یہ صفحہ لائیو نہیں رہا تفصیلی خبر کے لیے حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے: عالمی عدالتِ انصاف
’عدالت کے فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی‘
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف نے انڈین نیوی کے سابق اہلکار اور مبینہ جاسوس كلبھوشن جادھو کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔
لائیو کوریج
’کلبھوشن کو بچانے کی ہر ممکن کوشش‘
سشما سوراج نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم نریند مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’میں آپ سب کو یقین دلاتی ہوں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ کلبھوشن جادھو کو بچایا جائے۔‘
’اب ساری دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ کوئی مقدمہ چلا ہی نہیں تھا‘
انڈیا کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے ’تمام عالمی برادری، کم از کم قانون دان، نے یک زبان ہو کر رد عمل دیا ہے اور وہ آواز انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف موقف کے حق میں ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اب ساری دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ کوئی مقدمہ چلا ہی نہیں تھا، ساری کارروائی ڈھکوسلا تھی، اور فوجی مقدمہ کچھ بھی نہیں تھا۔ پاکستان کے موقف کے اس فیصلے کے بعد پڑخچے اڑ گئے ہیں۔ جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے یہ دونوں ریاستوں پر لازم ہے کیونکہ حتمی فیصلہ میں دائرہ کار پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’گریٹ ریلیف‘
انڈیا کی وزیر خارجہ سوشما سوراج نے عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’آئی سی جے کے فیصلے سے کلبھوشن جادھو کے خاندان اور پورے ملک کو بہت اطمینان ملا ہے۔‘
بریکنگ, ’ایک روپیہ فیس لی‘
انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’حریش سالوے عالمی عدالت انصاف میں کیس کی پیروی کرنے کے لیے ایک روپیہ فیس لیا ہے۔‘
’عبوری فیصلے کا حتمی فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے اٹارنی جنرل کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کے عبوری حکم پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ بات واضح طور پر کی ہے کہ عبوری فیصلے کا حتمی فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی وہ اس پر اثر انداز ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے ’یہ عبوری فیصلہ صرف عدالتی کارروائی کا حصہ ہے جس سے عالمی عدالت انصاف کو حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت ملے گا۔ یہ کارروائی عدالت کے حتمی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوگی۔‘
اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس سماعت میں حصہ عدالت کے احترام کی وجہ سے لیا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکے کہ عدالت کے اختیار اور دائرہ کار کے بارے میں فیصلہ اس کارروائی سے پرہیز کرنے کے بجائے اس میں شامل ہو کر کریں۔
’پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایسے تمام غیر حل شدہ معاملات صرف پر امن طریقوں سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انڈیا مستقبل میں اپنی تخریبی کارروائیاں نہیں کر سکے گا جیسے اس نے کمانڈر جادھو کے ذریعے کروائیں۔‘
اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق اس معاملے میں انڈیا کے لیے کوئی جان نہیں ہے۔
’جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، عدالت میں آج کے دیے جانے والے فیصلے سے کمانڈر جادھو کے معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہم نے 15 مئی کو عدالت میں یہ بتایا تھا کہ کمانڈر جادھو کو تمام مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی سزا کا قانونی دفاع کر سکیں اور ساتھ ساتھ ان پر معافی مانگنے کی اپیل دائر کرنے کا بھی موقع ہے۔‘
نریندر مودی نے عالمی عدالت انصاف کے حکم پر اطمینان کا اظہار
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی عدالت انصاف کے حکم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جس نے انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر عملدرآمد کو روک دیا ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق مودی نے وزیر خارجہ سشما سوراج کا شکریہ ادا کیا اور وکلا کی کوششوں کو سراہا۔
بریکنگ,
تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کا تعلق پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور انڈین تاجر سجن جندل کی ملاقات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے
بریکنگ, ’پاکستان نے آرٹیکل 36 ٹو پر ریوائزڈ ڈکلریشن داخل کیا ہے‘
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی عدالتِ انصاف کے آرٹیکل 36 ٹو پر ریوائزڈ ڈکلریشن داخل کیا ہے جو 1962 کے ڈکلیریشن سے زیادہ جامع تھا اور اِس میں جاسوسی اور دیگر امور سے متعلق شقوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا ’انڈیا کی حکومت کا چہرہ بے نقاب ہوا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کرنے اُس کی حمایت کرنے اور اُس کے لیے مالی معاونت کرنے میں ملوث ہے لہذا وہ یہ معاملہ انسانی حقوق کے تناظر میں یہ کہہ کر عالمی عدالت میں لے گئی کہ کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی نہیں دی جا رہی‘۔

،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنوزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا بریکنگ, عالمی عدالتِ انصاف کا فیصلہ
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: سربجیت سنگھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سربجیت سنگھ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اگست 1990 میں گرفتار کیا تھا۔ انڈیا کا موقف تھا کہ نشے میں دھت ایک پنجابی کاشتکار کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔ پاکستان نے سربجیت سنگھ کے خلاف فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں دھماکوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔
فوجی حکمران پرویز مشرف کے اقتدار کے دوران جب انڈیا پاکستان کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت انڈیا میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے سربجیت سنگھ کی رہائی کی مہم چلائی اور کئی بار ایسا لگا کہ حکومتِ پاکستان ان کو رہا کردے گی لیکن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سربجیت سنگھ کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔
سربجیت 2013 میں کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں زخمی ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ سربجیت سنگھ کی لاش کو انڈیا کے حوالے کیا گیا اور انڈیا کی حکومت نے سربجیت سنگھ کو سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کیا۔
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: کشمیر سنگھ
کشمیر سنگھ 1973 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوئے اور جب پاکستان کی جیلوں میں 35 برس گزارنے کے بعد انھیں 2008 میں رہا کیا گیا تو انڈیا میں ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔
کشمیر سنگھ کی رہائی میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کی کوششوں کا بہت عمل دخل تھا۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بےقصور قرار دیا لیکن بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ جاسوسی کے لیے پاکستان گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: رویندرا کوشک

،تصویر کا ذریعہTHE TELEGRAPH, INDIA
رویندرا کوشک ایک ایسے بھارتی جاسوس تھے جو 25 برس تک پاکستان میں رہے۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوئے۔ جب انھیں بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ تھے۔ اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد انھیں نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔ پاکستان بھیجے جانے سے پہلے اننھوں نے ختنے بھی کروا لیے تھے۔ وہ نہ صرف بہت کامیابی سے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، بلکہ انھوں نے پاکستان میں شادی بھی کر لی تھی اور ان کا بچہ بھی تھا۔
کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان افواج میں کلرک کے طور پر بھرتی ہوئے اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمشنڈ افسر بن گئے اور پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ رویندرا کوشک کی گرفتاری ایک اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
رویندرا کوشک کی گرفتاری کے بعد انھیں پاکستان کی مختلف جیلوں میں سولہ برس تک رکھا گیا اور 2001 میں ان کی موت جیل میں ہوئی۔
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: رام راج
دو ہزار چار میں لاہور میں گرفتار ہونے والے رام راج شاید واحد ایسے بھارتی جاسوس تھے جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگئے۔ انھیں چھ برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس انڈیا پہنچے تو انھیں بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ پاکستان آنے سے پہلے اٹھارہ برس تک بھارت کے خفیہ ادروں میں کام کر چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہNEWS18.COM
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: سرجیت سنگھ

،تصویر کا ذریعہPTI
سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس انڈیا پہنچے تو کشمیر سنگھ کے برعکس ان کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ پاکستان میں ’را‘ کا ایجنٹ بن کر گئے تھے لیکن کسی نے ان کی بات پر کان نہ دھرے۔
سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت ان کی غیر موجودگی میں ان کے خاندان کو 150 روپے ماہانہ پینشن ادا کرتے تھی جو اس بات ثبوت ہے کہ وہ `را‘ کے ایجنٹ تھے اور وہ گرفتاری سے پہلے پچاسی بار پاکستان کا دورہ کر چکے تھے جہاں وہ دستاویزات حاصل کر کے واپس لے جاتے تھے۔
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: گربخش رام

،تصویر کا ذریعہNEWS18.COM
گربخش رام کو 2006 میں 19 دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اٹھارہ برس تک پاکستانی جیلوں میں رہے ۔ گربخش رام کو 1990 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہے تھے لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے۔
بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو ملی ہیں۔ انھوں نے پنجاب کے چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل سے بھی ملاقات کی لیکن انھیں سرکاری ملازمت نہیں دی گئی ہے۔
کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: ونود سانھی

،تصویر کا ذریعہNEWS18.COM
ونود سانھی 1977 میں پاکستان میں گرفتار ہوئےاور گیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد انھیں 1988 میں رہائی ملی۔
ونود سانھی نے اب انڈیا میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے ’جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن‘ نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔
وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور تھے جب ان کی ملاقات ایک بھارتی جاسوس سے ہوئی جس نے انہیں سرکاری ملازمت کی پیشکش کی۔ انھیں پاکستان بھیجا گیا لیکن جب وہ پاکستانی قید سے رہا ہوئے تو حکومت نے ان کی مدد نہیں کی۔
عدالت جہاں صرف ریاستوں کی رسائی ہے

،تصویر کا ذریعہJUSTICE HUB
بریکنگ, عالمی عدالتِ انصاف کا فیصلہ باعثِ اطمینان, انڈین وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف کا یہ فیصلہ کلبھوشن جادھو کے خاندان اور انڈیا کی عوام کے لیے باعثِ اطمینان ہے
بریکنگ, متفقہ فیصلہ
عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے متفقہ فیصلہ کیا جس پر عملدرآمد لازم ہے کہ پاکستان کلبھوشن جادھو کو پھانسی اس وقت تک نہ دے جب تک عدالت اس مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں سنا دیتی۔
