کیا یہ پری پول رگنگ کے زمرے میں نہیں آتا: فواد چوہدری، کتاب چھپنے کا انتظار کریں: ریحام خان

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابق اہلیہ اور اینکرپرسن ریحام خان کی کتاب کا معاملہ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تاحال زیربحث ہے۔
ریحام خان کی کتاب تاحال شائع نہیں ہوئی لیکن اس کے مواد کے بارے میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں بحث زور پکڑ رہی ہے۔ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا سب کچھ جس پر بحث ہو رہی ہے واقعی کتاب میں ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا الزام ہے کہ اس کتاب میں عمران خان کے بارے میں نازیبا اور غیر اخلاقی زبان استعمال کی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اس کتاب کو پری پول رگنگ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم ریحام خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی۔ یہ ابھی صرف مسودہ ہے۔ براہ مہربانی کتاب کے شائع ہونے کا انتظار کریں۔'
ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ 'تمام پاکستانی چینلز کے ساتھ معذرت کیونکہ قانونی معاملات میں بیپرز اور انٹرویوز نہیں دے سکتیں۔'
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ریحام خان کی کتاب عام انتخابات سے 60 دن پہلے کیوں آرہی ہے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن سے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پری پول رگنگ کے زمرے میں نہیں آتا، اور کیا اس پر پابندی نہیں عائد نہیں کرنا چاہیے؟
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کتا 'شیرو' بھی سوشل میڈیا پر ایک سیلبرٹی ہے۔ عمراں خان سے جو بھی منسوب ہوتا ہے وہ شہرت حاصل کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تین دن سے سوشل میڈیا پر بات چل رہی ہے، ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز بھی ہو گئے اور پیمرا نے بھی اس پر نوٹس نہیں لیا ہے۔
کتاب کے مبینہ مواد کے بارے میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ ناقابل بیان ہے لہذا پیمرا ٹی وی پر اس کتاب سے متعلق گفتگو پر پابندی عائد کرے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
فواد چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ نون پر الزام عائد کرتے ہوئے اس کتاب کو سازش قرار دیتے ہوئے اس کے پیچھے رائیونڈ کا ہاتھ قرار دیا۔
انھوں نے ریحام خان کی فنڈنگ اور مالی معاملات کے بارے میں بھی سوال اٹھایا۔ ’یہ پیسے ان کو کدھر سے آرہے ہیں۔‘
اس سے قبل نجی ٹی وی جیو نیوز کے اینکر شاہزیب خانزدہ نے ریحام خان سے سوال کیا کہ’ آپ کی کتاب برطانیہ میں پبلشرز نے شائع کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد ترکی میں پبلشرز سے رابطہ کیا گیا، جس کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ’میں جہاں جاتی ہوں وہاں میرے پیچھے پیچھے کوئی آتا ہے؟‘
تاہم ریحام خان نے کتاب کے مبینہ مواد کی حقیقت کے بارے میں ترید یا تصدیق نہیں کی۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ وہ وکیل سے مشورہ کیے بغیر ٹی وی شوز میں کسی بات کا جواب نہیں دیں گی۔
خیال رہے کہ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دو جون سے ریحام خان اور اداکار حمزہ علی عباسی کے درمیان اس کتاب کے حوالے سے تنازع شروع ہوا تھا جس میں دونوں جانب سے ای میلز سے سکرین شاٹس شیئر کیے گئے تھے۔
اس کے بعد ریحام خان نے اداکار حمزہ علی عباسی کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے کہ اگر انھوں نے معافی نہ مانگی تو ان کے خلاف پانچ ارب روپے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
اس نوٹس کے جواب میں حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی ریحام خان کو ہتک عزت کا نوٹس بھجوایا ہے۔
سابق کرکٹر وسیم اکرم، ریحام خان کے سابق شوہر اعجاز رحمان، کاروباری شخصیت زلفی بخاری اور پی ٹی آئی کارکن انیلا خواجہ کی جانب سے ایک مشترکہ خط جاری کیا گیا ہے جس میں ریحام خان کی کتاب کے مبینہ مواد کو ہتک آمیز قرار دیا گیا ہے۔










