پی ٹی ایم کے جلسے میں پاکستانی پرچم لہرانے پر تنازع

پی ٹی ایم جلسہ

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنیہ جلسہ سوات کی تحصیل کبل کے ایک میدان میں منعقد کیا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں ایک شخص کو پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے جلسہ گاہ میں آنے سے روک دیا گیا ہے۔ پی ٹی ایم کے منتظٌمین نے کہا کہ پاکستانی جھنڈا لے کر آنے والے دراصل ’پاکستان تحفظ موومنٹ‘ کے لوگ تھے جنھیں ریاستی اداروں کی حمایت حاصل ہے۔

یہ جلسہ سوات کی تحصیل کبل کے ایک میدان میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

سوات میں بی بی سی پشتو کے نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق جب ایک نوجوان نے پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے پی ٹی ایم کے جلسے میں جانے کی کوشش کی تو سکیورٹی پر مامور ’پشتین‘ ٹوپی پہنے ہوئے نوجوانوں نے اسے روکا۔

جب یہ خبر پاکستانی چینلوں پر نشر ہونا شروع ہوئی تو پشتون تحفظ موومنٹ کےجلسے کے سٹیج سے اعلان کیا گیا یہ پی ٹی ایم کے خلاف پراپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے اور ان کی تنظیم کی کسی ریاست کے خلاف کوئی پالیسی نہیں ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داور نے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پرچم کے ساتھ جلسے میں آنے والے دراصل پاکستانی اداروں کی ایما پر بننے والی پاکستان تحفظ موومنٹ کے لوگ تھے۔ محسن داور نے کہا یہ ’ڈارمہ‘ پاکستان تحفظ موومنٹ نے رچایا تھا اور اب سابق جرنیل ٹی چینلوں پر بیٹھ کر اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔

محسن داور نے کہا کہ پی ٹی ایم کے جلسے میں کئی لوگوں نے پاکستان پرچم اٹھا رکھا۔

منظور پشتین نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونوں، پنجابیوں، بلوچوں اور سندھیوں کے درمیان صرف آئین کا رشتہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے تمام مطالبات آئین پاکستان کے تحت ہیں۔

منظور پشتین نے کہا کہ جو ہم پر غداری کے الزامات لگا رہے ہیں وہ خود ’غدار‘ ہیں کیونکہ انھوں نے کئی بار آئین کو تھوڑا ہے۔

منظور پشتین نے کہا کہ وزیرستان میں پھر طالبنائزیشن کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے لیکن اس بار وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

اسی بارے میں پڑھیں!

جلسے کے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ ایڈیشنل ایس پی سوات خان خلیل نے کو بتایا کہ جلسے کی سکیورٹی کے لیے پانچ ڈی ایس پیز اور سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ خواتین کی چیکنگ کے لیے دس خواتین پولیس اہلکار بھی فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

کبل تحصیل میں جلسے کے مقام پر داخلے کے لیے سکیورٹی واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں۔

جبکہ داخلی دروازوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ پی ٹی ایم کے اراکین بھی شرکا کی سکیورٹی میں معاونت کر رہے ہیں۔

خواتین
،تصویر کا کیپشنجلسے میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شرکت کر رہی ہیں

خیال رہے کہ سوات کی تحصیل کبل کا علاقہ چند سال پہلے تک شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم فوجی آپریشن کے بعد اس علاقے کو شدت پسندوں سے خالی کروالیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں پشاور میں صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ ’منظور پشتین کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات آئین اور قانون کی روشنی میں حل کیے جا رہے ہیں‘۔

اس سے قبل پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے گذشتہ اتوار کو لاہور میں جلسے سے خطاب میں ماورائے عدالت قتل اور گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے ایک 'ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن‘ یعنی (حقائق اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

منظور پشتین 12 مئی کو کراچی میں جلسے کی کال بھی دے چکے ہیں۔