وزیرا اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخادی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔
اس عدلتی فیصلے کے بعد زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری نے وزارت داخلہ کی طرف سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔
درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کا نام ای سی ایل میں محض اس وجہ سے شامل کیا گیا کیونکہ قومی احتساب بیورو ان کے خلاف آف شور کمپنی کی تفتیش کر رہی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق زلفی بخاری کا موقف تھا کہ چونکہ وہ اب نیب کے پاس شامل تفتیش ہوگئے ہیں اس لیے اب ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
استغاثہ اور وزارت داخلہ کی طرف سے اس درخواست کی زیادہ مخالفت نہیں کی گئی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق ان کی درخواست کو منظور کرلیا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
قومی احتساب بیورو کی درخواست پر وزارت داخلہ نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی اہلیت سے متعلق ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیسے ایک غیر ملکی کو وزیر اعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا جاسکتا ہے۔
اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب دوہری شہریت کا حامل شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اور دوہری شہریت کے حامل افراد جنہیں گذشتہ حکومتوں میں مشیر تعینات کیا گیا تھا، کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں تو کیسے ایک غیر ملکی معاون خصوصی بن سکتا ہے؟
سپریم کورٹ نے اس درخواست پر نوٹس جاری کیے ہیں۔
زلفی بخاری کی وکالت بیرسٹر اعتزاز احسن کر رہے ہیں اور گذشتہ سماعت کے دوران اُنھوں نے چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ ان کے موکل نے اپنی تنخواہ بھاشا ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس بیان پر چیف جسٹس مسکرا دیے اور اس درخواست کی سماعت 24دسمبر تک ملتوی کر دی۔










