عالمی عدالتِ انصاف میں کلبھوشن کا مقدمہ 18 فروری سے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ وہ آئندہ برس فروری میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت کے منتظر انڈین شہری کلبھوشن جادھو کے مقدمے کی سماعت کرے گی۔
یہ بات آئی سی جے کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔ بیان کے مطابق عدالت 18 فروری سے 21 فروری تک مقدمے کی سماعت کرے گی۔
مزید پڑھیے
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رواں برس اگست میں کلبھوشن کے مقدمے پر بات کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے پاس ان کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور ’امید ہے کہ ہم یہ مقدمہ جیت لیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے خفیہ اداروں نے کلبھوشن جادھو کو تین مارچ سنہ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔ انھیں اپریل 2017 میں فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی تھی۔
انڈیا نے گذشتہ برس آٹھ مئی کو دی ہیگ میں واقع عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔
عدالت نے 18 مئی کو اپنے ابتدائی حکم میں کہا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔
پاکستانی حکام نے دسمبر 2017 میں کلبھوشن جادھو کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات بھی کروائی تھی جس کے لیے ان کی والدہ اور اہلیہ پاکستان آئے تھے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ ان کی اہلخانہ سے ’آخری ملاقات‘ نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہICJ
خیال رہے کہ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور جاسوس ہیں۔
انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔
تاہم بعد میں انڈیا نے کلبھوشن کو اپنا شہری تسلیم کرتے ہوئے عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کیا۔
چھ منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں کلبھوشن یادیو نے بتایا تھا کہ انھوں نے سنہ 2013 میں انڈین خفیہ ادارے را کے لیے کام شروع کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی اور بلوچستان میں را کی جانب سے بہت سی کارروائیاں کرتے آئے ہیں اور وہاں کے حالات کو خراب کرتے رہے۔
انھوں نے بتایا کہ تین مارچ سنہ 2016 کو پاکستانی حکام نے انھیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کا مقصد پاکستان میں داخل ہو کر بی ایس این (بلوچ سب نیشنلسٹس) کے اہلکاروں سے ملاقات کرنی تھی جو آنے والے دنوں میں بلوچستان میں کوئی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔











