صدارتی انتخاب میں تین امیدوار میدان میں، تحریک انصاف کا پلڑا بھاری

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں عام انتحابات کے بعد اب صدارتی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے جس میں تحریک انصاف کے امیدوار کے مقابلے میں منسقم حزب اختلاف کی جانب سے دو امیدوار میدان میں ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ تین حتمی صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں حمکران جماعت کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی، مسلم لیگ نون کی جانب سے مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن میدان میں ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق 12 امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے تھے جن میں سے چار امیدواروں کے کاغذارت منظور ہوئے اور جمعرات کو کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کا آخری دن تھا۔
انھوں نے بتایا کہ مسلم لیگ نون کی جانب متبادل امیدوار امیر مقام نے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیے ہیں اور یوں اس وقت صرف تین امیدوار صدارتی دوڑ میں شامل ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدارتی انتخابات چار ستمبر کو منعقد ہوں گے جس میں چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلی کے لیے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور اسلام آباد کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پریزائیڈنگ افسر ہوں گے۔
صدارتی انتخابات کا طریقہ کار
صدر پاکستان کو عوام کے منتخب نمائندے یعنی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ خفیہ ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے صدر کے انتخاب والے دن ان تمام ایوانوں کو پولنگ سٹیشن کا درجہ دیا جاتا ہے۔
صدارتی الیکشن جیتنے کے لیے آئین کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے پچاس فیصد کی سادہ اکثریت یا تین سو باون اراکین کی حمایت درکار ہو گی
آئین کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے میں صدارتی امیدوار کو پڑنے والے ووٹوں کو سب سے کم اراکین والی اسمبلی یعنی بلوچستان میں ارکان کی تعداد سے ایوان کی مجوعی تعداد پر تقسیم کر دیا جاتا ہے جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جاتا ہے۔
منقسم حزب اختلاف

،تصویر کا ذریعہرائٹAFP
حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے سب سے پہلے ڈاکٹر عارف علوی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تو اس کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے اعتراز احسن کا نام نامزد کر دیا گیا تو حزب اختلاف ایک بارپھر منقسم ہو گئی جس میں مسلم لیگ ن کو اعتزاز احسن کے نام پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
مسلم لیگ نون کی جانب سے اعتزاز احسن کا نام واپس لینے کے مطالبات کو پیپلز پارٹی نے ماننے سے انکار کر دیا تو اس مسئلے کے حل کے پنجاب کے شہر مری میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس بھی بلائی گئی جس میں اپوزیشن نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق کیا گیا لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے مزید وقت مانگا گیا۔
تاہم پیپلز پارٹی نے مشاورت کے بعد اعتراز احسن کے نام پر بھی قائم رہنے کا فیصلہ کیا اور مولانا فضل الرحمان کو اپنے موقف کے بارے میں آگاہ کیا کہ وہ مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کو اس بارے میں آگاہ کر دیے تاہم مسلم لیگ نون کی جانب سے بھی کوئی لچک نہیں دکھائی گئی اور اس نے مولانا فضل الرحمان کو حزب اختلاف کی جانب سے صدارتی امیدوار نامزد کر دیا جس پر پیپلز پارٹی نے حیرت کا اظہار کیا۔
عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے ایوان میں ایک مضبوط حزب اختلاف کا اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان منتخب ہونے سے پہلے حزب اختلاف کے اتحاد نے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا لیکن یہ اتحاد ایوان میں سپیکر کے انتخاب تک متحد رہا لیکن اس وقت منقسم ہو گیا جب مسلم لیگ نون کی جانب سے اپنے صدر شہباز شریف کو قائد ایوان کا امیدوار نامزد کر دیا اور یوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے راستے جدا ہو گئے۔
تحریک انصاف کا پلڑا بھاری

،تصویر کا ذریعہAFP
حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کا فائدہ حکمران جماعت تحریک انصاف ہوا جس نے پہلے ہی صدارتی انتخابات کے لیے درکار مطلوبہ ارکان کی تعداد پوری ہونے کا اعلان کر رکھا تھا تاہم متحد حزب اختلاف کی صورت میں اس مشکل کا بھی سامنا تھا لیکن بظاہر اس کے لیے میدان صاف ہے۔
پاکستان لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانس پیرینسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسملبوں میں ارکان کی تعداد 1074 ہے لیکن چونکہ کچھ سیٹیں خالی ہیں تو اس وجہ سے اس وقت ارکان کی تعداد 1047 ہے اور آئین کے مطابق صدارتی انتخابات میں شمار ہونے والے ووٹوں کی تعداد 679 ہے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق اگر اس وقت تحریک انصاف کے اتحادیوں اور مسلم لیگ نون کے اتحادیوں کو دیکھا جائے تو اس میں تحریک انصاف صاف صاف جیتی دکھائی دیتی ہے۔
اس وقت تحریک انصاف کے صدارتی ووٹ 317 سے 320 کے قریب ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے ووٹ 200 سے 205 کے درمیان ہیں اور اگر اس میں پیپلز پارٹی کے ووٹ شامل کر لیے جائیں تو دونوں جماعتوں کے ووٹوں کی تعداد 317 کے قریب بن جاتی ہے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق یوں تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی کے ووٹ تقریباً برابر برابر ہیں اور اس صورتحال میں فیصلہ آزاد ارکان اور چھوٹی جماعتوں کے پاس چلا جاتا ہے جس میں جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمہوری وطن پارٹی اور رائے حق جیسی جماعتیں ہیں جن کے پاس ایک ایک، دو دو ووٹ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان جماعتوں کے ووٹ 27 کے قریب ہیں جبکہ 20 آزاد ارکان ہیں اور ان کا جھکاؤ تحریک انصاف کی طرف ہے تو اس تناظر میں تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار کے دونوں صورتوں میں جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں چاہیے حزب اختلاف کا مشترکہ امیدوار ہی کیوں نہ ہو۔









