سوشل میڈیا ایکٹوسٹ گل بخاری لاہور سے ’اغوا‘ کے چند گھنٹے بعد رہا

گل بخاری

،تصویر کا ذریعہGul Bukhari

،تصویر کا کیپشنگل بخاری اپنی ٹویٹس اور ٹی وی پروگرامز میں تجزیوں کے دوران پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتی دکھائی دیتی ہیں

سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور کالم نگار گل بخاری کو منگل کی شب لاہور میں اغوا کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

ادھر چیف جسٹس نے لاہور میں صحافی اسد کھرل پر تشدد کا از خود نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

گل بخاری کو لاہور میں نامعلوم افراد نے رات گیارہ بجے کے قریب اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ پروگرام کرنے کے لیے وقت ٹی وی کے دفتر جا رہی تھیں۔

اُن کی گمشدگی کے چند گھنٹے کے بعد سوشل میڈیا پر اُن کی بحفاظت واپسی کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں گل بخاری کے رشتے دار اور صحافی اعصام احمد نے تصدیق کی کہ گل بخاری بخیریت گھر واپس لوٹ چکی ہیں تاہم انھوں نے گل بخاری کے اغوا کے حوالے سے مزید کوئی بات نہیں بتائی۔

گل بخاری کی جانب سے ابھی تک اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گل بخاری کے لاپتہ ہونے کی خبر مختلف صحافیوں کی جانب سے شیئر کی گئی تھی۔۔

وقت ٹی وی کے ڈائریکٹر پروگرامنگ مرتضی ڈار نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کو بتایا تھا کہ گل بخاری ادارے کی گاڑی میں پروگرام کرنے کے لیے دفتر کی جانب آرہی تھیں کہ شیر پاؤ بریج پر تین سے چار گاڑیوں نے ان کی گاڑی کو روکا۔

گل بخاری، مریم نواز

،تصویر کا ذریعہTwitter

ان کا کہنا تھا کہ ان گاڑیوں میں سویلین افراد کے علاوہ یونیفارم میں ملبوس افراد بھی سوار تھے جو گل بخاری کو اپنے ساتھ بٹھا کر لے گئے۔

تاہم کینٹ پولیس نے ایسے کسی بھی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے گل بخاری کے اغوا کو تشویشناک قرار دیا تھا اور جلد واپسی کی اپیل کی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے، ان کے بقول، جعلی پروپیگینڈے اور جعلی اکاؤنٹس پر بھی بات کی تھی۔ اس موقع پر صحافیوں کو سلائیڈز دکھائی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف پراپیگنڈے سے متعلق متعلقہ ادارے کو آگاہ کیا جاتا ہے لیکن 'اگر یہ شخصیات اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ریاست مخالف بیانیے کو ری ٹویٹ کریں یا شاباش دیتے ہیں تو ان کا کیا کیا جائے؟'

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ذمہ داری دکھانے کی ضرورت ہے۔

اس پریس کانفرنس کے بعد ہی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی کہ فوج کے ترجمان کی جانب سے 'ریاست مخالف پراپیگنڈے' میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے سے جہاں صحافیوں کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں وہیں کیا کچھ اداروں سے محب وطنی کا سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہو گیا ہے؟

گل بخاری

،تصویر کا ذریعہTwitter

گل بخاری کے مبینہ طور پر اغوا کے بعد صحافتی برادری کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اپنے پیغامات میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے کہا گیا کہ انھیں جلد بازیاب کروایا جائے۔

گل بخاری اپنی ٹویٹس اور ٹی وی پروگرامز میں تجزیوں کے دوران پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

اسد کھرل پر حملہ

ادھر منگل کو ہی لاہور میں نامعلوم افراد نے بول ٹی وی سے تعلق رکھنے والے صحافی اسد کھرل کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

اسد کھرل منگل کی شام ایئرپورٹ جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے انھیں مارا پیٹا، جس سے اُن کے سر پر چوٹ آئی۔ اسد کھرل کو سروسز ہسپتال لاہور لے جایا گیا جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اُن پر یہ حملہ کس نے کیا اور اس کی کیا وجہ تھی۔

بدھ کے صبح پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسد کھرل پر حملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے چوبیس گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔