پاکستان کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کی جدوجہد

ایف اے ٹی ایف

،تصویر کا ذریعہfatf

،تصویر کا کیپشنایف اے ٹی ایف کے قوانین کے مطابق تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق بین الاقوامی گروپ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں شامل کرنے کا باقاعدہ اعلان جمعے کو ہو گا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے 'گرے لسٹ' میں نام شامل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے حکمت عملی میں موجود نقائص کا جائزہ لینے کے لیے ایک ایکشن پلان زیر غور ہے۔

یاد رہے کہ فروری میں پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

رپورٹوں کے مطابق پاکستان آئندہ 15 ماہ کے عرصے میں 26 نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے اور اگر اس ایکشن پلان پر عمل نہ ہو سکا تو پاکستان کو 'بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔

ایکشن پلان کے اہم نکات کیا ہیں؟

فروری میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی وفد کی سربراہی کرنے والے اُس وقت کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی فنانسنگ روکنے کے لیے بیشتر اقدامات کیے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے انھوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے ساتھ ایک ایکشن ترتیب دیا ہے۔ جس کے اہم نکات یہ ہیں:

  • منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے وفاق اور صوبوں کی حکومت کے مابین بہتر رابطے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی کی جا سکے۔
  • پاکستانی حکومت دہشت گردی کے معاملات عدالتوں میں لے کر جاتی ہے لیکن دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف مقدمات کو عدالتوں میں لے کر جایا جائے۔
  • پاکستان کو چاہیے کہ سرحدوں پر غیر قانونی طور پر کرنسی کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
  • وہ تنظیمیں جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کالعدم قرار دی گئی ہیں اُن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو ان تمام اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لیے ستمبر 2019 تک کی حتمی مہلت دی ہے۔ اگر پاکستان مقررہ وقت تک ان تمام اقدامات نہیں کرے گا تو وہ 'بلیک لسٹ' ہو جائے گا۔

حافظ سعید

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کو سمگلنگ، منشیات اور فلاحی تنظیموں پر خصوصی توجہ دینا ہو گی خاص کر دولتِ اسلامیہ، القاعدہ، جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، لشکرِ طیبہ

کیا پاکستان کچھ نہیں کر رہا؟

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ فروری میں ہونے والے اجلاس میں انھوں نے بتایا تھا کہ پاکستان اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے لیے تمام اقدامات کر رہا ہے اور پاکستان کو گرے لسٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود امریکہ کے دباؤ پر پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سمگلنگ، منشیات اور فلاحی تنظیموں پر خصوصی توجہ دینا ہو گی خاص کر دولتِ اسلامیہ، القاعدہ، جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، لشکرِ طیبہ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک اور طالبان سے وابستہ افراد اور ان جیسے دہشت گرد گروہ۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت کالعدم تنظیموں پر پاکستان میں بھی پابندی ہے۔ ان کے رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل تھے، انھیں ہتھیار کے لیے لائسنس نہیں دیے جاتے اور اُن کے اثاثے منجمد ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 'نئے آرڈیننس کے تحت ہم نے ان کالعدم تنظیموں کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے مغربی ممالک سے سیاسی تعلق سے بہتر ہو جائیں گے تو اس معاملے میں بھی لچک دکھائی دے گی۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ابھی تو امریکہ ہمیں گرے لسٹ میں ڈالنا چاہتا تھا وہ اُس نے ڈال دیا۔

گرے لسٹ میں شامل کرنے سے کیا نقصان ہو گا؟

اب جبکہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل ہو رہا ہے تو اس کا پاکستان کی معیشت پر کیا اثر ہو گا؟

اس بارے میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ویسے تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن بین الاقوامی سطح پر 'ساکھ' متاثر ہوتی ہے اور کسی حد تک بینکوں کو نئے روابط بنانے میں دشواری ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ 2008 سے 2015 تک پاکستان مختلف اوقات میں گرے لسٹ میں شامل رہا ہے اور کچھ عرصے تک 'بلیک لسٹ میں بھی شامل رہا ہے۔