الیکشن 2018: ’سنیتا اس جاگیردارانہ نظام کو چیلنج کر رہی ہیں جو خواتین کو اُن کا حق نہیں دیتا‘
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی، ننگرپارکر
گھنشام تقریباً نابینا ہیں۔ پوجا شروع کرنے سے قبل ماچس کے ذریعے اگربتی جلانے کے لیے انھیں کچھ مشکل تو ہوئی لیکن ان کی ایک دو مرتبہ کوشش کے بعد اگربتی جلنے لگی۔ جس کے دھوئیں کے پچھے سے اُن کا دھندلایا ہوا چہرہ نظر آ رہا ہے۔
گھنشام انڈین سرحد کے قریب نگر پارکر کے علاقے میں موجود مندر میں جاتے ہیں۔
یہ مندر1971 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے بعد ہندو خاندان کے یہاں سے چلے جانے کے بعد سے بند پڑا ہے۔
پوجا مکمل کرنے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہو گھنشام نے کہا کہ 'میرے والد بتاتے تھے کہ یہ 12 ہزار فٹ جگہ تھی۔'
اب زمیندار کہتا ہے کہ یہ اُس کی زمین ہے اور صرف یہ مندر ہمارا ہے۔ جب میرے بھائی نے اُس سے بات کی تو وہ ناراض ہو گیا اور کہا ہم عدالت سے رجوع کریں۔'
گھنشام نے کہا کہ 'ہم بہت غریب ہیں ہم عدالت جانے کا خرچ ادا نہیں کر سکتے۔'
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر مٹھی شہر میں سنیتا پرمار اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ اُن کا تعلق تھر پارکر میں آباد دلت ہندو برادری سے ہے۔
ایک موٹر سائیکل رکشے پر سفر کرتے ہوئے سنیتا کی ساس اُن کے ساتھ ہیں۔ وہ انتخابی مہم شروع کرنے سے قبل صوفی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینے کے لیے رکیں۔
روایتی ساڑھی میں ملبوس جب وہ درگاہ میں داخل ہوئیں تو انھوں نے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔ ان کے ساتھ ہی کچھ افراد بھی درگاہ میں داخل ہوئے۔
سندھ میں صوفی بزرگوں کو مسلمان اور غیر مسلمان دونوں ہی عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
سنیتا نے دربار میں داخل ہو کر اپنی کامیابی کے لیے دعا کی۔
وہاں موجود 50 کے قریب حامیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس جاگیردارانہ نظام کو چیلنج کریں گی جو غریب میں تفریق کرتا ہے اور خواتین کو اُن کا حق نہیں دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'میں نے مقامی جاگیرداروں کی حاکمیت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔'
سنیتا کا دعویٰ ہے کہ ان کی برادری کی عورتوں نے انھیں امیدوار نامزد کیا ہے کہ تاکہ وہ اُن کے لیے آواز اٹھائیں اور اُن کے حقوق کے لیے لڑیں۔
لیکن سنیتا کے الیکشن جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں میں ہندو سب سے زیادہ ہیں لیکن زیادہ تر ہندو تقسیمِ ہند کے بعد یہاں رہ گئے ہیں۔
گو کہ تھرپارکر کی آبادی کی اکثریت ہندو برداری پر مشتمل ہے لیکن سیاست میں اُن کی نمائندگی نہیں ہے۔ کسی بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کے بغیر ہندو امیدوار کا عام نشستوں پر الیکشن جیتنے کا امکان بہت کم ہے۔
پاکستان دلت تحریک کے رہنما ڈاکٹر سونو خنگرانی کا کہنا ہے کہ 'تھرپارکر کے مجموعی ووٹروں کے 23 فیصد دلت ہیں لیکن اُن کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔'

ڈاکٹر سونو نے بتایا کہ 20 دلتوں نے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی لیکن بڑی سیاسی جماعتوں نے کسی کا بھی ساتھ نہیں دیا۔
انھوں نے بتایا کہ'ماضی میں ہماری برادری کے کچھ لوگ پارلیمان تک بھی پہنچے لیکن اُن کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے۔ اس لیے وہ پارٹی لائن کے مطابق ہی بات کرتے تھے اور وہ ہماری برادری اور مسائل کے بارے میں کچھ نہیں کر سکے۔'
اس بارے میں مزید پڑھیے
ڈاکٹر سونو کا کہنا ہے کہ ریاست دلت برادری سے امتیازی سلوک نہیں کرتی بلکہ ہندو برادری اُن کے ساتھ امتیازی رویہ روا رکھتی ہے۔
لیکن ایک ہندو برادری کی اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مہیش کمار مالانی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔

مٹھی کے ملانی ہاؤس میں جشن کا سا سماں ہے۔
مہیش کمار ملانی نے اپنے حامیوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ 'ہندو اور مسلمان ووٹروں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔'
مہیش کمار ملانی کافی عرصے سے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں اور ماضی میں رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'مجھے یقین ہے کہ پی پی پی کے حامیوں کو میرے مذہب سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ ہم جیت کے لیے بہت کوشش کر رہے ہیں۔'
کسی پارٹی سے وابستگی کے بغیر ہی بہت سے دلت آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑ رہے ہیں۔ وہ شاید کامیاب نہ ہو سکیں لیکن اپنی موجودگی کو تسلیم کروانے کے لیے پرعزم ہیں۔











