس پر سٹاپ کے ساتھ پروازیں فراہم کرتی ہیں۔ اور ان ہوئی اڈوں پر قیام تین گھنٹے سے لے کر کئی گھنٹوں تک ہوتا ہے۔

برطانیہ اور پاکستان میں درمیان دوطرفہ پروازوں کا معاہدہ موجود ہے جس کی موجودگی میں کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں اور برٹش ایئرویز تین سے زیادہ پروازیں بھی چلا سکتی ہے۔

برطانیہ کی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برٹش ایئرویز کی واپسی کیسے ممکن ہوئی؟

برٹش ایئرویز کی واپسی کے لیے کوششیں گذشتہ کئی برسوں سے جاری تھیں۔ مگر اس کی راہ میں دو مسائل حائل تھے، ایک عملے کے قیام کے لیے راولپنڈی سے اسلام آباد کا سفر اور دوسرا ہوائی اڈے پر سہولیات کی عدم دستیابی۔

یاد رہے کہ پرواز کا دورانیہ طویل ہونے کے نتیجے میں ایئرلائن کے لیے یہ قانوناً لازمی ہے کہ وہ عملے کو اسلام آباد میں رکنے کے لیے سہولت فراہم کرے۔ یہ سہولت برٹش ایئرویز کے عملے کے لیے میریٹ ہوٹل میں فراہم کی جاتی تھی۔

سول ایوی ایشن کے ایک سابق سینیئر اہلکار کے مطابق 'میریٹ اسلام آباد میں قیام کے لیے راولپنڈی سے اسلام آباد کا سفر ایسا تھا جس کے لیے برٹش ایئرویز کے عملے اور اہلکاروں کے شدید تحفظات تھے۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسائل تھے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

تاہم اس حوالے سے برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر تھامس ڈریو اور پاکستان کے برطانیہ میں سابق ہائی کمشنر ابن عباس نے مل کر کام شروع کیا۔ جس میں سول ایوی ایشن اور ایوی ایشن ڈویژن نے معاونت کی۔

پاکستان آمد سے قبل تھامس ڈریو نے لندن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ایک عشائیے میں شرکت کی تھی جس میں شریک ایک پاکستانی سفارت کار نے بتایا کہ 'انہوں نے کہا کہ پاکستان جا کر ان کی کوشش ہو گی کہ وہ دو چیزوں کا دوبارہ اجرا کر سکیں۔ ایک پاکستان میں انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ سیریز اور دوسرا برٹش ایئرویز کی اسلام آباد کی واپسی۔'

ایمبر رڈ

،تصویر کا ذریعہaftabgilani73@

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کی سابق وزیرِ داخلہ ایمبر رڈ نے 22 مارچ 2017 کو سابق مشیر برائے ہوا بازی سردار مہتاب عباسی اور سابق ڈائریکٹر سول ایوی ایشن عاصم سلیمان کے ساتھ نئے ہوائی اڈے کا دورہ کیا تھا

اس دوران حکومت پاکستان نے برطانیہ سے آنے والی برطانوی سابق سیکرٹری داخلہ ایمبر رڈ کو اسلام آباد کے نئے ہوائی اڈے کے افتتاح سے قبل 22 مارچ 2017 کو ہوائی اڈے کا دورہ کرایا تھا جس کے بعد 7 نومبر کو برٹش ایئرویز کی سکیورٹی کی انتظامیہ نے ہوائی اڈے کا تفصیلی دورہ کیا جس میں انہوں نے ہوائی اڈے اور اس سے اسلام آباد شہر آمد اور واپسی کے راستوں کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔

کریڈٹ کے خواہاں

اس معاملے پر رائے منقسم ہے کہ اس کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی دونوں کے رہنما اور رکن اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ یہ ان کی سیاسی جماعت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

ایک جانب سابق وزیرِ داخلہ احس اقبال نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'میں بہت خوش ہوں کہ برٹش ایئرویز نے پاکستان کے لیے پروازیں شروع کیں۔ میں نے اس معاملے کو برطانوی وزیر داخلہ کے ساتھ ان کے دورے کے دوران اپریل 2018 میں اٹھایا تھا۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

انہوں نے اس کے ساتھ اپنی پرانی ٹویٹ کو شیئر کیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے مشیر سید ذوالفقار بخاری نے ٹویٹ کی کہ ’فضائی کمپنیوں کا مطلب روابط ہے۔ برٹش ایئرویز نے ایک دہائی کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ پاکستان کے لیے بہت بڑا قدم ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے اس سلسلے میں عاجزانہ مدد کی۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4