پاکستان میں ہندو خواتین سکھ بننے پر مجبور

مندر

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شجاع ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں ہندو برادری کی کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے تحفظ کے لیے معاشرے میں سکھ بن کر رہنا پڑتا ہے۔

حسن ابدال میں مقیم پناہ گزین امیت کوئر کہتی ہیں ’سکھ برادری میں قبول کیے جانے کے لیے گرانتھ صاحب (سکھوں کی مقدس کتاب) پڑھتی ہوں کیونکہ یہاں کوئی مندر نہیں ہے مگر ناامیدی کے وقت میں بھگوت گیتا پر واپس جانے پر مجبور ہو جاتی ہوں‘۔

ایسی کئی مشکلات کا تذکرہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی تنظیم ویمنز ریجنل نیٹ ورک کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتوں کے ان پناہ گزینوں، خاص طور پر خواتین پناہ گزینوں کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ملک کے مختلف علاقوں سے فوجی آپریشنز، طالبان کی دھمکیوں اور دیگر مسائل کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں مزید پڑھیے

اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

خواتین پناہ گزینوں میں سے کئی گھرانوں کے مرد ان فوجی آپریشنوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں پاکستانی معاشرے میں کئی گنا مسائل کا سامنا کرنا پرتا ہے۔

مندر

کئی ایسی خواتین ہیں جن کے پاس قومی شناختی کارڈز نہیں اور پناہ گزین کا درجہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اس کا متبادل بھی حاصل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی حکومتی امداد سے مستفیض ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ پاکستانی حکومت اس بات کا قانونی اعتراف نہیں کرتی کہ ملک کے کچھ علاقوں میں شورش جاری ہے اسی لیے ان پناہ گزینوں کے پاس کوئی ایسا نظام یا طریقہ نہیں کہ وہ ریاست سے مدد حاصل کر سکیں۔

پاکستان میں پناہ گزینوں کو زیادہ تر قدرتی آفات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور اسی لیے مذہبی بنیادوں پر اپنی جانیں بچانے کے لیے نقل مکانی کرنے والوں کو حکومتی امداد نہیں جاتی ہے۔ ایسے میں ان پناہ گزینوں کو اپنی میزبان برادریوں کے رحم و کرم پر رہنا پڑتا ہے۔

جن علاقوں میں یہ پناہ گزین نقل مکانی کر کے جاتے ہیں وہاں کے لوگ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انھیں اکثر چور تصور کیا جاتا ہے یا پھر انھیں پہلے سے موجود کم وسائل پر اضافی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

،ویڈیو کیپشنسکھ آئی ڈی پی: ’ہمارا شناختی کارڈ ہی ہمارے لیے مسئلہ ہے‘

مثال کے طور پر رحیم یار خان کی چک نمبر 244 میں جب اس رپورٹ کے محققین نے بات کی تو ان کہنا تھا کہ اس علاقے میں پینے کا صاف پانی پہلے ہی بہت کم ہے اور اگر انھیں یہ اضافی پناہ گزینوں کے ساتھ بانٹنا پڑا تو مشکلات ہوں گی۔

رپورٹ کی مصنف نے جن ہندو خواتین سے بات کی ان میں سے زیادہ تر کا یہی کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندوؤں کو کافر اور بت پرست کے ساتھ ساتھ ملک دشمن اور غدار تصور کیا جاتا ہے۔

ہندوؤں کے لیے عبادت گاہوں کی کمی صرف عبادت کا مسئلہ نہیں۔ اگر کوئی ہندؤ چل بسے تو کئی مرتبہ اپنے مذہب کے مطابق آخری رسومات کے لیے ورثا کو میت کو کسی دوسرے شہر لے جانا پڑتی ہے۔ خواتین کی صحت کے خصوصی مسائل کے حل تو دور کی بات ہیں۔