اقلیتی آئی ڈی پیز، پاکستان کے گمنام مہاجرین
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ننکانہ صاحب
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب کے ایک نواحی علاقے میں دو بوسیدہ سے کمروں اور ایک جھونپڑی پر مشتمل چھوٹا سا مکان ہے۔ اس میں 35 سالہ بیوہ لکشمی کور اور ان کے کنبے کے افراد گذشتہ تقریباٌ ایک دہائی سے رہائش پذیر ہیں۔ مگر یہ ان کا گھر نہیں۔
ان کا گھر اور اسے آباد رکھنے والے معاش کے ذرائع دونوں صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں تھے۔ سنہ 2006 میں انہیں وہ دونوں چھوڑ چھاڑ کر جان بچا کر بھاگنا پڑا۔
یہ وہ سال ہے جب پاکستانی فوج نے بگٹی قبیلے کے اُس وقت کے سردار نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف آپریشن کیا جس کے اختتام پر وہ اپنے کئی ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں مزید پڑھیے
لکشمی کور کے چار بیٹے تھے، ایک کی چند برس قبل ایک حادثے میں موت ہو گئی۔ ایک دماغی کمزوری کا شکار ہے۔ ان کے شوہر کی بھی گزشتہ برس ہی موت ہوگئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لکشمی کور کے علاوہ وہ پیچھے اپنی پہلی بیوی اور ایک بیٹا بھی چھوڑ گئے۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس وقت خاندان کا واحد کفیل ہے۔
تمام افراد اسی مکان میں رہتے ہیں۔ ایک کمرے میں لکشمی کور کے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد کی تصویریں دیوار پہ ٹنگی ہیں۔ نیچے دو تین چارپائیاں اور ضرورت کا تھوڑا بہت سامان پڑا ہے۔ بس اتنی ہی جگہ ہے۔
کمرے سے نکل کر آٹھ دس قدم چلیں تو صحن ختم ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی جھونپڑ تلے دو بکریاں بندھی ہیں۔ واپس ڈیرہ بگٹی میں ان کے گھر کا نقشہ ایسا نہیں تھا۔

بے گھری
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لکشمی کور نے بتایا کہ ’وہاں ہمارے پاس چار سے پانچ کمرے تھے، بڑا صحن تھا اور اپنا کام کاج تھا۔‘
لکشمی کور اور ان کے شوہر کے خاندان سمیت کئی سکھ خاندان اکبر بگٹی کی زمینوں پر اپنے باپ دادا کے زمانے سے آباد تھے۔
فوجی آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی وہاں کے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔
’جس کے ہاتھ جو آیا اس نے اٹھایا اور بھاگا۔ فوج کی مدد سے ہم سوئی کے مقام تک پہنچے۔ مگر وہاں سے آگے نہیں معلوم تھا کدھر جائیں۔‘
ہجرت کرنے والے مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے برعکس صوبے کے دیگر علاقوں میں اقلیتی برادری کے ان افراد کی جان پہچان کے لوگ نہیں تھے۔ تو انہوں نے صوبہ پنجاب میں جہاں سکھوں کے مقدس مقامات اور آبادی موجود تھی وہاں کا رُخ کیا۔
کچھ حسن ابدال گئے تو لگ بھگ 35 خاندانوں نے سکھوں کے پہلے گُرو گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کا رُخ کیا جہاں سکھ برادری کے لیے مقدس ترین مقام گردوارہ جنم استھان واقع ہے۔

خطرہ کیا تھا؟
شیرا سنگھ کا خاندان سب سے پہلے یہاں پہنچنے والوں میں سے ایک تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انوں نے بتایا کہ ’چھوٹے بڑے لڑائی جھگڑے قبائل میں چلتے رہتے تھے مگر ان سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ مگر آپریشن میں ماحول کچھ اور تھا۔‘
’دونوں اطراف سے بھاری اسلحے کا استعمال ہو رہا تھا اور مورچہ بند لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ راکٹ گرتے تھے۔ ہم سب گھروں میں دبک کر رہ گئے تھے۔‘
چند ہی روز میں مقامی آبادی کے افراد کو خطرے کے پیشِ نظر علاقہ خالی کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ ’لڑائی کے دوران ہی ہم تو فوج کے پاس پہنچے اور وہاں سے نکلنے کے لیے مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے ہمیں محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔‘
وہاں سے سکھ برادری کے افراد کے لیے صوبہ پنجاب میں لاہور کے قریب واقع ننکانہ صاحب کی جانب سفر کا آغاز ہوا۔ لکشمی کور کے خاندان کو یہاں پہنچتے ایک ماہ کا عرصہ لگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ’راستے میں مختلف جگہوں پر رکتے، محنت مزدوری کر کے کرایہ کے پیسے جمع کرتے اور آگے بڑھتے تھے۔‘
جائے امان
ان سے پہلے اور ان کے بعد بھی سکھ برادری کے مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونحواہ کے قبائلی علاقہ جات سے تھا۔
22 سالہ جگجیت کور کا خاندان دہائیوں سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور اور ضلع کُرم کے علاقہ پاڑہ چنار میں آباد رہا جہاں ان کا کاروبار تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’ان علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے ہمارے والد کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچا اور ہم خود کو محفوظ بھی نہیں سمجھتے تھے۔‘
’آئے دن فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے۔ پھر جب دہشت گرد ہمارے علاقوں میں داخل ہوئے تو اس کے بعد اغوا برائے تاوان کے واقعات بڑھ گئے۔ ان میں سکھ براداری کے افراد خاص طور پر نشانہ بنتے تھے کیونکہ وہ کاروباری تھے۔ کئی لوگ ہم سے قرض لے کر فرار بھی ہو گئے۔‘
جب حالات زیادہ بگڑے تو ان کے والد نے ننکانہ صاحب کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ صوبہ خیبر پختونخواہ سے لگ بھگ 200 کے قریب خاندان اب یہاں آباد ہیں۔

شناخت ہے، شناختی کارڈ نہیں
جگجیت کور کے والد کا گذشتہ برس انتقال ہو گیا۔ ان کا گھرانہ معاشی طور پر قدرے بہتر ہے۔ ان کے تین بھائی ہیں جن میں سے دو ننکانہ صاحب میں کاروبار کرتے ہیں۔ والد کی خواہش کے مطابق جگجیت کور نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔
ننکانہ کے ایک مقامی کامرس کالج سے بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد حال ہی میں انہوں نے ایک نجی بینک میں ڈیٹا انٹری آپریٹر کے طور پر ملازمت اختیار کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی برادری میں نوکری کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ ’میرے والد کی خواہش تھی کہ میں اچھی تعلیم حاصل کروں اور پھر اچھی ملازمت کروں۔ اس طرح دوسری لڑکیوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور وہ بھی آگے آئیں گی۔‘
وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری نوکری حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں۔ مگر اس کی راہ میں بھی مسائل حائل ہیں۔
’ہماری برادری کے بہت سے افراد کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہیں۔ جن کے پاس ہیں ان پر پتہ ہمارے آبائی علاقوں کا درج ہے۔ اس پر ہمیں یہاں نوکریاں نہیں ملتیں۔ اور پتہ تبدیل کروانے واپس نہیں جا سکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے کارڈ موجودہ پتوں پر یہاں بنا دیے جائیں تو ان سمیت ان کے بہنوں بھائیوں اور برادری کے دیگر افراد کے بچوں کو بہت سی سہولیات اور نوکریاں حاصل کرنے میں آسانی ہو گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کون کرے گا؟
آئی ڈی پیز یا ٹی ڈی پیز؟
اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی اندرونِ ملک ہجرت کا شکار ہونے والی لکشمی کور اور جگجیت کور جیسی خواتین جن مسائل سے گزر رہی ہیں، وومن ریجنل نیٹ ورک نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے اپنی ایک حالیہ مقالیاتی رپورٹ میں اسکا احاطہ کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ’شیٹرڈ سولز‘ یعنی ’بکھری جانیں‘ نامی رپورٹ کی مصنفہ صائمہ جاسم نے بتایا کہ ان خواتین کے مسائل اور ان کا حل اتنے برس گزر جانے کے باوجود نہ مل پانے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔
’اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتی کہ ایسے شورش زدہ علاقوں میں تنازع یا جنگ کے حالات ہیں۔ اس طرح اس کے نتیجے میں ہونے والی اندرونِ ملک ہجرت کے تصور کو بھی نہیں مانا جاتا۔‘
’اس طرح ایسے افراد کی مدد کے لیے نہ تو کوئی باضابطہ پالیسی موجود ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ۔‘
اندرونِ ملک ہجرت کرنے والے افراد کی امداد کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر جو ادارے موجود ہیں وہ صرف ’قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو سنبھالتے ہیں۔‘
صائمہ جاسم کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست نے ’آئی ڈی پیز‘ یا اندرونِ ملک ہجرت کا شکار ہونے والے افراد کے لیے جو اصطلاح دی ہے وہ ٹی ڈی پیز‘ یعنی ’عارضی طور پر ہجرت کرنے والے‘ ہے۔ یعنی ایسے افراد جو تین سے چار ماہ تک بے گھر ہوتے ہیں اور پھر واپس لوٹ جاتے ہیں۔
’مگر اقلیتی برادری کے ایسے افراد میں ہم نے دیکھا کہ وہ دس سے بارہ سال سے بے گھر ہیں اور مستقبل میں بھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ اصطلاح سب پر لاگو کرنا درست نہیں۔‘

لوٹ کر کہاں جائیں؟
صائمہ جاسم ریسرچ کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے نیدرلینڈز سے ڈویلپمنٹ سٹڈیز اور آسٹریا سے ایم اے پیس اینڈ کانفلکٹ سٹڈیز کے ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ بے شمار مقالیاتی رپورٹوں کے علاوہ وہ انہی موضوعات پر دو کتابیں بھی لکھ چکی ہیں۔
اس رپورٹ میں انہوں نے حسن ابدال، ننکانہ صاحب اور رحیم یار خان میں آباد سکھ اور ہندو برادری کی خواتین سے بات چیت کی ہے جن کی تصاویر اور بیانات رپورٹ کا حصہ ہیں۔
صائمہ کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادریوں کی خواتین ہجرت کے اس عمل میں بے شمار جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے گزرتی ہیں۔
’انہیں جسمانی تشدد، زنا اور خاندان سے بچھڑنے کے خطرات کے علاوہ مذہب اور عقائد کی بنیاد پر شددت پسندی کا نشانہ بننے جیسے خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ ہندو خواتین اس حوالے سے خصوصاٌ زیادہ غیر محفوظ پائیں گئیں۔‘
جگجیت کور اپنے خاندان کی مکمل حمایت کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں اور نامساعد حالات کے باوجود اپنے خاندان کا ہاتھ بٹا رہی ہیں، تاہم لکشمی کور جیسی سکھ برادری کی مہاجر خواتین ایسا بھی نہیں کر سکتیں۔
لکشمی کور کا کہنا تھا کہ ان کے قبائلی رسم و رواج انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے۔
’ہم خواتین گھر سے باہر نہیں نکلتیں چاہے جیسے بھی حالات ہوں۔ بھوکے پیاسے بھی ہوں گے تو گھر میں ہوں گے۔‘
فاقے کے ایسےحالات ان کے خاندان پر گزشتہ برسوں میں کئی مرتبہ آئے ہیں۔ تب گردوارہ جنم استھان ان کے کام آتا ہے۔
’میرا چھوٹا بیٹا وہاں سیوا کرتا ہے۔ جب کبھی کام کاج نہیں ملتا اور گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تو وہ گردوارے میں لنگر سے لے آتا ہے۔‘
اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں اب حالات بہتر ہیں مگر وہ کہتی ہیں وہ واپس نہیں جا سکتیں۔ ’اب وہاں کہاں جائیں۔ کون ہمیں کام دے گا؟ کون ہمیں جگہ دے گا؟ اور کام کرنے والا بھی کوئی نہیں۔‘
صائمہ جاسم نے رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان لکشمی کور اور جگجیت کور جیسی خواتین کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے فوری ایسے اقدامات اٹھائے جن سے انہیں سرکاری امداد تک رسائی حاصل ہو سکے اور ان کی مستقل بحالی کے راستے کھل سکیں۔












