سابق چیف جسٹس ناصرالملک نے نگران وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا

ناصر الملک

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشننامزد ہونے والے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے سنہ 2014 میں پاکستان کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا

جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے پاکستان کے ساتویں نگران وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔

اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں پاکستان کے صدر ممنون حسین نے جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک سے حلف لیا۔

خیال رہے کہ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کو نامزد کیا تھا۔

جسٹس (ر) ناصر الملک نے اس سے قبل سنہ 2014 میں پاکستان کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا اور یہ عہدہ سنبھالنے سے قبل وہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر فائز تھے۔

اب جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک ملک میں عام انتخابات کے انعقاد تک بطور نگران وزیراعظم ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے لیے 25 جولائی کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔

گذشتہ رات پاکستان کی پارلیمان اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی تھی۔

نگراں وزیراعظم کی حلف برداری سے قبل سبکدوش ہونے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

خیال رہے کہ سنہ 2013 کے انتخابات سے قبل نگران وزیراعظم کے انتخاب کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاقِ رائے نہیں ہو پایا تھا اور پارلیمنٹ کی بجائے الیکشن کمیشن نے نگراں وزیراعظم کا انتخاب کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے اس عہدے کے لیے ذکا اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام سامنے آئے تھے تاہم حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر کوئی نام ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔

دوسری جانب تاحال صرف سندھ میں سابق چیف سیکریٹری فضل الرحمان کو نگران وزیراعلیٰ کو نامزد کیا گیا جبکہ پنجاب، خیر پختونحوا اور بلوچستان کے لیے نگران وزیراعلیٰ کا نام سامنے آنا باقی ہے۔

پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید نے کہا ہے کہ یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں نہیں جائے گا اور آئندہ ایک دو روز میں نام پر اتفاق رائے ہو جائے گا۔

جماعت کے رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ کے لیے تحریک انصاف نے تین نام تجویز کیے ہیں جو کہ حسن عسکری، ایاز امیر اور اظہار یعقوب کے ہیں اور سنیچر تک ان میں سے کسی ایک نام پر اتفاق کا امکان ہے۔

اس سے قبل پنجاب میں پی ٹی آئی کے رہنما محمود الرشید کی جانب سے جو نام سامنے آئے تھے ان میں اظہار یعقوب کے علاوہ اوریا مقبول جان کا نام بھی تھا تاہم اب فواد چوہدری کی جانب سے دیے گئے ناموں میں اوریا مقبول جان کا نام شامل نہیں۔

خیال رہے کہ ابتدا میں پنجاب میں بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان باہمی مفاہمت سے نگراں وزیرِ اعلٰی کا انتخاب ہو گیا تھا۔

نگران وزیرِ اعلٰی کے لیے سابق سینیئر بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ کے نام پر پنجاب میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ اور حزبِ احتلاف کی پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان اتفاق ہوا جس کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا گیا تھا۔

یہ اتفاق محض دو دن تک قائم رہا۔ پھر بدھ کے روز پاکستان تحریکِ انصاف نے ناصر محمود کھوسہ کے نام پر اعتراض لگا دیا۔ نام کے حوالے سے تنازع کھڑا ہونے کے بعد خود ناصر کھوسہ نے نگراں وزیرِ اعلٰی کا عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی۔

خیر پختونحوا میں نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلی اور قائد حزب اختلاف کے درمیان نگراں وزیر اعلی کی نامزدگی میں ناکامی کے بعد سپیکر صوبائی اسمبلی نے چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی میں حزب اختلاف اور حکمران جماعت کے تین تین ارکان شامل ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی تین روز میں نگران وزیر اعلی مقرر کریں گے ۔ اگر یہ کمیٹی بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔