سانحہ آرمی پبلک سکول کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا حکم

آرمی پبلک سکول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے میں 141 طلبا اور سٹاف کے دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے تقریباً چار برس قبل پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا حکم دے دیا ہے۔

16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران جمعے کو دیا۔

لواحقین کی جانب سے اجون خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سینیئر جج پر مشتمل کمیشن بنائیں جو چھ ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کروائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میں لواحقین سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے کمیشن کے قیام کا زبانی حکم جاری کیا لیکن تحریری حکم جاری نہ کر سکا، اس وقت صورتحال ایسی تھی کہ پشاور بینچ ٹوٹ گیا تھا۔

اسی بارے میں

چیف جسٹس نے لواحقین کو یقین دہانی بھی کروائی کہ ’میں آپ کے سامنے ابھی حکم جاری کرتا ہوں جس میں تاخیر نہیں ہو گی۔ پوری قوم آپ کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور آپ کو انصاف ملے گا۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ خود 16 اکتوبر کو آرمی پبلک سکول کا دورہ کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

آرمی پبلک سکول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'آج انصاف کا بول بالا ہوگیا‘

دیر آید درست آید

چیف جسٹس آف پاکستان کے اس کمیشن بنانے کے اعلان پر لواحقین فرط جذبات سے رو پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ اب انھیں ان کے بچوں کے خون کا حساب ملے گا۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی پبلک سکول میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آج انصاف کا بول بالا ہوگیا، آج ہمارے ہمارے بچوں کا نیا جنم ہوا ہے۔‘

حملے میں مارے جانے والے آرمی پبلک سکول کے ایک طالب علم زین اقبال کی والدہ کا کہنا تھا ’آج کا فیصلہ دیر آید درست آید کی مثال ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سب سے گزارش ہے کہ جب کہیں ظلم ہو آرام سے مت بیٹھیں۔ اتنے بچے شہید ہوئے آخر ایسا کیوں ہوا۔ سکول جیسی جگہ میں ایسا واقعہ کیوں ہوا۔‘