حقوق انسانی کارکنوں کی گرفتاری پر پابندی، حکومت کو نوٹس جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، دلی
انڈیا کی سپریم کورٹ نے حقوق انسانی کے پانچ کارکنوں، وکلا اور دانشوروں کی گرفتاری پر پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ تاحکم ثانی ان کارکنوں کو نظر بند ی میں رکھے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر پولیس نے ان کارکنوں کو ماؤ نوازوں کا حامی ہونے کے الزام میں منگل کو گرفتار کیا تھا۔
معروف مورخ رومیلا تھاپر سمیت ملک کے پانچ ممتاز شہریوں نے سپریم کورٹ میں ان کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل کی تھی۔ عدالت عظمی نے درخواست کی سماعت کے بعد پولیس کو حکم دیا کہ ان کارکنوں کو گرفتار نہ کیا جائے اور چھ ستمبر کو آئندہ سماعت تک انھیں ان کے گھروں میں نظر بند رکھا جائے۔
عدالت نے اس معاملے میں مہاراشٹر اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ فرد کی گرفتاری کا سوال نہیں ہے کیونکہ جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں وہ دوسروں کے حقوق کے دفاع کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ حکومت انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP
عدالت نے کہا کہ اختلاف جمہوریت کی روح ہے اور یہ واضح طور پر اختلاف کو دبانے کی کوشش لگتی ہے۔
مہاراشٹر حکومت کا کہنا تھا کہ شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے یہ کارکن ماؤ نوازوں کے حامی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے حقوق انسانی کے سرکردہ کارکن اور صحافی گوتم نولکھا، قبائلیوں کے حقوق کے لیے سرگرم قانون داں سدھا بھاردواج اور دانشور ورورا راؤ سمیت کئی کارکنوں کو مختلف مقامات سے گرفتار کر لیا تھا۔
مہاراشٹر پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارکن 'شہری ماؤ وادی' ہیں اور یہ ممنوع ماؤ نوازوں کے ساتھ موجودہ سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
ملک کے دانشوروں اور سماجی تنظیموں نے حقوق انسانی کے ان کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ان گرفتاریوں سے اپنے مخالفین کی آواز کو دبانا چاہتی ہے تاکہ وہ خوف کا ماحول پیدا کر سکے۔
ان گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹ میں جن پانچ ممتاز شہریوں نے درخواست دائر کی تھی ان میں رومیلا تھاپر، ماہر پربھات پٹنائک، ستیش دیش پانڈے، مایا دارو والا اور دیوکی جین شامل ہیں۔
اس معاملے کی مزید سماعت چھ ستمبر کو ہو گی۔







