بین الاقوامی دباؤ پر فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اقوم متحدہ کی جانب سے کالعدم قراد دی گئی تنظیموں پر پاکستان میں پابندی کے اعلان کے بعد حکومت نے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
پاکستان کی جانب سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے، جب آئندہ ہفتے پیرس میں ہونے والے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کو واچ لسٹ میں ڈالنے کے لیے تحریک پیش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو خبردار کیا گیا تھا کہ عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان کو دوبارہ واچ لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
رانا افضل نے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے بہت سے اقدامات کیے ہیں اور اس حوالے سے بین الاقوامی فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کی شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب کچھ ممالک اس سلسلے میں پاکستان پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں اور پاکستان نہیں چاہتا کہ اُسے واچ لسٹ میں ڈالا جائے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
اس سے قبل اتوار کو حکومت نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کو پاکستان میں بھی کالعدم قرار دیا تھا۔
جس کے بعد اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل 12 تنظیموں کے خلاف پاکستان میں بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت کچھ ایسی تنظیموں کے خلاف بھی ایکشن لیا جا رہا ہے جن کے بارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
رانا افضل نے کہا کہ 'جیسے فلاح انسانیت فاونڈیشن (ایف آئی ایف) جو حافظ سعید کی تنظیم ہے کہیں ایمبولینسز چل رہی ہیں لیکن اب ہم نے اُن پر بھی پابندی لگا دی ہے تاکہ انھیں مطمئن کر سکیں۔ انھیں شائد اُن کا نام اچھا نہیں لگ رہا۔'
رانا افضل نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ (ایف آئی آیف) اس نام کے ساتھ یا اُس بینر تلے کام نہیں کریں گی۔ اگر سروس یا ایمولینس چلنی ہے تو وہ کسی اور پلیٹ فارم اور کسی اور مینجمنٹ کے تحت کام کر سکتے ہیں، جس پر ان کو شبہ یا شک نہ ہو۔'
یاد رہے کہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کالعدم قرار دی گئی ہے لیکن پاکستان میں اس تنظیم کے تحت سینکٹروں ایمبولینسز ملک کی مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پنجاب میں فلاحِ انسانیت کے خلاف کریک ڈؤان شروع ہو گیا ہے اور راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چار ڈسپنسریوں اور ایک مدرسے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
پاکستان کے وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ 'اگر یہ تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں تو اس کا ثبوت پاکستان کی حکومت کے پاس ہونا چاہیے یا پھر وہ ثبوت دیں جو ہمیں تجویز کر رہے ہیں۔'
اس سے قبل پاکستان کے مشیر برائے اُمور خزانہ مفتاح اسماعیل نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا تھا کہ پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کے لیے امریکہ فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں تحریک پیش کر رہا ہے اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی اُس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس اقدام کو ناکام بنانے کے لیے بھی کوششیں تیز کردی ہیں۔
واضح رہے کہ ایف ٹی اے ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو شدت پسندوں کی معاونت کرنے والوں کا تعین کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 2012 سے 2015 تک پاکستان فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کی واچ لسٹ میں رہ چکا ہے۔
پاکستان کے وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ پاکستان امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے رابطے میں ہے تاکہ عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کی نامزدگی کو روکا جاسکے۔










