تصاویر: لاہور میں گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھل گئے

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے لاہور کی مصروف شاہراہ قائداعظم پر واقع گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے ہیں۔

اتوار کو اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے یہاں کا رخ کیا۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اعلان کیا ہے کہ 'لاہور میں گورنر ہاؤس ہر اتوار کو صبح دس سے شام چھ بجے تک عوام کے لیے کھلا رہے گا۔ ہماری حکومت پاکستان کے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کر رہی ہے۔'

ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق قومی شناختی کارڈ کا حامل کوئی بھی شہری گورنر ہاؤس میں داخل ہو سکتا ہے جبکہ فی الحال گورنر ہاؤس کے مخصوص حصے جیسا کہ جھیل، باغیچے اور پہاڑی تک عوام کو رسائی دی گئی ہے۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ لاہور کے گورنر ہاؤس کے دروازے عام عوام کے لیے کھولے گئے ہیں۔ اس سے قبل 1990 کی دہائی میں سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر نے گورنر ہاؤس کے دروازے سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے کھولے تھے اور آج بھی یہ روایت قائم ہے۔

خیال رہے کہ گورنر ہاؤس کا شمار لاہور کی تاریخی عمارات میں ہوتا ہے۔ اس عمارت کی تعمیر انگریز دور حکومت میں سنہ 1851 میں ہوئی تھی اور مختلف ادوار کے دوران اس کی رقبے میں اضافہ کیا گیا۔

برطانوی دور حکومت میں اس عمارت کو پنجاب کے برطانوی لیفٹیننٹ گورنر کی رہائش کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جبکہ قیام پاکستان کے بعد اسے باقاعدہ طور پر گورنر پنجاب کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔

گورنر پنجاب کی موجودہ احاطہ تقریبا 71 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔

یہ عمارت نہ صرف گورنر پنجاب کی سرکاری رہائش گاہ ہے بلکہ صدر پاکستان، وزیراعظم، سرکاری مہمان اور غیرملکی سرکاری مہمان بھی یہاں قیام کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں وفاقی وزیرِ شفقت محمود نے اعلان کیا تھا کہ حکومتِ پاکستان ایوانِ وزیرِ اعظم کو اعلیٰ معیار کی پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی میں منتقل کر دے گی۔

شفقت محمود نے کہا تھا کہ لاہور میں واقع گورنر ہاؤس کو میوزیم اور آرٹ گیلری بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ گورنرہاؤس کے پارک کو عوام کے لیے کھولا جائے گا، جب کہ لاہور میں واقع چنبہ ہاؤس کو گورنر آفس میں تبدیل کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ حکومت گورنر ہاؤس کو ٹرسٹ کمپلیکس بنا رہی ہے، جب کہ راولپنڈی پنجاب ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو بھی تعلیمی اداروں میں منتقل کر دیا جائے گا۔

تمام تصاویر عون جعفری کی ہیں۔