'دیامر بھاشا ڈیم کے لیے بزرگوں کی ہڈیاں تک قربان کر دیں'
- مصنف, ظفر سید
- عہدہ, بی بی سی اردو، وادیِ کھنبری، ضلع دیامر
'دیامر بھاشا ڈیم میں لوگوں نے ایک دو دن کی تنخواہ عطیے میں دی ہے، لیکن ہم نے اپنے بزرگوں کی ہڈیاں تک قربان کر دی ہیں۔' یہ خیالات تھے سفید ریش عظیم اللہ کے جو ڈیم بننے سے بہت پہلے ہی اپنے علاقے سے دربدر ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں اور چند برسوں کے اندر اندر ان کے گاؤں موہنجوداڑو اور ہڑپہ کا منظر پیش کرنے لگے ہیں۔
عظیم اللہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی وادیِ کھنبری کے رہنے والے ہیں۔ وہ کانوں سے اونچا سنتے ہیں، اس لیے خود بھی زور سے بولتے ہیں۔
ابھی ڈیم بننے میں بہت وقت باقی ہے۔ اس کے لیے درکار لاگت کے چندے جمع کیے جا رہے ہیں اور فی الحال یہ واضح نہیں کہ رقم کہاں سے پوری ہو گی مگر عظیم اللہ اور ان کی برادری کے سینکڑوں لوگ ابھی سے بےگھر ہو گئے ہیں۔

ان کا تعلق سونےوال برداری سے ہے، جو روایتی طور پر دریائے سندھ سے سونا نکالنے کے پیشے سے وابستہ ہیں، اور صدیوں سے یہاں آباد ہیں لیکن وہ کہتےہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ علاقے کے آبائی باشندوں کی بڑی تعداد انھیں آج تک غیرمقامی اور باہر والا سمجھتی ہے۔ اسی لیے جب دیامر بھاشا ڈیم کے زمین حاصل کی گئی تو ان لوگوں کو بھی پیسے ملے، جس سے شین اور یاشکین نامی برتر سمجھے جانے والے قبائل کو بڑی کوفت ہوئی۔
کھنبری کے ایک اور باسی راج ملوک، جن کے چہرے پر محنت کی سختی اور لہجے میں کرب رقم ہے، اس بارے میں کہتے ہیں: 'سب نہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جن کی وجہ سے ہم پر زمین تنگ ہو گئی۔ ڈاکہ پڑنے لگا۔ کچھ گھرانوں کے ساتھ زیادتی ظلم ہو گیا، جس کے بارے میں وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا۔ بس علاقہ سے نکلتا تھا۔ ہم نے سوچا کہ ان لوگوں سے لڑائی دشمنی نہیں کی جا سکتی، چار سال بعد بھی جانا ہے تو بہتر یہی ہے کہ ابھی سے علاقہ چھوڑ دیا جائے۔'

علاقہ چھوڑ کر ان میں کچھ لوگ ضلع مانسہرہ میں جا بسے، کچھ نے گلگت کا رخ کیا، بعض قریبی قصبے چلاس میں جا کر رہنے لگے اور یوں نہ صرف خاندان تقسیم ہو گئے بلکہ پوری برادری تتر بتر ہو کر رہ گئی۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتظامیہ کا کردار
اس سلسلے میں انتظامیہ نے کیا کردار ادا کیا؟
ضلع دیامر کے کمشنر سید عبدالوحید شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'کچھ لوگ تو اپنی خوشی سے گئے ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں ان کے ساتھ پیسے کے لین دین کا مسئلہ تھا کیوں کہ یہ لوگ جہاں آباد ہیں اس زمین پر دوسرے قبیلے کا دعویٰ ہے۔
’ وہ کہتے ہیں کہ اصل مالک ہم ہیں تو ان لوگوں پر کچھ ایسا دباؤ، ایسا زور آیا ہو گا۔ اگر ان میں سے اکا دکا لوگ اس وجہ سے گئے ہیں تو ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔'

انھوں نے کہا کہ ’اس کے باوجود ہمیں احساس ہے کہ یہ لوگ وقت سے پہلے علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں، حالانکہ ابھی ڈیم بننے اور پھر جھیل میں پانی بھرنے میں خاصا وقت باقی ہے۔
’اس لیے 'انتظامیہ نے ان کی آبادکاری کے لیے چلاس کے قریب ہرپن داس کے علاقے میں 2083 کنال زمین مختص کر رکھی ہے، جہاں انھیں ایک ایک کنال کے پلاٹ دیے جائیں گے۔'
دوسری طرف کھنبری کے بےگھر سونےوال کہتے ہیں کہ وہ یہ وعدے 2014 سے سن رہے ہیں جو ابھی تک وفا نہیں ہو سکے۔

راج ملوک نے اس بارے میں دل جھنجھوڑ دینے والی مثال پیش کی: 'جب کسی گھر میں وفات ہو جاتی ہے تو سب سے پہلے کوشش کی جاتی ہے کہ جلد از جلد مردے کو دفنا دیا جائے۔ کھنبری کے سونےوال پچھلے چار سال سے بےگور و کفن لاشے کی مانند پڑے ہوئے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ انتظار کر رہی ہے کہ جب ڈیم بنے اور اس کے بعد 30 ہزار متاثرین کی آبادکاری اکٹھی شروع کی جائے، جب کہ ہم ابھی سے متاثر ہیں، اس لیے ہماری داررسی بھی ابھی ہونی چاہیے، ڈیم تو نہ جانے کب بنے گا۔

لیکن تمام تر مصائب کے باوجود بزرگ عظیم اللہ کو احساس ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کے لیے کتنا ضروری ہے۔ وہ کہتےہیں: 'اس علاقے کا ایک گلاس پانی مجھے پنجاب کے تمام دریاؤں سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن ہم نے سوچا کہ بجلی آئے گی، اس ڈیم کی وجہ سے پورا علاقہ روشن ہو گا، کارخانے لگیں گے، روزگار ملے گا۔ ترقی ہو گی، پاکستان کو فائدہ ہو گا تو اسی میں ہمارا فائدہ ہے۔ اس لیے ہم نے خوشی خوشی سب کچھ قربان کر دیا۔
ہم نے چلاس کے قریب ہرپن داس کے مقام پر وہ ماڈل ولیج بھی جا کر دیکھا جہاں ان لوگوں کو آباد کیا جانا تھا۔ وہاں پر ایماں کی حرارت والوں نے وہاں راتوں رات ایک سفید گنبد والی مسجد بنا دی ہے، باقی اللہ ہی اللہ ہے۔
دیامر کے سونے وال قبائل، جو صدیوں سے دریائے سندھ کے مٹیالے پانی کو چھان کر اس سے سونے کے ذرے تلاش کیا کرتے تھے، ان کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم بننے کے بعد ملک میں ہن تو جب برسے گا، تب برسے گا، ان کی زندگیاں ابھی سے کنکر پتھر بن کر رہ گئی ہیں۔












