بلوچستان میں سنسر شپ: ’سرکاری اشتہارات کو سنسرشپ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں میڈیا اور سوشل میڈیا سینسر شپ کے حوالے سے بی بی سی اردو کی اس سیریز میں آپ روزانہ میڈیا کے کسی ایک شعبے سے متعلق فرد کو سینسر شپ کے حوالے سے درپیش مسائل کے بارے میں جا سکیں گے۔ آج پڑھیے کوئٹہ کے روزنامہ انتخاب کے مدیر انور ساجدی کے تاثرات۔
ملکی حالات کے پیش نظر اخباری مالکان اور دیگر کارکنوں نے خود پر سیلف سنسر شپ بھی مسلط کر رکھی ہے تاکہ وہ سکیورٹی کے مسائل کی زد میں نہ آئیں۔ ہر طرف سے جو سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ مثلاً ادھر وار لارڈ بھی ہوتے ہیں، ادھر شدت پسندی بھی ہے، ادھر گینگ وار بھی ہے، ادھر ادارے بھی ہیں۔ تو اس سے وہ بچنے کے لیے ڈر ڈر کر اپنا کام چلا رہے ہیں۔
دباؤ ہر طرف سے ہے۔ جو غیر ریاستی عناصر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کی خبریں شائع ہوں کیونکہ وہ آپس میں مدمقابل ہیں۔ تو ادارے چاہتے ہیں کہ ان کی خبریں شائع نہ ہوں اور صرف حکومتی نکتہ نظر شائع ہو۔ تو اس طرح کا دباؤ چلا آ رہا ہے خاص طور پر 2006 کے بعد دباؤ بڑھا ہے۔
یہاں پر نیوز ایجنسیوں سے سیٹلائٹ فون پر رابطہ کیا جاتا ہے اور انہیں اپنی خبریں، دھمکیاں اور نکتہ نظر دیا جاتا ہے۔ ان نیوز ایجنسیوں کے ذریعے ان کا نکتہ نظر اخبارات کو پہنچتا ہے۔ لیکن جب سے نیشنل ایکشن پلان آیا ہے اور عدالت نے اس کے تحت فیصلے دیے ہیں، تو اب اخبارات ان شدت پسندوں کا نکتہ نظر شائع نہیں کر رہے۔
اب یکطرفہ، یعنی صرف سرکاری نکتہ نظر چھپتا ہے۔ تو اب آپ یوں سمجھ لیں کہ بلوچستان کے اخبار سرکاری خبرنامہ ہیں۔ یعنی جو صوبائی یا وفاقی حکومت کی سرگرمیاں ہوتی ہیں ان کے ہینڈ آؤٹ بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقومی خبریں دے دیتے ہیں۔ عوامی امنگوں کے مطابق خبریں اب ہمارے اخباروں میں موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاستی دباؤ اشتہارات کی شکل میں آتا ہے۔ بلوچستان صنعتی یا کاروباری مرکز نہیں ہے۔ یہاں اخبارات کا واحد ذریعہ آمدن سرکاری اشتہارات ہیں۔ تو اس لیے وہ (اخبار مالکان اور ایڈیٹرز) مجبور ہیں کہ وہ سرکاری اشتہارات پر انحصار کریں کیونکہ ان اشتہارات پر ہی ان (اخبارات) کی زندگی کا دارومدار ہے۔ تو اخبارات کی زندگی اور نبض سرکار کے ہاتھ میں ہے۔
بلوچستان میں سماجی ارتقا جبراً روک دیا گیا ہے۔ صحافت بھی اسی سماجی ارتقا کا حصہ ہے۔ تو بجائے اس کے کہ یہ ترقی کرے، وہ بھی پیچھے کی طرف سفر کر رہی ہے۔ آزادی کا تو کوئی تصور ہی نہیں ہے۔
اس دباؤ اور سنسر شپ کو ڈیل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ پاکستان میں غیر جمہوری ادوار بہت مرتبہ آئے ہیں۔ اس دوران ان حکومتوں نے ایک طریقہ سیکھا ہے اور وہ ہے سرکاری اشتہارات کا۔ یہ لوگ سرکاری اشتہارات کو سنسر شپ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے اور یہاں کوئی کاروبار یا صنعت وغیرہ نہیں ہے۔ تو حکومتیں سرکاری اشتہارات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کی خبریں چھپواتی ہیں یا رکواتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس صورتحال میں مشکل یہ ہے کہ ان یکطرفہ خبروں کی وجہ سے شدت پسند صحافیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ صحافی بلوچستان میں قتل ہوئے ہیں۔ آج تک ان واقعات کی تفتیش نہیں ہوئی اور یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس نے قتل کروایا۔ صحافی یہاں پر بے یارو مددگار ہیں اور اخبارات خوف کے ماحول میں کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وار لارڈز نے کئی دفعہ اخبارات کی ترسیل بند کی ہے۔ وہ بسوں کو اخبارات اٹھانے سے منع کر دیتے ہیں اور ایجنٹس کو کہہ دیتے ہیں کہ وہ اخبارات کو تقسیم نہ کریں۔ غیر ریاستی عناصر نے بھی اخبارات کا بائیکاٹ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے زیر اثر علاقوں میں اخبار نہیں جا سکتے۔ یہی صورتحال ریاستی اداروں کی ہے۔ اخبارات کے ساتھ ریاستی اور غیر ریاستی اداروں کا رویہ ایک سا ہے، یعنی دھمکی دھونس اور جبر۔
ضیا الحق کے دور میں چونکہ مارشل لا نافذ تھا تو باقاعدہ سنسر شپ نافذ تھی۔ اب جو بھی ہے وہ غیر اعلانیہ ہے۔ اب ایڈوائسز کے ذریعے کام چلایا جاتا ہے۔ ایک ہدایت آتی ہے یا حکم آتا ہے اور اس کے تحت اخبارات اپنی پالیسی بناتے ہیں۔ اسے سیلف سنسرشپ بھی کہہ سکتے ہیں جو اخبارات خود اپنے اوپر لاگو کرتے ہیں۔ یہ ذرا مختلف طریقہ کار ہے مارشل لا سے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں مجموعی طور پر صحافت جانِ بلب ہے۔ یعنی آئی سی یو میں ہے۔ اور انہیں بچانے والے ڈاکٹر کام نہیں کر رہے جو کہ حکومت ہے۔ حکومت اور اس کے اداروں کا صحافت کو بچانے یا اس کی ترویج میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اور وہ جو سرکاری اشتہارات ہوتے ہیں اس کی ترسیل کا کام کرتے ہیں۔ حکومت کا کوئی اور کردار نہیں ہے۔
ان حالات میں بلوچستان کے اخبارات میں عوام کی امنگوں کی کوئی ترجمانی نہیں ہے۔ اور عوام بھی ریاستی امور سے لا تعلق ہیں (جن کے بارے میں خبریں چھپتی ہیں)۔ عوام ریاست سے، اس کے اداروں سے اور صحافت سے بھی لاتعلق ہیں اور ایک بہت ہی گہری مایوسی کا شکار ہیں۔











