گرمی کا توڑ بھی، سجاوٹ اور تحفہ بھی، تخت بائی کے رنگا رنگ روایتی ہتھ پنکھے

ہاتھ کے بنے پنکھے

،تصویر کا ذریعہSABA REHMAN

،تصویر کا کیپشنعموماً ایسے سجائے جانے والے ہاتھ کے پنکھے شادی بیاہ کے موقع پر تحفتاً دیے جاتے ہیں
    • مصنف, سبا رحمان
    • عہدہ, مردان

مردان کی تحصیل تخت بائی کا بازار جھنڈی سادہ ہاتھ کے بنے پنکھوں کے لیے مشہور ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مردان کی رہائشی بسنامہ صبح صبح اسی بازار کا رخ کرتی ہیں۔

بسنامہ کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو ہاتھ سے سادہ پنکھوں کی تزئین و آرائش کا کام کرتی ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں اب بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ایک عام سی بات ہے۔ چونکہ دیہاتوں کے لوگ سولر پینلز اور یو پی ایس تو لگانے سے رہے، لہٰذا یہاں آج بھی ہاتھ سے بنے ہوئے پنکھے استعمال ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے

جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے جہاں اس فن کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، وہیں بسنامہ نے اپنے علاقے میں اس پرانی رسم کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

ہاتھ کے بنے پنکھے

،تصویر کا ذریعہSABA REHMAN

،تصویر کا کیپشنجھنڈی بازار میں ہاتھ سے بنے ہوئے پنکھوں کی کئی اقسام دستیاب ہیں۔ ہر پنکھے کا ہجم اور ڈیزائن مختلف ہوتا ہے

ہاتھ سے بنے پنکھے اس خطے کی روایت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مہمند سے تعلق رکھنے والی 65 سالہ خاتون گل سران نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آج سے پنتالیس سال پہلے، جب میری شادی ہو رہی تھی تو میری والدہ نے خاص طور پر ہمارے گاؤں کی ایک عورت سے میرے لیے دو ہاتھ کے پنکھے بنوائے تھے، جنھیں میں اپنے ساتھ جہیز میں لائی تھی۔‘

بسنامہ کے مطابق یہ روایت آج بھی قائم ہے۔ ’زیادہ تر خواتین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے ہاتھ کے پنکھے بنواتی ہیں۔ ان پر طرح طرح کے ڈیزائن ہوتے ہیں۔ کچھ پر موتی لگانے کا آرڈر آتا ہے، تو کچھ خریدار اون کے دھاگے کی کڑاہی کا کہتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ سادہ پنکھے خرید کر رکھ لیتی ہیں اور جب آس پاس کی عورتیں کچھ بنوانے آتی ہیں تو وہ آرڈر کے حساب سے ان پر سجاوٹ کا کام شروع کر دیتی ہیں۔

ہاتھ کے بنے پنکھے

،تصویر کا ذریعہSABA REHMAN

،تصویر کا کیپشنبسنامہ کا کہنا ہے کہ پرانے زمانے میں ’لیس‘ کا اتنا رواج نہیں تھا اور لوگ صرف کڑھائی کرواتے تھے

ہر ایک پنکھے کی سجاوٹ کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، اور ہر نمونہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

بسنامہ کا کہنا ہے کہ ایک پنکھے کی سجاوٹ کا کام مکمل کرنے میں چار سے پانچ دن لگ سکتے ہیں۔ ’مجھے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی کرنے ہوتے ہیں اور ان پنکھوں پر کڑھائی کرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔‘

ہاتھ کے بنے پنکھے

،تصویر کا ذریعہSABA REHMAN

،تصویر کا کیپشنکچھ لوگ اون کے دھاگے کی کڑھائی پسند کرتے ہیں اور اس پر پھول بنانے کے بعد چھوٹے چھوٹے اون کے بال (جنھیں پشتو میں ’مزی‘ کہا جاتا ہے) لٹکانا پسند کرتے ہیں

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پرانے زمانے میں سجواٹ کے لیے 'لیس' کا اتنا رواج نہیں تھا اور لوگ صرف کڑھائی کرواتے تھے۔ ’لیکن آج کل لڑکیاں لیس لے آتی ہیں اور کہتی ہیں ’ترور اس پر یہ لیس بھی لگا دو تاکہ یہ پنکھا میرے کمرے کے پردوں کے ساتھ میچ ہوجائے۔‘

ہاتھ کے بنے پنکھے

،تصویر کا ذریعہSABA REHMAN

،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں آج بھی کئی گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔ ایسے میں بسنامہ رات کے اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی میں کام کر کہ اپنی روزی روٹی کماتی ہیں

مردان کی رہائشی شازیہ کی بڑی بیٹی کی عنقریب شادی ہونے والی ہے۔ وہ اسی غرض سے بسنامہ کے پاس ہاتھ کے بنے ہوئے پنکھوں کا آرڈر دینے آئی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ: ’حالانکہ میری بیٹی کی شادی سردیوں میں ہے، لیکن پھر بھی میں اپنی بیٹی کو یہ پنکھے ضرور دوں گی۔ یہ ایسی چیز ہے جو گرمیوں میں سب سے کارآمد ثابت ہوتی ہے۔‘

ہاتھ کے بنے پنکھے

،تصویر کا ذریعہSABA REHMAN

،تصویر کا کیپشنہر پنکھے کی آرائش میں مختلف اقسام کے موتی لگتے ہیں، جن کا چناؤ اکثر وہ لڑکی کرتی ہے جس کی شادی ہورہی ہو، یا اس کی ماں

ہاتھ کے بنے ہوئے یہ پنکھے 250 روپے سے لے کر 500 روپے تک کے فروخت ہوتے ہیں۔