امریکہ: ’جوہری آلات کی تجارت‘، سات پاکستانی کمپنیاں سخت نگرانی کی فہرست میں شامل

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ نے پاکستان کی سات ایسی انجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیا ہے جو امریکہ کے بقول مبینہ طور پر جوہری آلات کی تجارت میں ملوث ہیں اور اُس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔
امریکہ کے اس فیصلے سے نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل ہونے کی پاکستان کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان کی یہ سات کمپنیاں ان 23 غیر ملکی فرمز میں شامل ہیں جن پر حالیہ دنوں میں بندشیں عائد کی گئی ہیں۔
ان کے تحت امریکی اور بیرونی کمپنیوں پر لازم ہو گا کہ وہ ان سے کاروبار کرنے سے پہلے خصوصی لائسنس حاصل کریں تاہم فہرست میں شامل ان کمپنیوں پر ایسی کوئی پابندی نہیں کہ وہ اپنے ملک میں یا امریکہ کے علاوہ کسی دیگر ملک سے کام نہیں کر سکتیں۔
امریکی وزارتِ تجارت کی اس فہرست میں شمولیت سے ان کمپنیوں پر کوئی مالیاتی پابندیاں بھی نہیں لگتیں۔
امریکہ کی وزارت تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکورٹی کے مطابق امریکہ میں انجیئرنگ کے ساز وسامان خریدنے کے لیے جن پاکستانی کمپنیوں پر بندشیں لگائی گئی ہے ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایسی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھیں جن سے قومی سلامتی یا امریکہ کے خارجی مفادات کو خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ ان کمپنیوں کے نام یہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کی وزارت تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکورٹی کے مطابق امریکہ میں انجیئرنگ کے ساز وسامان خریدنے کے لیے جن پاکستانی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے بارے میں یقین ہے کہ وہ ایسی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھیں جن سے قومی سلامتی یا امریکہ کے خارجی مفادات کو خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ ان کمپنیوں کے نام یہ ہیں۔
- اختر اینڈ منیر حسین
- انجینئرنگ اینڈ کمرشل سروسز
- میرین سسٹم پرائیوٹ لمیٹڈ
- مشکو الیکٹرانکس پرائیوٹ لمیٹڈ
- پرویز کمرشل ٹریڈنگ کمپنی
- پرافیشنٹ انجینئرز
- سولیوشن انجینئرنگ پرائیوٹ لمیٹڈ
امریکی وزارت تجارت کے مطابق کراچی میں واقع موشکو الیکٹرانکس پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی نے پاکستان کے بعض ایسے اداروں یا کمپنیوں کے لیے امریکہ سے ساز و سامان خریدے جو پہلے سے ہی ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں جن پر بندشیں عائد ہیں۔
اسی طرح لاہور کی سولیوشن انجینیئرنگ پرائیوٹ لمیٹڈ کے بارے میں کہا گیا ہے اسے اس فہرست میں اس لیے شامل کیا گیا کیوں کہ یہ ایسی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھی جو امریکہ کے خارجی اور قومی سلامتی کے مفادات کے منافی تھیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ 'یہ کمپنیاں پاکستان میں واقع ایسے جوہری اداروں اور کمپنیوں کے لیے امریکی ساز و سامان حاصل کر رہی تھیں جن پر پہلے ہی سے بندشیں عائد ہیں۔
جن سات پاکستانی فرموں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے وہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں واقع ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزارت تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی کی طرف سے شائع کی گئی اس اطلاع میں ان کمپنیوں کے رجسٹرڈ ایڈریس بھی دیے گئے ہیں۔
بندشوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں کی اس فہرست کو 'اینٹٹی لسٹ' کہا جاتا ہے اور اس میں کسی کمپنی کو شامل کرنے یا خارج کرنے کا فیصلہ امریکہ کی وزارت خارجہ، وزارت دفاع، وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کے نمائندے اتفاق رائے سے کرتے ہیں۔
امریکی وزارت تجارت کی اطلاع کے مطابق مجموعی طور پر 23 کمپنیوں پر بندشیں عائد کی گئی ہے ہیں۔ ان میں سات پاکستانی کمپنیوں کے علاوہ 15 کمپنیوں کا تعلق جنوبی سوڈان اور ایک کمپنی سنگاپور کی ہے۔
پاکستانی کمپنیوں کو پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب ٹرمپ انتطامیہ دہشت گردی کے خلاف مزید موثر اقدامات کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
اس نئے فیصلے سے نیو کلیئر سپلائی گروپ یعنی این ایس جی میں شامل ہونے کی پاکستان کی کوششوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
نیو کلیئر سپلائی گروپ جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری سازو سامان کی تجارت کرنے والے ممالک پر مشتمل ایک گروپ ہے۔ پاکستان اور انڈیا جوہری ممالک ہونے کے باوجود اس گروپ میں شامل نہیں ہیں۔
انڈیا ایک عرصے سے اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے کوشاں ہے اور اسے امریکہ، برطانیہ، روس اور آسٹریلیا جیسے کئی اہم ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔
پاکستان نے 2016 میں اس گروپ میں رکنیت کی درخواست دی تھی اور چین نے بھی پاکستان کی حمایت کی ہے۔ چین کا کہنا ہے جن بنیادوں پر انڈیا اس گروپ کی رکنیت حاصل کرنا چاہتا ہے پاکستان کو بھی انھی بنیادوں پر رکنیت ملنی چاہیے۔
این ایس جی میں رکنیت کا فیصلہ سبھی ملکوں کے اتفاق رائے سے ہوتا ہے۔ انڈین اہلکاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کی اینٹٹی لسٹ میں پاکستان کی کئی کمپنیوں کوشامل کیے جانے سے انڈیا کی رکنیت حاصل کرنے کی پوزیشن مضبوط ہو گی۔










