ملک گیر چھاپے، حقوق انسانی کے کارکن گرفتار

گوتم نولکھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگوتم نولکھا بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے رہے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں اس سال کے اوائل میں دلتوں کی ایک سیاسی ریلی میں تشدد کے سلسلے میں پولیس نے صحافی اور کارکن گوتم نو لکھا سمیت ملک کے کئی سرکردہ حقوق انسانی کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کارکنوں کی اشتعال انگیز تقریروں سے تشدد بپا ہو ا تھا۔ پولیس انہیں ماؤ نواز انتہا پسندوں کا حمایتی بھی قرار دے رہی ہے۔ کئی سرکردہ دانشوروں نے ان گرفتاریوں کی سخت مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ حکمراں بی جے پی اپنے مخالفین کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔

پونے کی پولیس نے علی الصبح دلی ، ممبئی حیدرآباد ، تھانے، رانچی اور فریدآباد میں جھاپے مار کر گوتم نو لکھا، شاعر اور بائیں بازو کے دانشنور ورورا راؤ ، حقوق انسانی کی وکیل سدھا بھاردواج، اور بائیں بازو کے کارکن وکیل ویرنن گونزالیس اور ارون فریریا کو دلتوں کو تشدد کی طرف مائل کرنے اور ماؤ نوازوں کی حمایت کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے ۔

31 دسمبر کو پونے میں دلتون نے دو صدی پرانی ایک جنگ کی یاد میں ایک تقریب کا اہتممام کیا تھا ۔ اس جنگ میں برطانوی دور میں دلتوں کی فوج نے اعلی ذات کے ہندوؤ ں کو شکست دی تھی ۔ پونے کی تقریب کے بعد دلتوں اور ان کی ریلی کی محالفت کرنے والے اعلی ذات کے ہندوؤوں کے درمیان چھڑپ ہو گئی تھی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا انعقاد اور اہتمام دلتوں کی آڑ میں ماؤ نوازوں نے کیا تھا ۔ اس معاملے کی تفتیش کے دوران گزشتہ جون میں پولیس نے ایک مبینہ خط برامد کیا تھا جس کے بارے میں اس نے دعوی کیا تھا کہ اس میں وزیر اعطم نرینر مودی کو سابق وزیر اعظم راحیو گاندھی کے طرز پر ہلاک کرنے کی سازش کا اشارہ کیا گیا۔

پولیس نے اس سلسے میں پانچ سرکردہ وکیلوں اور کارکنون کو گرفتار کیا تھا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان پانچوں کی تفتیش سے باقی لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں ۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ان لوگوں کی آوازیں دبانے کے لیے کی جارہی ہیں جو حکمراں ہندو قوم پرست بی جے پی کی مخالفت کر رہے ہیں ۔

بین الاقومی شہرت یافتہ ادیبہ ارون دھتی رائے نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہو‏ے ایک بیان میں کہا ہے ''سر عام لوگوں کا قتل عام کرنے والوں اور ہجومی تشد کے مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے ، وکیلوں، شاعروں، ادیبوں، دلت رہنماؤں اور دانشوروں کے یہاں چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کس طرف جا رہا ہے ۔ قاتلوں کی عزت افزائی کی جائے گی ۔ لیکن اکثریت کے خلاف آواز اٹھانے والوں اور انصاف کی آواز بلند کرنے والوں کو مجرم قرار دیا جا رہا ہے ۔ کیا یہ آنے والے انتخاب کی تیاریاں ہیں ۔'

،ویڈیو کیپشنانڈیا میں دلت برادری کے ملک گیر مظاہرے

معروف مورخ رام چندر گوہا نے ایک ٹویٹ پیغام میں ان گرفتاریوں کو انتہائی شرمناک قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا 'سپریم کور ٹ ملک کی آزاد اور غیر جانبدار آوازوں کو ہراساں کرنے اور دبانے سے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں سدھا بھاردواج اور گوتم نو لکھا اور دوسرے کارکنوں کو جانتا ہوں ۔ ان کا تشد کے نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔'

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے ترجمان ٹام واڈکن نے بھی ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور اسے 'جہوریت کی آواز کو دبانے' کی کوشش سے تعبیر کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کارکنوں ، وکیلوں اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے خلاف اس کارروائی سے انسانی حقرق کی بنیادی اقدار کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ ایمنسٹی کے سربراہ آکار پٹیل نے کہا کہ یہ گرفتاریاں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے جس میں حکومت کے ناقدین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

'ان سبھی کارکنوں کی تاریخ یہ ہے یہ انڈیا کے سب سے کمزور اور غریب طبقے کے حقوق کا دفاع کرتے رہے ہیں ۔ ان گرفتاریوں سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کہیں انہیں ان کی سرگرمیوں کے سبب تو حدف نہیں بنایا جا رہا ہے۔'

گوتم نولکھا، سدھا بھاردواج ، ورورا را‎، اور دیگر کارکن جنہیں گرفتار کیا گیا ان میں سے بیشتر بائیں بازو کے رحجانات رکھتے ہیں اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں۔

گوتم نولکھا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کے خلاف ایک موثر آواز رہے ہیں ۔ جبکہ سدھا بھاردواج چھتیس گڑھ میں قبائلیوں کے فرضی انکاؤنٹرز اور بے جا گرفتاریوں کے مقدمات میں پیش پیش رہی ہیں۔ پونے کی پولیس نے ابھی تک باضابطہ طور پر ان کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا ہے لیکن توقع ہے کہ ایک دو دن میں انہیں ان کارکنوں کی گرفتاری کا مجسٹریٹ کی عدالت میں جواز پیش کرنا پڑے گا۔

بھارت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنان گرفتاریوں کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمت کی ہے