وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان پر الزام کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان ان دنوں خبروں میں ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کی دبئی میں جائیداد کے حوالے سے ازخود نوٹس لے رکھا ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں علیمہ خان کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ علیمہ خان کے خلاف الزام کیا ہے اور ان کا الزامات پر موقف کیا ہے؟
علیمہ خان پر الزام ہے کیا؟
وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان پر الزام ہے کہ اُنھوں نے دبئی میں اپنی جائیداد کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا تھا۔
اس سال جون جولائی میں شروع کی جانے والی ایمنسٹی سکیم سے اُنھوں نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ معاشی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شہباز رانا کے مطابق اگر علیمہ خان نے اس سکیم سے فائدہ اٹھایا ہوتا تو وہ صرف اپنی جائیداد کا دو سے تین فیصد رقم ادا کر کے اپنی جائیداد کو ریگولیرائز کرواسکتی تھیں لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہSupreme court of Pakistan
علیمہ خان کا موقف
وزیر اعظم کی بہن نے ابھی تک تحریری طور پر اپنا جواب تو عدالت میں جمع نہیں کروایا لیکن ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کا موقف تھا کہ اُن کے وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ وہ اس جائیداد کو ظاہر نہ کریں کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں بھاری جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے علیمہ خان کی جائیداد سے متعلق از خود نوٹس لیا ہے اور ایف بی آر سے اس بارے میں تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
ایف بی آر کا موقف
ایف بی آر کے حکام کا علیمہ خان کی جائیداد کے بارے میں کہنا ہے کہ اُنھوں نے بیرون ملک اپنی جائیداد کو ریگولرائز کروانے کے لیے جائیداد کا 25 فیصد حصہ جرمانے اور ٹیکس کی مد میں ادا کیا ہے۔ حکام نے علیمہ خان کی جائیداد کی ملکیت نہیں بتائی اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ ٹیکس اور جرمانے کی مد میں کتنی رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق علیمہ خان کے ٹیکس کی ادائیگی کا معاملہ ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹر میں نہیں بلکہ لاہور میں ریجنل ٹیکس لاہور میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علیمہ خان کی بیرون ملک جائیداد چھپانے کا معاملہ کب سامنے آیا؟
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے پاکستانی شہریوں کے بیرون ممالک کے بینکوں میں اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا۔
ایف آئی اے نے اس بارے میں آٹھ سو سے زیادہ پاکستانیوں کی ایک فہرست عدالت میں پیش کی تھی جن کے نہ صرف بیرون ملک بینکوں میں پیسے پڑے ہوئے ہیں بلکہ جن کی دبئی اور دیگر ملکوں میں جائیدادیں بھی ہیں۔ ایف آئی اے کے حکام کے مطابق اس فہرست میں علیمہ خان کا نام بھی شامل ہے جن کا دبئی میں ایک فلیٹ ہے جس کا ذکر اُنھوں نے اپنے انکم ٹیکس کے گوشواروں میں نہیں کیا تھا۔
ایف آئی اے کی نئی فہرست کے مطابق گیارہ سو سے زیادہ افراد کی بیرون ممالک جائیداوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نواز شریف کے ساتھ علیمہ خان کے کیس کا موازنہ
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دبئی میں اقامہ رکھنے کی بنا پر فارغ کیا گیا تھا چونکہ نواز شریف ایک عوامی عہدہ رکھتے تھے اس لیے حقائق چھپائے پر اُنھیں عمر بھر کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ علیمہ خان کے پاس کبھی بھی کوئی عوامی عہدہ نہیں رہا ہے اس لیے قانونی ماہرین کے مطابق ان دونوں کا موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔







